پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ اور سینیئر تجزیہ کار اعزاز چوہدری نے کہا ہے کہ امریکی وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹس کی بھاری اکثریت سے کامیابی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی کے لیے ایک بڑا سیاسی پیغام اور ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں، بالخصوص ایران جنگ، مہنگائی اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں پر ناراضی کا اظہار ہے۔
’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے اعزاز چوہدری نے کہاکہ ری پبلکنز کو بھاری شکست ہونے کے بعد بعد صدر ٹرمپ کے مواخذے کی باتیں بھی سامنے آ رہی ہیں، تاہم اس مقصد کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہو گی۔
انہوں نے کہا کہ ری پبلکنز پارٹی کی شکست کی توقع تو کی جا رہی تھی، لیکن ڈیموکریٹس کی اتنی بڑی برتری کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھی۔ پہلے یہ اندازے لگائے جا رہے تھے کہ ری پبلکنز شاید مقابلہ برابر کر لیں یا سینیٹ میں ایک نشست کی برتری حاصل کر لیں، لیکن نتائج میں ڈیموکریٹس کی نمایاں کامیابی نے ری پبلکنز اور صدر ٹرمپ دونوں کو واضح پیغام دیا ہے۔
’ایران جنگ اور مہنگائی نے ٹرمپ کے لیے مشکلات پیدا کیں‘
اعزاز چوہدری کے مطابق ری پبلکنز کی شکست کی دو بڑی وجوہات ہیں، جن میں ایران جنگ اور مہنگائی شامل ہیں، تاہم جنگ کے معاشی اثرات نے امریکی عوام کو زیادہ متاثر کیا۔
انہوں نے کہا کہ جنگ کے نتیجے میں مہنگائی بڑھی، لوگوں کا معیارِ زندگی متاثر ہوا اور گیس کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔ اس وجہ سے امریکی عوام میں جنگ غیر مقبول ہوتی چلی گئی۔ لوگوں نے سوال اٹھایا کہ جب صدر ٹرمپ کی پالیسی کا نعرہ ’امریکا فرسٹ‘ تھا تو پھر امریکا کو ایک دوسرے ملک کی خاطر جنگ میں کیوں جھونکا گیا اور اسرائیل کو امریکا پر ترجیح کیوں دی گئی؟
ان کا کہنا تھا کہ عوامی ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی شہری ایسی پالیسیوں کی حمایت نہیں کرتے جن میں ان کے اپنے معاشی مفادات متاثر ہوں۔
’ٹرمپ کے مواخذے کی کارروائی ممکن لیکن استعفے کا امکان غیر واضح‘
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذے کے امکانات کے بارے میں اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کا مواخذہ کرنا ایک مشکل عمل ہے، جس کے لیے دو تہائی اکثریت درکار ہوتی ہے۔
ان کے مطابق سیاسی طور پر یہ کوشش کی جا سکتی ہے کہ صدر کو ایک واضح پیغام دیا جائے اور انہیں مواخذے کے بجائے خود مستعفی ہونے پر آمادہ کیا جائے۔
انہوں نے سابق امریکی صدر رچرڈ نکسن کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مواخذے کی کارروائی کا سامنا کرنے کے بجائے استعفیٰ دے دیا تھا۔
اعزاز چوہدری نے کہا کہ اگر صدر ٹرمپ کے خلاف دباؤ بڑھتا ہے تو ان کی اپنی جماعت بھی انہیں مستعفی ہونے کا مشورہ دے سکتی ہے، تاہم فی الحال مواخذے کی کارروائی سے آگے کی صورتحال کے بارے میں کچھ کہنا مشکل ہے۔
انہوں نے ٹرمپ کے خلاف ایپسٹین فائلز سے متعلق الزامات اور خواتین کی جانب سے دائر مقدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان پر سنگین نوعیت کے الزامات موجود ہیں اور مواخذے کی کارروائی شروع ہونے کے امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
’مسلمان امیدواروں کی کامیابی سے نفرت انگیز سیاست میں کمی آ سکتی ہے‘
امریکی انتخابات میں مسلم امیدواروں کی کامیابی کے حوالے سے اعزاز چوہدری نے کہا کہ یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ ان نتائج کو براہِ راست صدر ٹرمپ کی نفرت انگیز سیاست کا جواب قرار دیا جائے، تاہم یہ ضرور ہے کہ ان کی انتظامیہ میں مختلف اقلیتوں، مسلمانوں، تارکینِ وطن اور ہسپانوی باشندوں کے خلاف جس انداز میں نفرت پھیلائی گئی، اس میں اب کمی آ سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ بڑی تعداد میں مسلمان امیدواروں کا امریکی کانگریس تک پہنچنا ایک اہم پیش رفت ہے۔ ڈیموکریٹس کو بھی یہ احساس ہو گیا ہے کہ امریکی عوام ڈونلڈ ٹرمپ جیسی پالیسیوں کا خیرمقدم نہیں کرتے۔
ان کے بقول امریکا میں دائیں بازو کی جانب سے پھیلائی جانے والی نفرت، غیر ملکیوں کے خلاف تعصب اور اسلاموفوبیا میں کمی کا امکان ہے۔ اس انتخابی نتیجے کے اثرات یورپ پر بھی پڑ سکتے ہیں، جہاں غیر ملکیوں کے خلاف نفرت اور اسلاموفوبیا میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
’پاکستان سے امریکی تعلقات میں ریپبلکنز کا کردار زیادہ رہا ہے‘
پاکستان کے حوالے سے امریکی پالیسی میں تبدیلی کے امکانات پر اعزاز چوہدری نے کہا کہ ماضی میں جب بھی امریکا اور پاکستان کے درمیان گہری شراکت داری قائم ہوئی، اس وقت عموماً ریپبلکن پارٹی اقتدار میں تھی۔
ان کے مطابق ریپبلکنز کی خارجہ پالیسی زیادہ تر سیکیورٹی اور دفاعی معاملات پر مرکوز رہی ہے، اسی لیے پاکستان کے ساتھ ان کے تعاون کی نوعیت بھی اسی تناظر میں رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈیموکریٹس روایتی طور پر بھارت کے زیادہ قریب رہے ہیں۔ تاہم ان کے بقول بھارت میں موجودہ حکومت کی پالیسیوں کے باعث وہاں جمہوریت کی نوعیت پر بھی سوالات اٹھ رہے ہیں۔
اعزاز چوہدری نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے بھارت کو اس کے طیارے گرائے جانے کے معاملے پر تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔
ان کے مطابق بھارت نے بھی اس معاملے میں زیادتی کی، کیونکہ جب ٹرمپ نے بھارت کی درخواست پر جنگ رکوائی تو نئی دہلی کو انہیں اس کا کریڈٹ دینا چاہیے تھا، لیکن ایسا نہیں کیا گیا، جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں فرق آیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا میں یہ تاثر بھی موجود رہا ہے کہ بھارتی شہری بڑی تعداد میں ملازمتیں حاصل کررہے ہیں اور امریکی شہریوں کے لیے مواقع محدود ہو رہے ہیں۔ یہ رجحان صرف ٹرمپ تک محدود نہیں تھا بلکہ امریکی معاشرے میں پہلے سے موجود تھا۔
ان کے مطابق بھارت کی یہ کوشش کہ پاکستان عالمی سطح پر تنہا ہو جائے اور امریکا، یورپ اور روس سمیت تمام اہم طاقتیں بھارت کے ساتھ کھڑی ہو جائیں، کامیاب نہیں ہوئی۔ پاکستان کے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات اور رابطے برقرار ہیں، اس لیے بھارت کی یہ حکمت عملی مؤثر ثابت نہیں ہوئی۔
اعزاز چوہدری کا کہنا تھا کہ ٹرمپ آئندہ 2 سال تک اپنی موجودہ پالیسی جاری رکھ سکتے ہیں، اس کے بعد نئے صدر کے انتخاب کے ساتھ امریکی خارجہ پالیسی میں تبدیلی یا تسلسل کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔ تاہم پاکستان امریکا کے ساتھ تعلقات میں اتار چڑھاؤ کا عادی ہے۔
’ایران جنگ کے بعد سفارت کاری کا نادر موقع پیدا ہو گیا‘
امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے بعد عالمی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت امن کے لیے سفارت کاری کا ایک نادر موقع موجود ہے۔
ان کے مطابق صدر ٹرمپ کے لیے دوبارہ جنگ میں جانا سیاسی طور پر آسان نہیں ہوگا، کیونکہ ایران جنگ پہلے ہی امریکی عوام میں غیر مقبول ہو چکی ہے اور اس کے نتیجے میں ان کی جماعت کو انتخابی شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اب ریپبلکن پارٹی خود صدر ٹرمپ کو مزید جنگ میں جانے سے روک سکتی ہے۔ اس تناظر میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کا بیان بھی اہم ہے، جس سے جنگ کے بعد کی صورتحال پر امریکی قیادت کے اندر موجود سوچ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کو بھی اس جنگ سے نکلنے کا کوئی قابلِ قبول راستہ درکار ہے اور اس مقصد کے لیے سفارت کاری کو موقع دینا چاہیے۔
’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں امریکا اور ایران کے لیے قابلِ قبول شرائط موجود ہیں‘
اعزاز چوہدری نے کہاکہ امریکا اور ایران کے درمیان اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) ایک ایسا راستہ فراہم کرتی ہے جس کی شرائط دونوں فریقوں کے لیے قابلِ قبول ہو سکتی ہیں۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ اس پر عملدرآمد کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کی بنیادی شرط ایران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ ہے، جو اسلام آباد ایم او یو میں شامل ہے۔ دوسری جانب ایران چاہتا ہے کہ اس پر عائد پابندیاں اٹھائی جائیں اور اس کے منجمد اثاثے واپس کیے جائیں۔ یہ مطالبات بھی مفاہمتی یادداشت میں درج ہیں۔
ان کے مطابق آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے بھی ایران آمادہ ہو سکتا ہے، تاہم اس کے لیے امریکا کو اپنی بحری ناکہ بندی ختم کرنا ہوگی۔ ان تمام معاملات پر پیشرفت کے لیے بھرپور سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔
انہوں نے چین کو بھی امن عمل میں شامل ہونے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ عالمی جنگ اور عدم استحکام سے چین کے معاشی مفادات بھی متاثر ہوں گے۔ چین دنیا کی بڑی فیکٹری ہے اور اس کی معیشت کا انحصار عالمی منڈیوں میں اپنی مصنوعات کی فروخت پر ہے۔ اگر دنیا کے مختلف حصوں میں جنگیں جاری رہیں تو چین کی مصنوعات کون خریدے گا؟
ان کے مطابق یورپ سمیت دنیا کے مختلف خطوں میں کشیدگی اور جنگوں کے اثرات عالمی معیشت پر مرتب ہوں گے، اس لیے چین کو بھی امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
انہوں نے زور دیا کہ اس وقت ایران اور امریکا دونوں پر سفارتی دباؤ بڑھانے اور انہیں مذاکرات کے ذریعے مسئلہ حل کرنے پر آمادہ کرنے کی ضرورت ہے۔
ان کے بقول ایران جنگ کی کوئی ضرورت نہیں تھی، یہ اسرائیل کے مفادات سے جڑا ہوا معاملہ تھا اور اسے ختم کرنے کے لیے موجودہ وقت سے بہتر موقع شاید ہی مل سکے۔
’افغانستان میں القاعدہ کی موجودگی دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے‘
پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی اور سرحد پار دہشتگردی کے معاملے پر اعزاز چوہدری نے کہا کہ افغانستان ایک بار پھر ایسی صورتحال کی جانب بڑھ رہا ہے جو 11 ستمبر 2001 کے حملوں سے پہلے موجود تھی۔ ان کے مطابق یہ صرف پاکستان نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت افغانستان سے جنم لینے والی دہشت گردی کا مقابلہ کر رہا ہے، لیکن اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو اس کے نتائج پورے خطے اور دنیا کو بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں القاعدہ موجود ہے اور وہاں تربیتی سرگرمیاں بھی جاری ہیں۔ ’پہلے ہی متعدد دہشتگرد تنظیمیں افغانستان میں موجود تھیں اور اب القاعدہ کی موجودگی بھی ایک سنگین تشویش ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ امریکا کو دہشت گردی کے خلاف پاکستان کے ساتھ تعاون جاری رکھنا چاہیے، کیونکہ افغانستان سے انخلا کے وقت امریکا تقریباً 7 ارب ڈالر مالیت کا اسلحہ وہاں چھوڑ گیا تھا، جسے اب دہشتگرد استعمال کر رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا اس معاملے میں خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتا۔ اسے پاکستان سمیت ان تمام ممالک کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے جو دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔











