نگراں حکومت پنجاب کا ایک ہزار 112 نہروں کی بھل صفائی کا فیصلہ

اتوار 10 دسمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

نگراں حکومت پنجاب نے 10 سال بعد پنجاب کی 1 ہزار 112 نہروں کی بھل صفائی کا فیصلہ کیا ہے، جو کہ 26 دسمبر سے شروع ہوگی اور 20 جنوری تک جاری رہے گی۔ نگراں وزیر اعلیٰ پنجاب محسن نقوی نے ہدایت کی ہے کہ بھل صفائی کے ساتھ ساتھ نہروں کی مرمت پر بھی توجہ دی جائے۔

نگراں حکومت پنجاب نے تمام ڈویژنل کمشنرز کو نہروں کی بھل صفائی کی مانیٹرنگ کا ٹاسک سونپ دیا ہے۔ نگراں وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی ہے کہ بھل صفائی کے دوران کمشنرز فیلڈ میں رہیں گے اور تمام امور کی نگرانی کریں گے۔

وزیراعلی محسن نقوی نے نہری پانی کی چوری کے سدباب کے لیے مؤثر کارروائی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ انتظامی افسران پانی چوری کے سدباب کے لیے اپنے متعلقہ اضلاع میں مؤثرایکشن لیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی زیر صدارت اجلاس میں بھل صفائی کے پروگرام اور پانی چوری کی روک تھام کے لیے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ ایڈیشنل چیف سیکرٹری، چیئرمین پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ، سیکرٹریز، زراعت، آبپاشی، خوراک، اطلاعات، کمشنرلاہور اور محکمہ زراعت کے متعلقہ افسران نے اجلاس میں شرکت کی۔

صوبائی وزیر زراعت ایس ایم تنویر اورتمام ڈویژنل کمشنرزویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس میں شریک ہوئے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کینیڈا میں گوردوارے پر حملہ، مذہبی پیشوا سمیت 2 افراد زخمی، ملزم گرفتار

پاکستان اور ملائیشیا کا انسداد دہشتگردی و منشیات کے خلاف تعاون بڑھانے پر اتفاق

میانمار میں بدھ عبادت گاہ پر فوجی فضائی حملہ، 14 افراد ہلاک، 20 زخمی

وزیراعظم کا بگھی سواری پر سخت نوٹس، آئی جی اسلام آباد اور چیف کمشنر کو تحریری انتباہ

اٹلی جانے والی تارکین وطن کی کشتی تیونس کے ساحل پر الٹ گئی، 13 افراد لاپتا

ویڈیو

کرائے کے جوتے، 6 ہزار میٹر بلند چوٹی: 14 سالہ ملائکہ خلجی کی حیران کن کہانی

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

کالم / تجزیہ

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘