سپریم کورٹ نے فل کورٹ کی تشکیل بارے فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ اگر بینچ جلد کسی رائے پر پہنچ جاتا ہے تو 15 منٹ میں آگاہ کر دیا جائے گا اور اگر کسی نتیجے پر نہ پہنچے تو مقدمے کی سماعت کل کریں گے اور پھر سماعت کل تک ملتوی کر دی گئی ہے۔
فوجی عدالتوں میں عام شہریوں کے ٹرائل کیخلاف دائر درخواستوں پر سماعت چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجازالاحسن، جسٹس منیب اختر، جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی اور جسٹس عائشہ اے ملک پر مشتمل 6 رکنی لارجر بینچ نے کی۔
سماعت شروع ہوئی تو اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان روسٹرم پر آگئے، چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ فیصل صدیقی نے ملٹری کورٹس کے معاملے پر فل کورٹ کا مطالبہ کیا ہے، ہم جواد ایس خواجہ کے وکیل کو سنیں گے۔
جواد ایس خواجہ کے وکیل نے کہا کہ میرے مؤکل سابق چیف جسٹس ہیں، ان کی ہدایت ہے کہ عدالت میرے ساتھ خصوصی برتاؤ کے بجائے عام شہری کی طرح برتاؤ کرے، وہ چاہتے ہیں کہ ان کے نام کے ساتھ چیف جسٹس نہ لگایا جائے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ہم اسی وجہ سے ان کی عزت کرتے ہیں، جواد ایس خواجہ گوشہ نشین انسان ہیں، ان کی آئینی درخواست غیر سیاسی ہے۔
جسٹس مظاہر نقوی نے ریمارکس دیے کہ قانون ’پک اینڈ چوز‘ کرنے کی اجازت نہیں دیتا، اگر انکوائری ہوئی تو ریکارڈ پر کیوں نہیں؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا ’پک اینڈ چوز‘ نہیں کی، جو لوگ براہ راست ملوث تھے ان کے مقدمات ملٹری کورٹس بھیجے گئے۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ کسی فورم پر مواد ہوگا تو پتا چلے گا کہ آپ کا دعویٰ درست ہے یا نہیں؟ اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدالت کا سوال ہے کہ دیگر افراد کو کیوں چھوڑا، بہت سے لوگ ملوث تھے لیکن شواہد کی روشنی میں گرفتاریاں کی گئیں۔
مزید پڑھیں
جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی نے استفسار کیا کہ اگر کوئی انکوائری ہوئی ہے تو ریکارڈ پر کیوں نہیں؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ انکوائری پر موجود ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کہنا چاہتے ہیں کہ صرف ان افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جنہوں نے فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچایا؟ اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ کور کمانڈر ہاؤس کو نقصان پہنچانے والوں کو بھی گرفتار کیا گیا ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ حکومت ان 102 افراد کا کورٹ مارشل کرنا چاہتی ہے؟
9 مئی جلاؤ گھیراؤ : 102 ملزمان کی فہرست عدالت میں پیش
اٹارنی جنرل نے فوج کی تحویل میں موجود 9 مئی واقعات میں ملوث 102 ملزمان کی فہرست عدالت میں پیش کردی ہے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ زیرحراست 7 ملزمان جی ایچ کیو حملے میں ملوث ہیں۔
4 ملزمان نے آرمی انسٹیٹیوٹ پر حملہ کیا۔ 28 ملزمان نے کور کمانڈر ہاوس لاہور میں حملہ کیا۔ 5 ملزمان ملتان، 10 ملزمان گوجرانوالہ گریژن حملے میں ملوث ہیں۔ 8 ملزمان آئی ایس آئی آفس فیصل آباد، 5 ملزمان پی ایف بیس میانوالی حملے میں ملوث ہیں۔ 14 ملزمان چکدرہ حملے میں ملوث ہیں۔ 7 ملزمان نے پنجاب رجمنٹ سینٹر مردان میں حملہ کیا۔ 3 ملزمان ایبٹ آباد، 10 ملزمان بنوں گریژن حملے میں ملوث ہیں۔ ایک ملزم آئی ایس آئی حمزہ کیمپ حملے میں ملوث ہے۔ اٹارنی جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ زیر حراست ملزمان کی گرفتاری سی سی ٹی وی کمیرے اوردیگر شواہد کی بنیاد پر کی گئی ہے۔
مزید پڑھیں
درخواست گزاروں کے وکیل سلمان اکرم راجا، سپریم کورٹ بار کے وکیل عابد زبیری اور چیئرمین پی ٹی آئی کے وکیل شعیب شاہین نے بھی فل کورٹ کی مخالفت کر دی۔
سلمان اکرم راجا نے کہا کہ میں اعتزاز احسن کی حمایت کرتا ہوں کہ اس کیس کا فیصلہ جلد کیا جائے۔ یہ بہترین موقع ہے کہ سپریم کورٹ فوجی عدالتوں سے متعلق کیس کا ایک ہی بار فیصلہ کر دے۔ ملکی تاریخ میں پہلی بار اختیار عدالت کے ہاتھ میں ہے۔
وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ ججز کے درمیان تقسیم کا پوری دنیا کو معلوم ہے، ایسے میں فل کورٹ کی درخواست صرف وقت کا ضیاع ہے، 102 افراد کے 102 خاندان ہیں جو متاثر ہو رہے ہیں، استدعا ہے کہ روزانہ کی بنیاد پر کیس سن کر فیصلہ کیا جائے۔
مقدمے کا پس منظر اور گزشتہ سماعت
واضح رہے کہ مذکورہ درخواستیں سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جواد ایس خواجہ، اعتزاز احسن، کامران علی اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے دائر کی تھیں اور گزشتہ سماعت کے دوران اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا تھا کہ 9 مئی کے واقعات پر 102 لوگوں کو ملک کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا تھا اور وہ اس وقت فوج کی حراست میں ہیں۔
21 جولائی کو ہونے والی گزشتہ سماعت میں چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے تھے کہ سپریم کورٹ کو آگاہ کیے بغیر فوجی عدالتوں میں ملزمان کا ٹرائل شروع نہیں کیا جائے، حکم کی خلاف ورزی پر ذمہ داروں کو طلب کریں گے۔
چیف جسٹس عمر عطابندیال نے سماعت کا تحریری حکم نامہ جاری کیا تھا، جس میں عدالت عظمیٰ نے بتایا تھا کہ سویلینز کے فوجی عدالتوں میں ٹرائل کے کیس کی اگلی سماعت یکم اگست کو ہوگی۔




















