روسی صدر کے مسلح مخالف یوگینی پریگوژن فضائی حادثے میں ہلاک

بدھ 23 اگست 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ماسکو سے سینٹ پیٹرز برگ جانے ہوائی جہاز حادثہ کا شکار ہونے کے باعث اس میں سوار تمام 10 افراد کے ہلاک ہو گئے ہیں۔ بعض اطلاعات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں ہیوٹن مخالف نجی فوج ویگنر کے سربراہ یوگینی پریگوژن بھی شامل ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق تباہ ہونے والا جہاز ایک برنس جیٹ تھا جو روسی دارالحکومت ماسکو سے سینیٹ پیٹرز برگ جا ر ہا تھا۔

میڈیا ذرائع کے دعوے کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والے جہاز میں روسی صدر پیوٹن کے خلاف مسلح بغاوت کرنے والی نجی فوج ویگنر کے سربراہ یوگینی پریگوژن بھی شامل تھے۔

دوسری جانب روسی سول ایوی ایشن کے عہدیدار کے مطابق پریگوزن مسافروں کی فہرست میں تھے تاہم فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا وہ جہاز میں سوار تھے یا نہیں۔

علاوہ روس کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق جہاز میں 3 پائلٹ اور 7 مسافر سوار تھے۔ یہ حادثہ ماسکو کے شمال میں 100 کلومیٹر سے زیادہ دور پیش آیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران سے بات چیت اور پاکستان کی کوششیں جاری ہیں اب دیکھیں کیا ہوتا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ممکنہ امن معاہدے پر مؤقف

بیٹے کی شادی میں شرکت کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کا مبہم بیان، میڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بنا دیا

صدارت کے بعد وزارت عظمیٰ: اسرائیل میں بیحد مقبول ہوں، وزیراعظم کا انتخاب لڑوں گا، ڈونلڈ ٹرمپ کا ’عندیہ‘

وزیرِ اعظم شہباز شریف اور پرنس رحیم آغا خان کی ملاقات، آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کو وسعت دینے پر زور

عیدالاضحیٰ پر ریلوے کا خصوصی انتظام، 3 خصوصی ریل گاڑیاں چلانے کا فیصلہ

ویڈیو

ایران سے بات چیت اور پاکستان کی کوششیں جاری ہیں اب دیکھیں کیا ہوتا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا ممکنہ امن معاہدے پر مؤقف

ایران امریکا معاہدے کے امکانات روشن: پاکستان نے سفارتی کوششیں تیز کردیں اور مثبت اشارے ملے ہیں، مارکو روبیو

بڑی شخصیت کی ایران میں انٹری، ایران امریکا ڈیل کا مسودہ تیار، فائنل راؤنڈ پاکستان میں، اسرائیل کو منہ کی کھانا پڑی

کالم / تجزیہ

عورت اور مرد کی کشمکش

کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

سندھ طاس: ثالثی عدالت کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا؟