پاکستان اور بنگلہ دیش کا صنعتی تعاون اور اقتصادی شراکت داری بڑھانے پر اتفاق

پیر 2 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

وزیراعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان نے بنگلہ دیش کے وزیر خزانہ و منصوبہ بندی راشد المحمود تیتومیر اور ان کے وفد سے ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، صنعتی تعاون، برآمدات میں اضافے اور اقتصادی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا۔

ہارون اختر خان نے بنگلہ دیشی وزیر اور ان کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان مشترکہ ثقافتی ورثے اور تاریخی روابط پر مبنی برادرانہ تعلقات قائم ہیں۔ انہوں نے پاکستانی عوام کی جانب سے مہمان وفد کا خیرمقدم کیا اور دوطرفہ روابط مزید مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور بنگلہ دیش مزید قریب، اہم شعبوں میں تعاون کے بڑے معاہدوں پر اتفاق

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات کے فروغ اور باہمی مفاد پر مبنی اقتصادی شراکت داری کو خصوصی اہمیت دیتے ہیں۔

ہارون اختر خان نے پاکستان میں جاری صنعتی اصلاحات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حکومت سرمایہ کاری کے فروغ، صنعتی ترقی میں تیزی اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے ضابطہ جاتی اصلاحات متعارف کرا رہی ہے۔ حکومت کا مقصد سرمایہ کاروں کے لیے غیر ضروری دفتری رکاوٹوں کے بجائے سہولت اور آسان کاروباری ماحول فراہم کرنا ہے۔

مزید پڑھیں: نیویارک میں پاک بنگلہ دیش وزرائے اعظم کی اہم ملاقات، دوطرفہ تعلقات کو مستحکم کرنے پر اتفاق

انہوں نے بنگلہ دیشی وفد کو آٹوموبائل اور صاف توانائی کے شعبوں میں پاکستان کے اقدامات سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ ملک میں پائیدار اور ماحول دوست ٹیکنالوجی کے فروغ کے لیے نئی انرجی وہیکل پالیسی متعارف کرائی گئی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ مقامی سطح پر لیتھیم آئن اور سوڈیم آئن بیٹریوں کی تیاری کو فروغ دینے کے لیے بیٹری انرجی اسٹوریج سسٹم پالیسی پر کام جاری ہے، جبکہ ملک بھر میں الیکٹرک گاڑیوں کے چارجنگ انفراسٹرکچر کی تیز رفتار توسیع کے لیے بھی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ہارون اختر خان نے سولر ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستان کی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ابھرتے ہوئے شعبے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعاون کے لیے اہم مواقع فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے سولر ٹیکنالوجی، بیٹریوں کی تیاری، الیکٹرک گاڑیوں اور وسیع تر صنعتی ترقی کو دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے اہم شعبے قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ صنعتی شراکت داری، ٹیکنالوجی کی منتقلی، مشترکہ منصوبوں اور مصنوعات میں ویلیو ایڈیشن کے ذریعے دونوں ممالک باہمی فائدے کے مواقع تلاش کر سکتے ہیں۔

انہوں نے برآمدات پر مبنی اقتصادی ترقی، پیداواری صلاحیت میں اضافے، صنعتی پیداوار اور ویلیو ایڈیشن کو دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون مضبوط بنانے کے اہم ستون قرار دیا۔

اس موقع پر بنگلہ دیش کے وزیر خزانہ و منصوبہ بندی راشد المحمود تیتومیر نے پاکستان اور اس کے عوام کے لیے نیک جذبات کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کے تعلقات کو برادرانہ قرار دیا۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں تیار ہونے والی ایم جی گاڑیاں بنگلہ دیش برآمد ہوں گی، 4 برس میں 5 سے زائد گاڑیوں  کا معاہدہ

بنگلہ دیشی وزیر نے اپنے ملک کے اقتصادی تجربات سے آگاہ کیا اور مختلف معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے بتایا کہ بنگلہ دیش نے خرد اور مجموعی معاشی اشاریوں کو مستحکم کرنے کے لیے نمایاں کوششیں کی ہیں، جبکہ صنعتی ترقی اور مینوفیکچرنگ کے شعبے میں بھی بہتری حاصل کی ہے۔

انہوں نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان اقتصادی اور صنعتی تعاون کو مزید وسعت دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے مضبوط روابط باہمی ترقی کے نئے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور جاپان کے تعلقات کے فروغ میں نمایاں خدمات: حکومتِ جاپان کا سابق پاکستانی سفیر فرخ اختر عامل کے لیے اعلیٰ ترین سول اعزاز کا اعلان

سری لنکن وفد کا دورہ پاکستان، مشترکہ آثار قدیمہ کی تحقیق پر تبادلہ خیال

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

صدر آزاد کشمیر سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے وفد کی ملاقات، مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال

رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ: پاکستان شاہینز اور بھارت اے کے اسکواڈز کا اعلان، 22 نومبر کو بڑا مقابلہ

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

جھڈو کے 208 سرکاری اسکولوں میں صرف 270 اساتذہ: خستہ حال جھونپڑوں میں پڑھائی، والدین کا بااختیار انتظامی یونٹ کا مطالبہ

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا