انگلینڈ میں آسمان پر پراسرار روشنیاں، ماہرینِ فلکیات نے وی اور تکونی شکلوں میں اڑتی نامعلوم چیزیں دیکھی

منگل 3 نومبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انگلینڈ کے شہر سیلفورڈ میں ماہرینِ فلکیات کے ایک گروپ نے آسمان پر پراسرار روشنیاں دیکھنے کی اطلاع دی ہے، جو خاموشی سے غیر معمولی تیزی کے ساتھ مختلف ترتیب میں پرواز کرتی دکھائی دیں۔ عینی شاہدین کے مطابق روشنیاں پہلے وی کی شکل میں نظر آئیں، بعد ازاں تکونی ترتیب میں تبدیل ہوئیں اور ان میں سے ایک اچانک چمک کے ساتھ غائب ہوگئی۔

خبر رساں ادارے کے مطابق 7 اکتوبر کو سیلفورڈ آسٹرونومیکل سوسائٹی کے 8 ارکان نے اپنی رصدگاہ کے اوپر نامعلوم فضائی مظاہر کا مشاہدہ کیا۔ یہ غیر منافع بخش تنظیم شوقیہ ماہرینِ فلکیات پر مشتمل ہے۔

یہ بھی پڑھیں: چاندنی راتوں میں رنگوں کا جادو: آج رات امریکا اور برطانیہ میں ناردرن روشنیاں نظر آنے کا امکان

عینی شاہدین نے دونوں واقعات کو غیر معمولی قرار دیتے ہوئے بتایا کہ روشنیاں انتہائی تیزی سے حرکت کررہی تھیں اور ان کی رفتار عام طیاروں کی پرواز سے مختلف محسوس ہوئی۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق مشاہدے میں ان کی رفتار 500 میل فی گھنٹہ سے زیادہ بتائی گئی، جبکہ قریب ترین مقام پر ان کا فاصلہ تقریباً 500 فٹ ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ایک موقع پر روشنیاں اس انداز میں نظر آئیں کہ ان کی ترتیب ایک متساوی الاضلاع تکون جیسی دکھائی دے رہی تھی۔ مشاہدہ کرنے والوں کے اندازے کے مطابق اس تکونی ترتیب کا مجموعی پھیلاؤ 100 سے 200 فٹ کے درمیان ہوسکتا تھا، تاہم یہ واضح نہیں ہوسکا کہ روشنیوں کے درمیان کوئی ٹھوس سطح یا جسم بھی موجود تھا یا وہ محض الگ الگ روشنیاں تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: چاند کی سطح پر پھیلی پراسرار روشنیاں

ماہرینِ فلکیات نے ان روشنیوں کو ڈرون ہونے کے امکان سے بھی الگ کرنے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق مشاہدے کے دوران کوئی آواز سنائی نہیں دی اور علاقے میں ڈرون پروازوں کا کوئی طے شدہ پروگرام بھی موجود نہیں تھا۔

تاہم رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ روشنیوں کی رفتار اور ان کی نقل و حرکت کا اندازہ لگانے کے لیے کون سا نظام استعمال کیا گیا تھا اور اس کے ذریعے کون سے اعداد و شمار حاصل کیے گئے۔ اس لیے مشاہدے کی بنیاد پر ان روشنیوں کی اصل یا ان کی نوعیت کی حتمی تصدیق نہیں ہوسکی

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp