امریکی ریاست مشی گن سے ڈیموکریٹک پارٹی کے عبدل السید نے سینیٹ کی نشست پر کامیابی حاصل کرکے تاریخ رقم کردی ہے۔ اور وہ امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان ہیں۔
42 سالہ عبدل السید نے ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز کو شکست دی۔ یہ نشست ڈیموکریٹک سینیٹر گیری پیٹرز کی ریٹائرمنٹ کے باعث خالی ہوئی تھی۔
مزید پڑھیں: امریکی وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کو شکست، ایلون مسک کی کمپنیوں کے حصص کی قیمت گر گئی
عبدل السید کی کامیابی سے ڈیموکریٹک پارٹی مشی گن کی اہم نشست برقرار رکھنے میں کامیاب رہی، جسے سینیٹ میں اکثریت حاصل کرنے کی کوششوں کے حوالے سے اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
عبدل السید نے اپنی انتخابی مہم میں محنت کش خاندانوں کے اخراجات کم کرنے، مہنگائی سے ریلیف فراہم کرنے اور سیاست میں بڑی کاروباری کمپنیوں کے اثرورسوخ کو محدود کرنے پر زور دیا۔
عبدل السید کا خاندانی اور تعلیمی پس منظر
عبدل السید 31 اکتوبر 1984 کو امریکی ریاست مشی گن کے شہر روچسٹر ہلز میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد محمد مصر سے امریکا منتقل ہوئے تھے، جبکہ ان کی سوتیلی والدہ کا خاندان 1800 کی دہائی سے مشی گن کی گرینٹ کاؤنٹی میں آباد ہے۔
انہوں نے ابتدائی تعلیم سرکاری اسکولوں سے حاصل کی اور زمانہ طالب علمی میں فٹ بال، ریسلنگ اور لیکروس کی ٹیموں کی قیادت بھی کی۔
عبدل السید نے یونیورسٹی آف مشی گن سے نمایاں اعزاز کے ساتھ گریجویشن مکمل کی، جہاں وہ یونیورسٹی کی لیکروس ٹیم کا بھی حصہ رہے۔
بعدازاں انہوں نے نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ کی مالی معاونت سے کولمبیا یونیورسٹی سے میڈیکل کی ڈگری حاصل کی، جبکہ روڈز اسکالرشپ کے تحت آکسفورڈ یونیورسٹی سے دوسری ڈاکٹریٹ مکمل کی۔
وہ اپنی اہلیہ ڈاکٹر سارہ جوکاکو اور 2 بیٹیوں کے ساتھ مشی گن کے شہر این آربر میں رہائش پذیر ہیں۔
صحت عامہ کے شعبے میں خدمات
عبدل السید پیشے کے اعتبار سے ڈاکٹر ہیں، تاہم انہوں نے صحت عامہ کے مسائل کو سمجھنے کے بعد عملی سیاست اور عوامی خدمت کا راستہ اختیار کیا۔
عبدل السید کا مؤقف ہے کہ صحت عامہ کی خراب صورتحال کے پیچھے کئی ایسے مسائل ہیں جن کا تعلق سیاسی اور انتظامی نظام سے ہے۔
انہوں نے دیوالیہ پن کے بعد ڈیٹرائٹ شہر کے محکمہ صحت کی بحالی میں اہم کردار ادا کیا اور وین کاؤنٹی کے محکمہ صحت، انسانی اور سابق فوجیوں کی خدمات کی سربراہی بھی کی، جو تقریباً 18 لاکھ افراد کو خدمات فراہم کرتا ہے۔
ان کی نمایاں خدمات میں بچوں کے لیے مفت چشموں کی فراہمی، ماحول کو آلودہ کرنے والے بڑے اداروں کے خلاف اقدامات اور منشیات کی زیادہ مقدار کے باعث ہونے والی اموات روکنے کے لیے استعمال ہونے والی دوا نارکان کی وسیع پیمانے پر دستیابی شامل ہے۔
انہوں نے ایک ایسے پروگرام کی بنیاد بھی رکھی جس کے ذریعے مشی گن کے تقریباً 3 لاکھ شہریوں کے 70 کروڑ ڈالر تک کے طبی قرضے معاف کیے جانے کی توقع ظاہر کی گئی۔
عبدل السید ایک کتاب کے مصنف بھی ہیں، وہ 2020 میں سابق امریکی صدر جو بائیڈن کی ہیلتھ کیئر یونٹی ٹاسک فورس کا حصہ بھی رہے، جہاں انہوں نے نسخے پر دستیاب ادویات کی قیمتیں کم کرنے سے متعلق پالیسیوں کی تیاری میں کردار ادا کیا۔
عوامی خدمات کے اعتراف میں انہیں ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی ایک بڑی سیاسی اور غیر جانبدار تنظیم ’ایل سی وی‘ کی جانب سے ’پبلک آفیشل آف دی ایئر‘ قرار دیا گیا، جبکہ ان کا نام کرینز ڈیٹرائٹ بزنس کی 40 سال سے کم عمر 40 نمایاں شخصیات کی فہرست میں بھی شامل کیا گیا۔
انتخابی مہم اور ریپبلکن امیدوار سے مقابلہ
عبدل السید کے مدمقابل ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز تھے، جو سابق رکن کانگریس اور ایف بی آئی کے اہلکار رہ چکے ہیں۔
63 سالہ مائیک راجرز کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کی قومی قیادت کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔
انتخابی مہم کے دوران راجرز نے عبدل السید کو ایک انتہاپسند امیدوار کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی اور ان پر اخوان المسلمون سے مبینہ روابط کے الزامات بھی لگائے۔
تاہم عبدل السید نے ان الزامات کی تردید کی، جبکہ ان کے حق میں کوئی ثبوت بھی سامنے نہیں آیا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق ڈیموکریٹس نے ان حملوں کو اسلام مخالف تعصبات پر مبنی قرار دیا۔
مائیک راجرز نے یہودی ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کے لیے بھی کوششیں کیں، خصوصاً ایسے ووٹرز کی جو اسرائیل کے لیے امریکی فوجی امداد کی مخالفت اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کو نسل کشی قرار دینے کے عبدل السید کے مؤقف سے اختلاف رکھتے تھے۔
انتخابی مہم کے آخری ہفتوں میں راجرز نے ایران کے ساتھ جنگ اور کینیڈا کے ساتھ امریکی تجارتی تنازع پر صدر ٹرمپ کے مؤقف سے اختلاف کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ کاروباری اداروں اور صارفین کے اخراجات کم کرنے کے لیے دونوں معاملات کا خاتمہ ضروری ہے۔
مزید پڑھیں: امریکی وسط مدتی انتخابات، ڈیموکریٹس کا دونوں ایوانوں میں غلبہ، ٹرمپ کے پاس محض ویٹو اختیار رہ گیا
تاہم معاشی صورتحال سے متعلق ووٹرز کے خدشات اور صدر ٹرمپ کی مقبولیت میں کمی ریپبلکن امیدوار کے لیے مشکلات کا باعث بنی۔
عبدل السید کی کامیابی کو امریکی سیاست میں مسلمانوں کی نمائندگی کے حوالے سے ایک تاریخی پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔











