پشاور میں ایک لاکھ سے زیادہ رکشے، صرف 23 ہزار رجسٹرڈ، دیگر کی قانونی حیثیت کیا ہے؟

پیر 2 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

صوبائی دارالحکومت پشاور میں ایک لاکھ سے زیادہ رکشے سڑکوں پر رواں دواں ہیں، تاہم سرکاری ریکارڈ کے مطابق ان میں سے صرف 23 ہزار 338 رجسٹرڈ ہیں، جبکہ ہزاروں رکشوں کی قانونی حیثیت، رجسٹریشن اور روٹ پرمٹس کا معاملہ بدستور توجہ طلب ہے۔

رجسٹریشن کا عمل بحال ہونے کے باوجود بھاری فیسوں، پیچیدہ اور طویل طریقہ کار اور مختلف سرکاری محکموں کے چکر لگانے کی مشکلات نے رکشہ مالکان کے لیے قانونی تقاضے پورے کرنا دشوار بنا دیا ہے۔ تاہم گورنر خیبرپختونخوا نے اس اہم مسئلے کے حل کے لیے قانون سازی کا عندیہ دیا ہے۔

مزید پڑھیں: پشاور میں تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن جاری رکھنے کا اعلان، کارروائیاں بلا امتیاز ہورہی ہیں، ثمر ہارون بلور

محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن پشاور کی موٹر رجسٹریشن اتھارٹی (کمرشل) کے اعداد و شمار کے مطابق یکم جنوری سے 26 اکتوبر 2026 تک ایک ہزار 594 نئے رکشوں کی رجسٹریشن کی گئی، جبکہ پشاور میں نئے رکشوں کی رجسٹریشن کے لیے 5 ہزار کی حد مقرر ہے۔

سرکاری دستاویز کے مطابق یکم جنوری 1999 سے 31 دسمبر 2007 کے دوران 2 ہزار 626 دو اسٹروک رکشے رجسٹرڈ کیے گئے، جبکہ یکم جنوری 2008 سے 31 دسمبر 2016 تک 18 ہزار 747 چار اسٹروک رکشوں کی رجسٹریشن ہوئی۔

اسی طرح 21 اکتوبر 2021 سے شروع ہونے والے 2 ماہ کے دوران ایک ہزار 965 لوڈر رکشے بھی رجسٹرڈ کیے گئے، جس کے بعد رجسٹرڈ رکشوں کی مجموعی تعداد 23 ہزار 338 ہوگئی۔

اسسٹنٹ ٹیکسیشن آفیسر (کمرشل) شاہجہاں نے ’وی نیوز‘ کو بتایا کہ 2016 میں رکشوں کی رجسٹریشن پر پابندی کے معاملے پر محکمہ ٹرانسپورٹ نے پشاور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، جس کے بعد مزید رجسٹریشن روک دی گئی۔

ان کے مطابق 2026 میں پابندی ختم ہونے کے بعد رجسٹریشن دوبارہ شروع کی گئی اور ڈپٹی کمشنر کی نگرانی میں قائم کمیٹی نے ماحولیاتی تحفظ اور سڑکوں کی گنجائش کو مدنظر رکھتے ہوئے پشاور کے لیے 5 ہزار رکشوں کی حد مقرر کی۔

شاہجہاں کے مطابق رکشوں کی رجسٹریشن کا عمل ون ونڈو آپریشن کے تحت ہونا چاہیے، تاہم اس وقت ایکسائز اور ٹرانسپورٹ سمیت مختلف محکموں کی شمولیت کے باعث طریقہ کار طویل اور پیچیدہ ہے۔

’ایکسائز ڈیپارٹمنٹ رجسٹریشن کرتا ہے، جبکہ رکشوں کے فٹنس سرٹیفکیٹس اور روٹ پرمٹس کا اجرا محکمہ ٹرانسپورٹ کی ذمہ داری ہے، جس سے مالکان کو مختلف مراحل سے گزرنا پڑتا ہے۔‘

انہوں نے بتایا کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ رجسٹریشن کا عمل ون ونڈو آپریشن کے تحت ہو جس کے لیے ایکسائز ڈپارٹمنٹ نے سمری تیار کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ رجسٹریشن فیس، ٹوکن ٹیکس، نمبر پلیٹ اور اسمارٹ کارڈ کے اخراجات مجموعی طور پر تقریباً 12 ہزار روپے بنتے ہیں، جبکہ فٹنس سرٹیفکیٹ اور روٹ پرمٹ کے حصول پر بھی تقریباً 10 ہزار روپے خرچ ہوتے ہیں۔

ان کے مطابق مختلف مدوں میں عائد فیسوں اور دیگر اخراجات کی وجہ سے رکشہ مالکان کو مجموعی طور پر 25 سے 30 ہزار روپے تک ادا کرنا پڑ سکتے ہیں۔

دوسری جانب رکشہ ڈیلرز کا کہنا ہے کہ رکشہ چلانے والے بیشتر افراد محنت مزدوری کرکے اپنے خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں، جن کے لیے بھاری فیسوں، جرمانوں اور دستاویزات کی تجدید پر آنے والے اخراجات برداشت کرنا آسان نہیں۔

ان کے مطابق فٹنس سرٹیفکیٹ اور روٹ پرمٹ کی بروقت تجدید نہ کرانے پر جرمانے بھی عائد کیے جاتے ہیں، جبکہ ایجنٹس کی جانب سے ضروری کاغذات بنوانے کے عوض بھاری رقوم طلب کرنے کی شکایات بھی سامنے آتی رہتی ہیں۔

ایک رکشہ ڈرائیور نے بتایا کہ وہ گزشتہ 40 سال سے رکشہ چلا کر روزی روٹی کما رہا ہے، تاہم فیسوں اور جرمانوں میں مسلسل اضافے کے باعث گاڑی کے قانونی کاغذات مکمل کرانا دن بدن مشکل ہوتا جا رہا ہے۔

رکشہ ڈرائیور نے دعویٰ کیا کہ سرکاری دفاتر سے ضروری دستاویزات کے حصول میں متعدد مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جبکہ بعض اوقات ایجنٹس کے ذریعے کام کروانے کے لیے اضافی رقم بھی ادا کرنا پڑتی ہے۔

اس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ رکشوں کی رجسٹریشن اور روٹ پرمٹس کی فیسوں میں کمی کی جائے اور متعلقہ طریقہ کار کو آسان بنایا جائے۔

رکشہ مالکان اور ڈیلرز نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ رکشوں کی رجسٹریشن، فٹنس سرٹیفکیٹ اور روٹ پرمٹس کے اجرا کے لیے ون ونڈو نظام متعارف کرایا جائے، متعلقہ فیسوں میں کمی کی جائے اور دستاویزات کی تجدید کا طریقہ کار آسان بنایا جائے تاکہ کم آمدن والے افراد بھی بغیر کسی دشواری کے قانونی تقاضے پورے کرسکیں۔

دوسری جانب گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت ٹریفک مینجمنٹ سے متعلق اجلاس میں رکشوں کی رجسٹریشن اور روٹ پرمٹس کے مسائل بھی زیر بحث آئے۔

اجلاس کو بتایا گیا کہ پشاور میں ایک لاکھ سے زیادہ رکشے موجود ہیں، جن میں سے بڑی تعداد غیر رجسٹرڈ ہے۔ متعدد رکشہ مالکان اپنی گاڑیوں کی رجسٹریشن کرانا چاہتے ہیں، تاہم اس مقصد کے لیے مؤثر طریقہ کار موجود نہیں۔

مزید پڑھیں: پشاور اسکول حادثہ: 12 ہزار نجی اسکولوں کی رجسٹریشن سے عمارتوں کی جانچ تک، تحقیقات کا فیصلہ

گورنر فیصل کریم کنڈی نے ان مسائل کے حل کے لیے متعلقہ محکموں کا اجلاس بلانے کی ہدایت کرتے ہوئے اس حوالے سے قانون سازی کا عندیہ بھی دیا۔

اب توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ جلد نئی پالیسی مرتب کرکے رکشوں کی رجسٹریشن کا یہ اہم مسئلہ حل کرلیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان اور جاپان کے تعلقات کے فروغ میں نمایاں خدمات: حکومتِ جاپان کا سابق پاکستانی سفیر فرخ اختر عامل کے لیے اعلیٰ ترین سول اعزاز کا اعلان

سری لنکن وفد کا دورہ پاکستان، مشترکہ آثار قدیمہ کی تحقیق پر تبادلہ خیال

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

صدر آزاد کشمیر سے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے وفد کی ملاقات، مسئلہ کشمیر پر تبادلہ خیال

رائزنگ اسٹارز ایشیا کپ: پاکستان شاہینز اور بھارت اے کے اسکواڈز کا اعلان، 22 نومبر کو بڑا مقابلہ

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان نے شہدا کی توہین کی، ریاست کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا، بہرامند تنگی

ایل پی جی کی قیمتوں میں اضافہ، پشاور میں فی کلو قیمت 650 روپے تک پہنچ گئی

جھڈو کے 208 سرکاری اسکولوں میں صرف 270 اساتذہ: خستہ حال جھونپڑوں میں پڑھائی، والدین کا بااختیار انتظامی یونٹ کا مطالبہ

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا