خاموشی کے پیچھے چھپی کہانیاں: خیبر پختونخوا میں خواتین کے خلاف تشدد کی رپورٹنگ کیوں مشکل ہے؟

پیر 2 نومبر 2026
author image

وقار احمد (سوات)

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سماجی دباؤ، خاندانوں کی خاموشی، دھمکیاں اور شناخت کے تحفظ کا مسئلہ؛ صحافیوں کے لیے جی بی وی رپورٹنگ ایک مسلسل امتحان

کسی خاتون کے ساتھ تشدد کا واقعہ پیش آتا ہے تو اس کی خبر اکثر چند سطروں میں سامنے آ جاتی ہے۔ کہیں گھریلو تنازع کے دوران تشدد، کہیں قتل اور کہیں نام نہاد غیرت کے نام پر زندگی چھین لینے کا واقعہ۔ لیکن ان خبروں کے پیچھے کئی ایسی کہانیاں ہوتی ہیں جو کبھی میڈیا تک پہنچ ہی نہیں پاتیں۔

ان واقعات کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں کے لیے سب سے بڑا مسئلہ اکثر خبر کی عدم دستیابی نہیں بلکہ اس کی تصدیق، متاثرہ خاندان تک رسائی اور معلومات کو ذمہ داری کے ساتھ شائع کرنا ہوتا ہے۔ خیبر پختونخوا میں کام کرنے والے صحافیوں کے مطابق، سماجی دباؤ، خاندانی خاموشی، پولیس سے معلومات کے حصول میں مشکلات اور بعض اوقات دھمکیاں جی بی وی رپورٹنگ کو پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔

خبر کی تصدیق کا مشکل مرحلہ

خیبر پختونخوا میں تقریباً دس سال سے صحافت کرنے والے کامران علی کہتے ہیں کہ خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات میں ابتدائی معلومات حاصل کرنا آسان نہیں ہوتا۔

ان کے مطابق، بعض خاندان سماجی بدنامی یا خاندانی دباؤ کے خوف سے میڈیا سے بات کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ بعض اوقات پولیس سے بھی فوری طور پر مکمل معلومات حاصل نہیں ہو پاتیں، جبکہ پولیس اور خاندان کے بیانات میں فرق سامنے آ سکتا ہے۔

کامران علی کے مطابق، ایسے واقعات میں وہ پولیس، خاندان، عینی شاہدین اور مقامی ذرائع سے معلومات حاصل کرکے ان کی تصدیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ہر اطلاع کو خبر بنانا درست نہیں، کیونکہ غیر مصدقہ معلومات متاثرہ خاندان کے لیے مزید مشکلات پیدا کر سکتی ہیں۔

وہ سمجھتے ہیں کہ جی بی وی کی رپورٹنگ میں صحافی کو یہ فیصلہ بھی کرنا پڑتا ہے کہ کون سی معلومات شائع کرنا ضروری ہیں اور کون سی تفصیلات متاثرہ فرد کی شناخت یا سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہیں۔

خواتین صحافیوں کے لیے دوہرا چیلنج

خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات کی رپورٹنگ میں خواتین صحافیوں کا کردار اہم ہو سکتا ہے، کیونکہ بعض متاثرہ خواتین مرد صحافیوں کے مقابلے میں خواتین صحافیوں کے ساتھ زیادہ اعتماد سے بات کر سکتی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود خواتین صحافیوں کو اپنے پیشہ ورانہ کام کے دوران مختلف رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

صحافی شہناز یوسفزئی کے مطابق، فیلڈ میں نقل و حرکت کی مشکلات، خاندانی ہچکچاہٹ، مقامی سماجی رویے اور ذاتی تحفظ کے خدشات خواتین صحافیوں کے لیے اہم چیلنجز ہیں۔

ان کے مطابق، بعض اوقات خبر شائع ہونے کے بعد صحافیوں کو آن لائن ہراسانی، دھمکیوں اور بااثر افراد کے دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کچھ واقعات میں رپورٹس کو ہٹانے یا حذف کرنے کے مطالبات بھی کیے جاتے ہیں۔

شہناز یوسفزئی سمجھتی ہیں کہ نیوز رومز میں بھی جی بی وی سے متعلق خبروں کو زیادہ ذمہ داری سے دیکھنے کی ضرورت ہے۔ سنسنی خیز سرخیاں، متاثرہ خاتون کی شناخت ظاہر کرنا اور واقعے کی غیر ضروری تفصیلات شائع کرنا متاثرہ افراد کو مزید نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ان کے مطابق، خواتین صحافیوں کو صرف رپورٹنگ کی تربیت دینا کافی نہیں، بلکہ انہیں ادارہ جاتی تحفظ، ڈیجیٹل سکیورٹی، قانونی رہنمائی اور محفوظ فیلڈ ماحول بھی فراہم کرنا چاہیے۔

صحافت، سماجی دباؤ اور انسانی حقوق

تقریباً چار دہائیوں سے صحافت سے وابستہ شہیم شاہد کہتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں خواتین کے خلاف تشدد کی رپورٹنگ کرتے ہوئے صحافی کو مختلف سماجی، خاندانی اور سکیورٹی عوامل کو مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔

ان کے مطابق، بعض واقعات میں صحافی کے لیے یہ فیصلہ مشکل ہو جاتا ہے کہ خبر کی کتنی تفصیلات سامنے لائی جائیں۔ ایک طرف عوام کو درست معلومات فراہم کرنا صحافی کی ذمہ داری ہے، تو دوسری طرف متاثرہ خاتون اور اس کے خاندان کی عزت، شناخت اور تحفظ بھی اہم ہیں۔

شہیم شاہد کے مطابق، ایسے واقعات میں بچوں کا مستقبل بھی ایک اہم انسانی پہلو ہے۔ جب کسی بچے کی والدہ تشدد کے نتیجے میں قتل ہو جائے تو اس بچے کی زندگی پر طویل مدتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس لیے رپورٹنگ میں بچوں کی شناخت اور جذباتی تحفظ کو خصوصی اہمیت دینی چاہیے۔

ذمہ دارانہ رپورٹنگ کی ضرورت

جی بی وی رپورٹنگ میں صحافی کا کام صرف واقعے کی تفصیلات جمع کرنا نہیں بلکہ اس بات کو یقینی بنانا بھی ہے کہ خبر کسی متاثرہ فرد کو مزید خطرے میں نہ ڈالے۔

اس کے لیے ضروری ہے کہ صحافی متاثرہ خواتین کی شناخت چھپائیں، غیر مصدقہ الزامات شائع نہ کریں، ملزم اور مجرم کے درمیان قانونی فرق کو سمجھیں اور متاثرہ افراد سے انٹرویو کرتے وقت ان کی رضامندی اور ذہنی کیفیت کا خیال رکھیں۔

اسی طرح، میڈیا اداروں کو بھی واضح ادارتی پالیسیوں کی ضرورت ہے تاکہ کسی حساس خبر کی اشاعت کے بعد صحافی کو تنہا نہ چھوڑا جائے۔ خواتین صحافیوں کے لیے تحفظ اور معاونت کے مؤثر انتظامات بھی ضروری ہیں۔

وہ کہانیاں جو خاموش رہ جاتی ہیں

خیبر پختونخوا میں جی بی وی کی رپورٹنگ سے وابستہ صحافیوں کے تجربات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ کئی واقعات ایسے ہو سکتے ہیں جن کی مکمل تفصیلات سماجی دباؤ یا خوف کے باعث سامنے نہیں آتیں۔ تاہم، ان واقعات کی تعداد اور نوعیت جاننے کے لیے باقاعدہ تحقیق اور مستند اعدادوشمار کی ضرورت ہے۔

اصل سوال یہ ہے کہ اگر متاثرہ خاندان خاموش ہو، معلومات کی تصدیق مشکل ہو اور صحافی کو دھمکیوں یا دباؤ کا سامنا ہو تو خواتین کے خلاف تشدد کے واقعات کو ذمہ داری سے عوام کے سامنے کیسے لایا جائے؟

یہ صرف صحافیوں کا مسئلہ نہیں بلکہ خواتین کے تحفظ، انصاف اور انسانی حقوق سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ ایسی رپورٹنگ کے لیے محفوظ ماحول، تربیت یافتہ صحافی، ذمہ دار نیوز رومز اور ادارہ جاتی تعاون ناگزیر ہیں۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور جاپان کے تعلقات کے فروغ میں نمایاں خدمات: حکومتِ جاپان کا سابق پاکستانی سفیر فرخ اختر عامل کے لیے اعلیٰ ترین سول اعزاز کا اعلان

سری لنکن وفد کا دورہ پاکستان، مشترکہ آثار قدیمہ کی تحقیق پر تبادلہ خیال

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

صدر آزاد کشمیر سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے وفد کی ملاقات، مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال

رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ: پاکستان شاہینز اور بھارت اے کے اسکواڈز کا اعلان، 22 نومبر کو بڑا مقابلہ

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

جھڈو کے 208 سرکاری اسکولوں میں صرف 270 اساتذہ: خستہ حال جھونپڑوں میں پڑھائی، والدین کا بااختیار انتظامی یونٹ کا مطالبہ

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا