امریکی وسط مدتی انتخابات میں الاسکا سے سینیٹ کی نشست کے امیدوار جیرالڈ ہائیکس کو انتخابی معرکے کے عین آخری دنوں میں ایف بی آئی کے اہلکاروں نے سمن تھما دیا۔ انہیں ڈیموکریٹ امیدوار میری پیلٹولا سے منسلک مبینہ انتخابی حکمت عملی کے بارے میں معلومات فراہم کرنے کے لیے گرینڈ جیوری کے سامنے پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق وفاقی حکام اس بات کی تحقیقات کر رہے ہیں کہ آیا ڈیموکریٹ امیدوار کے حامیوں نے ری پبلکن سینیٹر ڈین سلیوان کے ووٹ تقسیم کرنے کے لیے ایسے امیدواروں کو انتخابی میدان میں اتارنے کی کوشش کی جن کے نام ان سے ملتے جلتے ہیں۔
تحقیقات کا مرکز یہ الزام ہے کہ میری پیلٹولا سے منسلک سیاسی کارکنوں نے جیرالڈ ہائیکس سمیت بعض امیدواروں کو انتخاب لڑنے کے لیے آمادہ کیا، تاکہ ری پبلکن امیدوار کے ووٹ متاثر ہوسکیں۔ تاہم میری پیلٹولا نے ایسے کسی منصوبے سے لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے الزامات مسترد کیے ہیں۔
Days before the midterms, longshot Alaska Senate candidate Gerald Heikes was issued a subpoena as part of a DOJ probe into whether Democrats sought to recruit spoiler candidates into the race. https://t.co/JWc8pwImL9 pic.twitter.com/79bBRq4Or3
— CNN (@CNN) November 7, 2026
سی این این کو انٹرویو میں جیرالڈ ہائیکس نے کہا کہ انہیں سمن میں بتایا گیا ہے کہ وہ پیش ہوکر وضاحت کریں کہ انہیں کس طرح انتخاب لڑنے کے لیے بھرتی کیا گیا، حالانکہ ان کے بقول انہیں کسی نے انتخاب لڑنے کے لیے بھرتی نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ پہلے ہی سیاست میں حصہ لینے کا ارادہ رکھتے تھے اور محض یہ دیکھنے کے لیے سینیٹ کا انتخاب لڑنے کا فیصلہ کیا کہ کیا ہوتا ہے۔
ہائیکس الاسکا کے شہر پالمر میں ڈرائی وال کا کام کرتے ہیں اور انتخابی نتائج کے مطابق تقریباً 2 فیصد ووٹ حاصل کرچکے ہیں، جب کہ ایک چوتھائی ووٹوں کی گنتی ابھی باقی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ سینیٹر ڈین سلیوان کے حامی ہیں اور کسی امیدوار کے ووٹ تقسیم کرنا ان کا مقصد نہیں تھا۔
سی این این کے مطابق ایف بی آئی کے اہلکاروں نے انہیں ہفتے کے روز ریاست کے دوسرے علاقے میں ایک دوست کے گھر کام کرتے ہوئے سمن پہنچایا۔ ہائیکس نے بتایا کہ اہلکار خوش اخلاقی سے پیش آئے اور سمن دینے کے بعد واپس چلے گئے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی انتخابات کے بعد ٹیکنالوجی اسٹاکس کریش، نیسڈیک سے ڈھائی کھرب ڈالر کی سرمایہ کاری غائب
تحقیقات میں کئی سیاسی ایکشن کمیٹیوں اور سیاسی مشیروں کے کردار کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔ ان میں سے بعض نئی قائم ہونے والی کمیٹیوں نے لاکھوں ڈالر خرچ کرکے سینیٹر ڈین سلیوان کے خلاف مہم چلائی اور ہائیکس کی حمایت میں اشتہارات دیے تھے۔
واضح رہے کہ الاسکا میں ترجیحی ووٹنگ کا نظام رائج ہے، جس کے تحت ووٹر امیدواروں کو ترجیحی بنیادوں پر منتخب کرتے ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی سوشل میڈیا پر مطالبہ کیا تھا کہ ہائیکس اور ایک دوسرے امیدوار کے ووٹ خودکار طور پر ڈین سلیوان کو منتقل کیے جائیں۔











