خیبر پختونخوا میں پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی فورسز نے دراندازی کی 2 بڑی کوششیں ناکام بناتے ہوئے 13 شدت پسند ہلاک کر دیے ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 28 اور 29 اپریل کو مختلف علاقوں میں ہونے والی کارروائیوں کے دوران بھارتی حمایت یافتہ فتنہ الخوارج سے تعلق رکھنے والے عناصر کو نشانہ بنایا گیا۔
ضلع مہمند میں سیکیورٹی فورسز نے سرحد پار سے دراندازی کرنے والے ایک گروہ کی نقل و حرکت کا بروقت سراغ لگایا اور مؤثر کارروائی کرتے ہوئے 8 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کارروائی کو انتہائی مہارت اور درستگی کے ساتھ انجام دیا گیا۔
اسی طرح ایک اور واقعہ شمالی وزیرستان میں پیش آیا جہاں سیکیورٹی فورسز نے دراندازی کی دوسری کوشش کو بھی ناکام بنا دیا۔ شدید فائرنگ کے تبادلے کے بعد مزید 5 شدت پسند مارے گئے۔
سیکیورٹی حکام کے مطابق یہ واقعات ایک بار پھر اس مؤقف کی تصدیق کرتے ہیں کہ افغان طالبان حکومت اپنی سرحدی ذمہ داریوں کو مؤثر انداز میں ادا کرنے میں ناکام رہی ہے۔
مزید پڑھیں: بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر
حکام نے مطالبہ کیا کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکا جائے اور اس میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کی جائے۔
سیکیورٹی فورسز نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ملک کی سرحدوں کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے جائیں گے۔
علاقے میں مزید دہشتگردوں کی موجودگی کے خدشے کے پیش نظر سرچ اور کلیئرنس آپریشنز جاری ہیں۔
ذرائع کے مطابق عزمِ استحکام مہم کے تحت دہشتگردی کے مکمل خاتمے کے لیے سیکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بھرپور کارروائیاں جاری رکھیں گے تاکہ ملک کو بیرونی حمایت یافتہ دہشتگردی سے پاک کیا جا سکے۔












