ترکیہ کے بغیر کوئی راہداری ممکن ہو ہی نہیں سکتی، ترک صدر کا بھارت کو پیغام

پیر 18 ستمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے جی 20 کے سربراہی اجلاس کے دوران بھارت، مشرق وسطٰی، یورپ کوریڈور کی تعمیر کے معاہدے پر ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ ترکیہ کے بغیر کوئی راہداری ہو ہی نہیں سکتی، مشرق سے مغرب کو ملانے کے لیے موزوں ترین راستہ ترکیہ ہی ہے۔

عالمی میڈیا کے مطابق جی 20 اجلاس کے دوران بھارت، امریکا، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، یورپی یونین، اٹلی، فرانس اور جرمنی کی جانب سے بھارت، مشرق وسطٰی، یورپ کوریڈور کے سلسلے میں ایک ایم او یو پر دستخط کیے گئے، جس پر ترک صدر رجب طیب اردوان نے اس منصوبے میں اپنے ملک کی عدم شمولیت پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ راہداری ان کے بغیر ممکن نہیں ہو سکتی۔

جی 20 اجلاس کے دوران کیے گئے معاہدے کا مقصد طویل سمندری راستہ طے کرنے اور اس دوران لگنے والے وقت اور ایندھن کی بچت کرنا ہے، سب سے اہم بات یہ کہ  بھارت سے یورپ تک تجارتی رابطے کو مضبوط بنانا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق ترکیہ عام طور پر چین کے ون بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹو کی حمایت کرتا رہا ہے لیکن اس معاہدے میں ترکی کا کردار محدود ہے۔ اور چین نے ون بیلٹ اینڈ روڈ کے ذریعے ترکیہ میں تقریباً 4 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جو کل منصوبے کا صرف 1.3 فیصد ہے۔

فنانشل ٹائمز (ایف ٹی) کی رپورٹ کے مطابق ترکیہ نے ایک متبادل تجویز پیش کی ہے، جسے عراق ڈویلپمنٹ روڈ اقدام کہا جاتا ہے۔ ترکی اس منصوبے کے لیے عراق، قطر اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ بات چیت جاری رکھے ہوئے ہے۔

اس منصوبے کے تحت عراق کی گرینڈ فاؤ بندرگاہ سے سامان ترکی لایا جائے گا۔ اس منصوبے کے لیے 17 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس میں 1,200 کلومیٹر تیز رفتار ریل اور متوازی روڈ نیٹ ورک قائم کیا جائے گا۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ منصوبے کا پہلا مرحلہ 2028 میں مکمل ہو سکتا ہے۔

جی 20 سمٹ کے دوران، بھارت نے اپنے ساتھ یورپ، اور مشرق وسطیٰ کو جوڑنے والے ایک بڑے تجارتی اور ٹرانسپورٹ روٹ کو متعارف کرایا۔ بھارت اور سعودی عرب نے امریکا، یورپی یونین، متحدہ عرب امارات اور دیگر کے ساتھ مل کر ریلوے، بندرگاہوں، بجلی اور ڈیٹا نیٹ ورکس، اور ہائیڈروجن پائپ لائنوں کو جوڑنے کے منصوبے پر ایم او یو سائن کیا۔

اس معاہدے میں ترکیہ کو شامل نہیں کیا گیا جس پر ترکیہ نے برہمی کا اظہار کیا، واضح رہے ترکیہ دنیا کے نقشے پر ایک ايسى كڑى ہے جو مغرب کو مشرق سے ملاتی ہے کیونکہ اس کا کچھ حصہ یورپ اور کچھ حصہ ایشیا میں شامل ہے۔

ترکیہ نہ صرف تجارتی نقطہ نظر کے لحاط سے مضبوط پوزیشن پر ہے بلکہ مشرق وسطی میں بھی اچھا اثرو رسوخ رکھتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

جدہ میں اہم سفارتی سرگرمیاں، بنگلہ دیشی وزیر خارجہ کی کلیدی ملاقاتیں

سعودی عرب کا غزہ میں قائم کچن، روزانہ 36 ہزار خاندانوں کو کھانا فراہم کرے گا

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

سعودی عرب: وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی او آئی سی اجلاس میں شرکت

کوہاٹ: لیڈی ڈاکٹر کے قتل کا معمہ حل، 2 ملزمان گرفتار

ویڈیو

لاہور کے رمضان بازار، کیا اشیائے خورونوش واقعی ہول سیل ریٹ پر فروخت ہو رہی ہیں؟

آپریشن غضب للحق: 133 افغان طالبان کارندے ہلاک، 2 کور ہیڈکوارٹرز سمیت متعدد اہم ترین فوجی مراکز تباہ

بہن بھائیوں میں حسد کیوں پیدا ہوتا ہے، حضرت یوسفؑ کی کہانی ہمیں کیا سبق سکھاتی ہے؟

کالم / تجزیہ

طالبان کے بارے میں استاد صاحب سچے ثابت ہوئے

مشرق وسطیٰ اور بائبل کا ٹچ

یہ اگر مگر کا سلسلہ کب ختم ہوگا؟