متنازع ٹوئٹ کیس: سینیٹر اعظم سواتی کی ضمانت منظور

پیر 2 جنوری 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

27 نومبر کو اعظم خان سواتی کو فوجی افسران کے خلاف متنازع ٹوئٹ کرنے پر ایف آئی اے نے گرفتار کیا — فائل فوٹو: ڈان نیوز

اسلام آباد ہائی کورٹ نے متنازع ٹوئٹ کیس میں گرفتار پاکستان تحریک انصاف کے رہنما سینیٹر اعظم سواتی کی درخواست ضمانت منظور کرتے ہوئے رہا کرنے کا حکم دے دیا۔

چیف اسلام آباد ہائی کورٹ جسٹس عامر فاروق نے 2 لاکھ روپے کے مچلکوں کے عوض پی ٹی آئی سینیٹر کی درخواست ضمانت بعد ازگرفتاری منظور کی ہے۔

قبل ازیں بابر اعوان کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت عالیہ نے اعظم سواتی کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کیا تھا۔

27 نومبر کو پاکستان تحریک انصاف کے سینیٹر اعظم خان سواتی کو فوجی افسران کے خلاف متنازع ٹوئٹ کرنے پر وفاقی تحقیقاتی ادارے نے گرفتار کیا تھا، ٹرائل کورٹ نے 21 دسمبر کو اعظم سواتی کی درخواست ضمانت مسترد کر دی تھی۔

اس سے قبل بھی انہیں 12 اکتوبر کو آرمی چیف کے خلاف ٹوئٹ کرنے پر گرفتار کیا گیا تھا، ٹرائل کورٹ نے 21 دسمبر کو اعظم سواتی کی درخواست ضمانت مسترد کر دی تھی جس کے بعد انہوں نے اسلام آباد ہائھی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

سماعت کے دوران سینیٹر اعظم سواتی کے وکیل بابر اعوان عدالت میں پیش ہوئے جب کہ اسپیشل پراسیکیوٹر عدالت میں پیش نہیں ہوئے، بابر اعوان ایڈووکیٹ نے کہا کہ اعظم سواتی کے صاحبزادے عدالت کے سامنے اپنا مؤقف رکھنا چاہتے ہیں۔

سینیٹر اعظم سواتی کے صاحبزادے نے کہا کہ میرے والد نے جیل سے ایک خط لکھا تھا، کیس کسی اور بینچ کو بھیج دیں، میں عدالت کی اجازت سے خط پڑھنا چاہتا ہوں، چیف جسٹس نے کہا کہ خط عدالت کے سامنے موجود ہے، اس معاملے پر لارجر بینچ تشکیل دیں گے، اس معاملے کو ہمیشہ کے لیے طے کرنا چاہتے ہیں، خط آجاتا ہے کہ جج جانبدار ہے، اس معاملے کو طے کرنے کے لیے لارجر بینچ تشکیل دے رہے ہیں۔

چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ اس قسم کے خطوط عدالت عمومی طور پر نہیں دیکھتی، بابر اعوان ایڈووکیٹ نے کہا کہ عدالت آج ہی اس معاملے کو دیکھ لے، چیف جسٹس نے کہا کہ آج ہی لارجر بینچ کی تشکیل ممکن نہیں، سینئر ججز ابھی چھٹی پر ہیں آئندہ ہفتے کے لیے لارجر بینچ تشکیل دیں گے۔

بابر اعوان ایڈووکیٹ نے کہا کہ اعظم سواتی کے صاحبزادے سے میں نے درخواست کی ہے وہ یہ خط واپس لے لیتے ہیں، اس موقع پر وکلا کی مشاورت کے بعد اعظم سواتی کے بیٹے نے عدالت کو لکھا گیا خط واپس لے لیا۔

اس کے بعد بابر اعوان ایڈووکیٹ نےاعظم سواتی کی درخواست ضمانت پر دلائل کا آغاز کرتے ہوئے حبیب جالب کا شعر پڑھا اور کہا کہ سندھ، بلوچستان کی ہائی کورٹس نے اعظم سواتی کے خلاف مقدمات ختم کر دیے۔

بابر اعوان نے کہا کہ حکام نے جیب سے شکایت نکالی اور مقدمہ بنا دیا، میں نے کبھی ایسی ایف آئی آر نہیں دیکھی جس میں ٹائم اور وقوعہ کی جگہ نہ لکھی ہو ، انہوں نے مؤقف اپنایا کہ میں نام نہیں لینا چاہتا لیکن فیصلہ آپ کے سامنے رکھ دوں گا کہ ایک سیاسی شخصیت کو بیماری پر ضمانت دی گئی، ایک اور شخصیت کو اس کی تیمارداری کے لیے ضمانت دے دی گئی۔

سینیٹر کے وکیل کے دلائل مکمل ہونے پر چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ اس معاملے پر ایف آئی اے کا کیا مؤقف ہے جس پر ایف آئی اے کے وکیل نے کہا کہ اسپیشل پراسیکیوٹر نہیں آسکے، استدعا ہے کہ سماعت ملتوی کی جائے جس پر عدالت نے ایف آئی اے کے وکیل کی استدعا مسترد کر دی اور دلائل مکمل ہونے پر فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

بلوچستان میں امن ، عوام کی فلاح و بہبود اور خوشحالی ریاست کی ترجیحات کا محور ہیں، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر

آئی سی سی کا پاکستان اور بھارت کے درمیان سہ فریقی یا فور نیشن سیریز کرانے پر غور شروع

نئے صوبوں کا معاملہ سیاسی محاذ آرائی نہیں، قومی مشاورت سے حل ہونا چاہیے، چوہدری شجاعت حسین

دہشتگردوں کے خلاف کارروائی ناگزیر، افغان شہریوں کے ویزے بحال کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا، پاکستان

ریاست مخالف بیانیے اور دہشتگردوں کی حمایت پر مقدمات اور گرفتاریاں ضرور ہوں گی، وزیر داخلہ بلوچستان

ویڈیو

نئے انتظامی یونٹس بنانے یا نہ بنانے کا فیصلہ کسی حکومت یا جماعت نہیں، عوام کی مرضی سے ہونا چاہیے، محسن نقوی

پنجاب کو ہمسایہ ملک سے زیادہ پڑوسی صوبوں سے دہشتگردی کا خطرہ، وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز

1948 سے قائم کراچی کی دکان، کچوری اور سموسے کا ذائقہ نسل در نسل برقرار

کالم / تجزیہ

اُچ شریف کے آثار اور یادیں

مسلم سائنس کا قتل اور ملزم امام غزالی

وہ خط جو کبھی پوسٹ نہیں کیا گیا