عمران خان طاقت کے ذریعے صدارتی نظام نافذ کرنا چاہتا تھا، پرویز خٹک

ہفتہ 9 دسمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا و سربراہ پاکستان تحریک انصاف پارلیمنٹیرینز (پی ٹی آئی پی) پرویز خٹک نے کہا ہے کہ 2018 کے انتخابات کے بعد عمران خان نے مجھے صدر مملکت بنانے کی آفر کی تھی مگر میں نے انکار کر دیا، اس کے بعد اسد قیصر کو بھی کہا گیا مگر وہ بھی انکار ہو گئے۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ عمران خان نے مجھے وزیراعلیٰ بنا کر کوئی احسان نہیں کیا، ان کے پاس کوئی اور آپشن ہی نہیں تھا۔

پرویز خٹک نے کہاکہ پی ٹی آئی میں ڈکٹیٹر شپ تھی، عمران خان نے عوام کے ساتھ صرف جھوٹے وعدے کیے۔

انہوں نے کہاکہ عمران خان کے دور میں 2 بار جنرل باجوہ سے ملاقات کی اور توسیع کی پیشکش کی، ہمیں جو کہا جاتا تھا وہی کرتے تھے، پارٹی میں رہ کر کوئی لیڈر شپ کے خلاف کھڑا نہیں ہو سکتا۔ سیاستدان ہمیشہ موقع کی تلاش میں ہوتا ہے، مجھے جب موقع ملا تو سیاسی مستقبل کا فیصلہ کر لیا۔

سابق وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہاکہ 9 مئی کو جو کچھ ہوا اس کے ذمہ داروں کو سزا ملنی چاہیے۔ عمران خان کی جب سے حکومت گئی یہ ملک میں انتشار چاہتا تھا اور طاقت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کر کے صدارتی نظام نافذ کرنا چاہتا تھا۔

انہوں نے کہاکہ بلین ٹری سونامی کوئی کیس ہی نہیں، مالم جبہ کیس ہائیکورٹ نے ختم کیا، جبکہ بی آر ٹی ایشین بینک کی اسکیم تھی، میں بحیثیت وزیراعلیٰ صرف اس کے معاملات دیکھ رہا تھا۔

امریکا نے عمران خان کی حکومت کے خلاف کوئی سازش نہیں کی

پرویز خٹک نے کہاکہ امریکا نے عمران خان کی حکومت گرانے کے لیے کوئی سازش نہیں کی، چھوٹی موٹی باتیں ہوتی رہتی ہیں مگر سابق وزیراعظم نے سائفر کو پبلک کر کے اپنے حلف کی خلاف ورزی کی۔

انہوں نے مزید کہاکہ 190 ملین پاؤنڈ کے معاملے پر بھی ہمیں ایک بند لفافہ دکھا کر منظوری لی گئی اور بعد میں ہمیں حقائق کا پتا چلا۔

پرویز خٹک نے کہاکہ سابق پرنسپل سیکریٹری اعظم خان سارے تقرر و تبادلے کرتا تھا۔ صوبوں کے پاس کوئی اختیار نہیں تھا اسی لیے نتائج سامنے نہیں آ سکے۔

پارٹیاں بدلنا کوئی جرم نہیں، فضل الرحمان سے اتحاد نہیں ہو گا

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ پارٹیاں بدلنا کوئی جرم نہیں، میں نے صوبے کی خدمت کی ہے اور عوام کو مجھ پر اعتماد ہے۔

پرویز خٹک نے کہاکہ پی ٹی آئی میں بہت سارے لوگ ایسے ہیں جن کی اپنی کوئی حیثیت نہیں، یہ چھپتے پھر رہے ہیں۔

سابق وزیراعلیٰ نے کہا کہ تحریک انصاف کی الیکشن مہم جاری ہے، کسی پر کوئی پابندی نہیں، کسی پر کوئی کیس بھی ہے تو ضمانت ہو جاتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ ہمیں سیٹیں جیتنی ہیں امیدوار چاہے کوئی بھی ہو، اگر میرے بیٹے کو ووٹ ملتے ہیں تو وہی کھڑا ہو گا۔

آئندہ الیکشن میں اتحاد سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری مختلف لوگوں سے سیٹ ایڈجسٹمنٹ کے حوالے سے بات چیت جاری ہے مگر مولانا فضل الرحمان سے اتحاد نہیں ہو گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کشمیریوں کی حقِ خودارادیت کی جدوجہد کو جبر سے نہیں دبایا جا سکتا، اسحاق ڈار

مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ممکن نہیں، وزیراعظم شہباز شریف

صدر آصف زرداری کا اقوامِ متحدہ سے مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کے لیے فعال کردار ادا کرنے کا مطالبہ

نماز کی پابندی نے ہمایوں سعید کی زندگی کیسے بدل دی؟ اداکار کا بڑا انکشاف

انگلش کپتان ہیری کین فٹ بال کے بہترین کھلاڑی قرار، بیلن ڈی اور اپنے نام کرلیا

ویڈیو

5 باہمت بہنوں نے روایتی ذائقوں کو روزگار کا ذریعہ بنا لیا، کوئٹہ کے رامین ریسٹورنٹ کی منفرد کہانی

نہ چار دیواری، نہ سیکیورٹی، پنو عاقل کے 105 سال پرانے تھانے میں قانون کے محافظ کیسے کام کرتے ہیں؟

پشاور میں زیر زمین پانی کی سطح خطرناک حد تک کم، 2050 تک شدید بحران کا خدشہ

کالم / تجزیہ

27 اکتوبر، یوم سیاہ: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں