خاتونِ اول بی بی آصفہ بھٹو زرداری نے والدین، کمیونٹی نمائندوں اور متعلقہ اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ نومبر کی انسداد پولیو مہم کی کامیابی کے لیے بھرپور تعاون کریں، پاکستان کو پولیو سے پاک بنانے اور ہر بچے کو اس خطرناک بیماری سے محفوظ رکھنے تک کوششیں جاری رکھنا ہوں گی۔
مزید پڑھیں:ملک میں رواں سال پولیو کا آٹھواں کیس رپورٹ، خیبر میں 13 ماہ کی بچی وائرس کا شکار
اپنے پیغام میں آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ پولیو کا کوئی علاج نہیں، یہ بیماری عمر بھر کی معذوری حتیٰ کہ مستقل فالج کا سبب بن سکتی ہے، تاہم ویکسینیشن کے ذریعے بچوں کو اس مرض سے محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔
خاتونِ اول نے بتایا کہ آج سے شروع ہونے والی قومی انسداد پولیو مہم 8 نومبر تک جاری رہے گی، جس کے دوران ملک کے 97 منتخب اضلاع میں قریباً 2 کروڑ 40 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مہم میں 2 لاکھ سے زائد فرنٹ لائن پولیو ورکرز خدمات انجام دیں گے۔
انہوں نے والدین اور بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے افراد سے اپیل کی کہ 5 سال سے کم عمر ہر بچے کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے ضرور پلوائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہر کمیونٹی تک رسائی اور تمام بچوں کو ویکسین کی فراہمی میں پولیو ورکرز کی کوششیں انتہائی اہم ہیں۔
آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ قومی انسداد پولیو پروگرام کے آغاز کے بعد پولیو کیسز میں نمایاں کمی آئی ہے، تاہم 2026 میں اب تک 7 کیسز رپورٹ ہونا تشویش کا باعث ہے۔ پاکستان کو پولیو سے پاک بنانے کے لیے تمام متعلقہ فریقوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
مزید پڑھیں:ملک بھر میں رواں سال پولیو کیسز کی تعداد 7 ہوگئی، کراچی میں 6 ماہ کا بچہ وائرس کا شکار
خاتونِ اول نے پاکستان کو جون 2027 تک پولیو سے پاک ملک بنانے کے ہدف کا اعادہ کرتے ہوئے والدین پر زور دیا کہ وہ بچوں کی معمول کی حفاظتی ویکسینیشن بھی مقررہ وقت پر مکمل کرائیں اور پولیو ٹیموں کے ساتھ تعاون کریں۔
انہوں نے فرنٹ لائن پولیو ورکرز کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ دور دراز اور دشوار گزار علاقوں تک پہنچ کر بچوں کو ویکسین فراہم کرنے کے لیے ان کی خدمات قابلِ قدر ہیں۔ پاکستان کو پولیو سے مکمل طور پر پاک کرنے تک یہ کوششیں جاری رکھنا ہوں گی۔










