غزہ میں اسرائیلی مظالم پر پریانکا گاندھی بھی بول پڑیں

اتوار 5 نومبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بھارت کی اپوزیشن جماعت کانگریس کی جنرل سیکریٹری پریانکا گاندھی نے بھی غزہ کی صورت حال پر خاموشی توڑ دی ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ’ایکس‘ پر اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہاکہ غزہ میں اس وقت صورت حال شرمناک اور ہولناک کے الفاظ سے آگے کی ہے۔

پریانکا گاندھی نے کہاکہ غزہ میں 10 ہزار افراد بمباری کے باعث موت کے منہ میں جا چکے ہیں، ان میں 5 ہزار تعداد صرف بچوں کی ہے۔

انہوں نے غزہ میں پناہ گزینوں کے کیمپوں، اسپتالوں اور ایمبولینسز کو بموں سے نشانہ بنانے کی مذمت کی ہے۔

پریانکا گاندھی نے دنیا کے مہذب ممالک کو نام نہاد قرار دیتے ہوئے کہاکہ یہ لوگ فلسطین میں نسل کشی کی حمایت کر رہے ہیں۔ اور مالی معاونت بھی کی جا رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں فوری جنگ بندی کی ضرورت ہے، اگر ایسا نہ کیا گیا تو عالمی برادری کے پاس کوئی اخلاقی جواز نہیں بچے گا۔

واضح رہے کہ اسرائیل اور فلسطین کی مزاحمتی تنظیم حماس کے درمیان 7 اکتوبر کو ہونے والی کشیدگی کے بعد سے اب تک اسرائیلی فوج کی غزہ پر بمباری جاری ہے۔

اسرائیلی فوج کی بمباری سے شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد تقریباً 10 ہزار ہو چکی ہے۔ جن میں 3 ہزار 900 بچے اور 2 ہزار 509 خواتین شامل ہیں۔

اقوام متحدہ سمیت کئی ممالک کے مطالبے کے باوجود اسرائیل کی ہٹ دھرمی برقرار ہے اور جنگ بندی سے انکار کیا جا رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا