اسرائیل میں عدالتی اصلاحات کیخلاف مظاہرے، نظام زندگی مفلوج کرنے کا انتباہ

اتوار 16 جولائی 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیلی حکومت کی مجوزہ عدالتی اصلاحات کے خلاف ہزاروں شہریوں نے اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب سمیت دیگر کئی شہروں میں احتجاج انتہائی منظم احتجاج کرتے ہوئے حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ حکومت کی ہٹ دھرمی پر نظامِ زندگی مفلوج کیا جاسکتا ہے۔

گزشتہ روز نکالی گئی ریلیاں اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت کے عدالتی اصلاحات کے منصوبے کے خلاف 7 ماہ سے جاری مظاہروں کی ایک کڑی تھی، جس کا آغاز اس وقت ہوا جب حکومت کی جانب سے ایک کلیدی بل کو ابتدائی منظوری دی گئی جو اس وقت نظر ثانی کے مرحلے میں ہے۔

مجوزہ اصلاحات کے اس بل میں ایک شق میں بیان کردہ ’معقولیت‘کو کم کیا گیا ہے، جس کے ذریعے عدلیہ حکومتی فیصلوں کو ختم کر سکتی ہے۔ دوسری جانب اس بل کے ذریعے حکومت کا ججوں کی تقرری میں بھی عمل دخل بڑھ جائے گا۔ بل کو قانون بننے سے پہلے مزید دو سطح پر رائے شماری کے مرحلے سے گزرنا ہے، جو رواں ماہ کے آخر تک متوقع ہے۔

شدید مشکل حالات میں مدد کے لیے لکھے جانیوالے 3 حروف یعنی SOS پر مشتمل ایک بہٹ بڑے بینر کو تھامے ہوئے، تل ابیب میں مظاہرین نے پینٹ پاؤڈر ہوا میں پھینکا جس کے باعث فضا میں گلابی اور نارنجی لکیریں پھیل گئیں۔ ایسا لگتا تھا کہ مظاہرین خدا سے مدد کے طلبگار ہیں۔

مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ ملکی بقا کی جنگ ہے، ہم اسرائیل کو جمہوری رکھنا چاہتے ہیں اور یہاں آمریت کے قوانین منظور نہیں ہونے دیے جائیں گے۔ مظاہرین کے مطابق اس نوعیت کے متنازعہ قوانین کی منظوری سے اسرائیل کی مالی اور عالمی حیثیت کو نقصان پہنچے گا۔

ہفتے کے روز تل ابیب میں مظاہرین کے ساتھ ملک بھر کے دیگر افراد بھی شامل ہوئے۔ مظاہرین نے یروشلم میں نیتن یاہو کے گھر کے باہر مشعلیں روشن کیں اور ساحلی شہروں ہرزلیہ اور نیتنیہ میں مظاہرہ کیا۔ منتظمین کا موقف تھا کہ اگر حکومت نے اپنی ہٹ دھرمی جاری رکھی تو وہ منگل نظام زندگی کو متاثر کرنیوالے دن کے طور پر منائیں گے۔

وزیر اعظم نیتن یاہو کی حکومت کا عدالتی اصلاحات کو آگے بڑھانے کا فیصلہ جسے اسرائیلی رہنما نے مارچ میں احتجاج اور بین الاقوامی تنقید کے دوران معطل کر دیا تھا، گزشتہ ماہ اس معاملے پر فریقین کے درمیان ہونے والی بات چیت کے خاتمے کے بعد سامنے آیا تھا۔

تقریباً 7 ماہ کے احتجاج کے بعد بھی تحریک کے تھمنے کے بہت کم آثار دکھائی دے رہے ہیں۔ اسرائیل کی قومی مزدور یونین اور اس کی میڈیکل ایسوسی ایشن عدالتی اصلاحات کے اس بل کی مخالفت کرنے والے گروپوں کی ایک لمبی فہرست میں شامل ہو گئی ہے، جب کہ فوجی رضا کار، فائٹر پائلٹ اور کاروباری رہنماؤں نے بھی حکومت سے اپنے اس منصوبے کو روکنے پر زور دیا ہے۔

ملک کی قومی مزدور یونین، ہسٹادرٹ کے سربراہ آرنون بار ڈیوڈ نے بھی ایک عام ہڑتال کی دھمکی دی ہے جو ملک کی معیشت کو مفلوج کر سکتی ہے، انہوں نے نیتن یاہو سے ’افراتفری کو روکنے‘ کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر صورتحال انتہا کو پہنچتی ہے تو وہ بھی مداخلت کریں گے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا