پی ٹی آئی انتخابی نشان بلّا واپس لینے کا فیصلہ کس عدالت میں چیلنج کرے گی؟

ہفتہ 23 دسمبر 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سینیئر رہنما بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی سے انتخابی نشان بلّا واپس لینا سازش کا حصہ ہے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ عمران خان ہمارے لیڈر ہیں اور رہیں گے، ابھی فیصلہ نہیں کیا کہ الیکشن کمیشن کا فیصلہ کہاں چیلنج کرنا ہے۔

بیرسٹر گوہر خان نے کہاکہ ہمارے پاس فیصلے کو چیلنج کرنے کے لیے پشاور ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ دونوں آپشن موجود ہیں۔

واضح رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے گزشتہ روز پی ٹی آئی کے انٹراپارٹی انتخابات کالعدم قرار دیتے ہوئے پی ٹی آئی سے انتخابی نشان بلّا واپس لے لیا تھا۔

اس سے قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان نے جب پی ٹی آئی کو انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کے احکامات دیے تھے تو بیرسٹر گوہر خان بلا مقابلہ چیئرمین منتخب ہو گئے تھے۔

پی ٹی آئی نے موقف اختیار کیا تھا کہ بیرسٹر گوہر خان کے خلاف کسی نے کاغذات جمع نہیں کرائے جس کی وجہ سے وہ بلامقابلہ منتخب ہوگئے۔

یہ بھی یاد رہے کہ بیرسٹر گوہر خان کے علاوہ پی ٹی آئی کے دیگر مرکزی عہدیداروں کا انتخاب بھی بلامقابلہ ہوا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

امریکا اور ایران کے درمیان براہ راست فوجی رابطہ قائم کرنے پر اتفاق ہوگیا، جے ڈی وینس

گارجین رپورٹ: کیا ایران امریکا معاہدہ بچانے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو لگام دیں گے؟

آزاد کشمیر انتخابات کے لیے مزید 5 امیدواروں کو مسلم لیگ ن کے ٹکٹ جاری

پاکستان اور ترکیہ کے درمیان توانائی کے شعبے میں تعاون بڑھانے کے لیے 3 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط

آئی بی ایم کا نیا کارنامہ: 100 ارب ٹرانزسٹرز کی گنجائش والی ناخن جتنی چپ

ویڈیو

آزاد کشمیر انتخابات: کون سے بڑے سیاسی کھلاڑی میدان میں ہوں گے؟

’پاکستان نے بطور ثالث دنیا میں امن پسندی کو تقویت دی‘، اسلام آباد کے شہریوں کی رائے

پاکستان اور کشمیر کا رشتہ مضبوط، تاریخی اور ناقابل تنسیخ، کسی صورت کمزور نہیں ہونے دیا جائےگا، سردار عتیق

کالم / تجزیہ

تجھے کون بچائے گا کالیا؟

مسکراہٹیں بکھیرنے والے ادیب کی داستانِ غم

بلوچستان: فیصلہ یہیں ہوگا