امریکی ریاست اوہائیو میں گورنر کے انتخاب میں ڈیموکریٹ امیدوار ایمی ایکٹن نے ارب پتی ری پبلکن امیدوار وویک راماسوامی کو شکست دے دی۔
منگل کو امریکی میڈیا کے متعدد اداروں نے انتخابی نتائج کے ابتدائی تخمینوں کی بنیاد پر ایمی ایکٹن کی کامیابی کا اعلان کیا ہے۔
ایمی ایکٹن کی کامیابی ایسے وقت میں سامنے آئی جب وویک راماسوامی کو ایک انتخابی اشتہار پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: ‘ایران جنگ کے اثرات نے نقصان پہنچایا’ مڈ ٹرم نتائج پر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعتراف، ڈیموکریٹس کو مبارکباد
اس اشتہار میں ایمی ایکٹن کی ان کی والدہ ڈونا آرتھر کو دکھایا گیا تھا، جن کے شوہر پر ایکٹن کو بچپن میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کا الزام تھا۔
اوہائیو ماضی میں امریکی انتخابات کی اہم میدانِ جنگ سمجھی جاتی رہی ہے، تاہم حالیہ برسوں میں ریاست کا جھکاؤ ری پبلکن جماعت کی جانب رہا ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی 2024 کے صدارتی انتخابات میں اوہائیو سے دوہرے ہندسے کے فرق سے کامیابی حاصل کی تھی۔
🚨BREAKING: AMY ACTON WINS THE OHIO GOVERNOR'S RACE, BEATING VIVEK RAMASWAMY.
FIRST WOMAN EVER ELECTED GOVERNOR OF OHIO.
SHE BEAT THE MAN WHO USED HER MOTHER TO WEAPONIZE HER CHILDHOOD ABUSE.
VIVEK, GO AWAY. pic.twitter.com/YqJNjjRXOm
— CALL TO ACTIVISM (@CalltoActivism) November 4, 2026
60 سالہ ایمی ایکٹن پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں اور کورونا وبا کے ابتدائی دنوں میں اوہائیو کے محکمہ صحت کی سربراہی کر چکی ہیں۔
دوسری جانب 41 سالہ وویک راماسوامی نے 2024 کے ری پبلکن صدارتی پرائمری انتخابات میں بھی حصہ لیا تھا، تاہم اس مرتبہ انہیں ٹرمپ کی حمایت حاصل ہونے کے باوجود شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
راماسوامی کی انتخابی اشتہاری مہم پر نہ صرف ڈیموکریٹس بلکہ بعض ری پبلکن رہنماؤں نے بھی اعتراضات اٹھائے تھے۔
مزید پڑھیں: کامیابیوں کا کریڈٹ لینے پر ممدانی کا جے ڈی وینس کو طنزیہ جواب وائرل
اوہائیو کے سبکدوش ہونے والے ری پبلکن گورنر مائیک ڈی وائن نے بھی اشتہار پر تنقید کی، دوسری جانب ٹرمپ نے راماسوامی کی حمایت جاری رکھی اور میڈیا پر الزام عائد کیا کہ وہ منظم انداز میں ری پبلکن امیدوار کی کامیابی کے امکانات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی انتخابی مہم کے دوران اپنے قریبی دوست راماسوامی کا دفاع کیا۔
راماسوامی کی انتخابی مہم کے متنازع اشتہار میں ایمی ایکٹن کی والدہ ڈونا آرتھر نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی بیٹی نے پوری زندگی جھوٹ بولا ہے اور اسے گورنر نہیں بننا چاہیے۔
مزید پڑھیں: مشی گن سینیٹ ریس میں مسلمان امیدوار عبدالسید کا فتح کا دعویٰ
اس کے جواب میں ایمی ایکٹن نے گزشتہ ماہ بیان جاری کیا تھا کہ انہوں نے اور ان کے بھائی نے بچپن میں تشدد، بھوک اور عدم توجہی کا سامنا کیا۔
ان کے مطابق 10 سے 12 سال کی عمر کے دوران انہیں اپنی والدہ کے شوہر کی جانب سے جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ ان کی والدہ نے انہیں تحفظ فراہم نہیں کیا۔
رپورٹ کے مطابق آرتھر کے شوہر جنسی زیادتی کے الزامات پر مقدمے کا سامنا کرنے سے قبل فرار ہو گئے تھے اور اب ان کا انتقال ہو چکا ہے۔











