چمن میں پاک افغان سرحد پر دھرنا، بارڈر مینجمنٹ حکام کی اہم ملاقات

منگل 24 اکتوبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلوچستان کے ضلع چمن میں پاک افغان بارڈر (باب دوستی) کے قریب بین الاقوامی شاہراہ پر گزشتہ 4 روز سے جاری احتجاج رنگ لے آیا ہے اور مسائل کے حل کے لیے پاک افغان حکام کے درمیان باضابطہ مشاورت کی گئی ہے۔

’احتجاجی دھرنا دینے والوں کا موقف ہے کہ پاکستان اور افغانستان میں آنے جانے کے لیے ویزا اور پاسپورٹ لازمی قرار دینے کا فیصلہ درست نہیں، اس دھرنے کی حمایت سرحدی تجارت سے وابستہ چھوٹے تاجروں اور مزدوروں کی جانب سے بھی کی جا رہی ہے‘۔

پاکستان بارڈر مینجمنٹ حکام اور طالبان حکومت کے بارڈر آفیشلز کے درمیان ایک فلیگ شپ میٹنگ کا انعقاد کیا گیا جس میں بارڈر مینجمنٹ کے معاملات زیر غور آئے۔

اس میٹنگ میں پاکستان کی جانب سے نمائندگی ڈپٹی کمشنر چمن راجہ اطہر عباس نے کی جبکہ ایف سی اسکاؤٹ کمانڈر چمن عمر جبار بھی موجود تھے۔

فلیگ شپ میٹنگ میں غیر قانونی افغان مہاجرین کے انخلا کے حوالے سے سہولیات کی فراہمی، بارڈر پر آمدورفت اور مریضوں کو درپیش مشکلات پر تفصیلی بات چیت ہوئی۔

نگراں صوبائی وزیر اطلاعات بلوچستان جان اچکزئی کے مطابق ون ڈاکیومنٹ رجیم اور لوکل کمیونیٹیز کو درپیش مسائل کے موثر حل کے لیے دونوں ملکوں کے درمیان اچھے ماحول میں مشاورت کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

ڈپٹی کمشنر چمن نے لوکل کمیونیٹیز کو درپیش مسائل کے موثر حل کے لیے اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کروائی۔

واضح رہے کہ پاک افغان شاہراہ پر چمن کے مقام پر آل پارٹیز لغڑی اتحاد اور دیگر سماجی تنظیموں کی جانب سے گزشتہ 4 روز سے احتجاجی دھرنا جاری ہے جس میں شہریوں سمیت مختلف سیاسی، قبائلی اور سماجی تنظیموں کے نمائندے شریک ہیں۔

شرکا کا موقف ہے کہ چمن بارڈر پر کسی صورت پاسپورٹ سسٹم رائج کرنا منظور نہیں کیا جائے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد پر چڑھائی کی کوشش کی گئی تو نقصان کی ذمے داری احتجاج کرنے والوں پر ہوگی، طارق فضل چوہدری

برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم کے والد انتقال کرگئے، وزیراعظم شہباز شریف کا اظہار افسوس

انتشار کی سیاست کو پذیرائی نہ ملی تو مذہبی جذبات کا سہارا، سیاسی کمزوری کو عقیدت کا رنگ دینے سے حقائق نہیں بدلتے

صدر مملکت نے انڈونیشین بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ڈاکٹر محمد علی کو نشان امتیاز ملٹری عطا کردیا

وزیراعظم شہباز شریف سے لبنانی وزیر داخلہ کی ملاقات، دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق

ویڈیو

پاکستان میں ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا میلہ، دنیا بھر سے ممتاز آئی ٹی ماہرین کی شرکت

کیا 27 ستمبر کا احتجاج پی ٹی آئی کے لیے خطرہ ہے، صحافیوں کو بلوچستان کیوں بلایا گیا؟

اداکاری جمال شاہ کی وجہ سے چھوڑی، میرے پاس تشدد کے ثبوت موجود ہیں، فریال گوہر

کالم / تجزیہ

جین زی ماضی کی طرف کیوں جھانک رہی ہے؟

ایک سانس کی قیمت

’ساڈا دل توڑ کے توں ویں پچھتاویں گا‘