کیا ہمیں ایک اور نو مئی درپیش ہے؟

بدھ 10 جنوری 2024
author image

عمار مسعود

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بہت سے خوش گمان اور خوش بیان ابھی سے راگنیاں گانا شروع ہو گئے، بہت سے جوتشی ابھی سے کنڈلیاں ملانا شروع ہو گئے، بہت سے نجومی ابھی سے پیش گوئیاں کرنے لگے۔ کچھ سیاسی مفکرین بھی قیافے لگانے لگے۔ بعض ہوا کا رخ دیکھ کر فرمانے لگے کہ اگلا وزیراعظم نواز شریف ہی ہوگا۔ چوتھی دفعہ وزارت عظمیٰ کا ہما نواز شریف کے سر پر ہی بیٹھے گا اور مسلم لیگ ن  دو ہزار چوبیس کے عام انتخابات میں سادہ نہیں بلکہ دو تہائی اکثریت حاصل کرے گی۔

اگرچہ قرائن اس دعویٰ کےحق میں ہی ہیں۔ واقعات بھی ہوا کے رخ کو درست بتاتے ہیں۔ ملکی سیاست کی نہج کو دیکھا جائے تو نتائج بھی سمجھ میں آتے ہیں۔ مسلم لیگ ن کو الیکشن لڑنے کی سمجھ بھی ہے، اس کے لوگ حلقوں کی سیاست کو بھی خوب جانتے ہیں۔ وہ عوام کی رگ رگ سے بھی واقف ہیں اور اس وقت اسٹیبلشمنٹ کی نبض پر بھی ان کا ہاتھ ہے۔ عدلیہ کے فیصلے بھی ان کے حق میں آ رہے ہیں اور میڈیا ٹرائل بھی نہیں ہو رہا۔ یوں لگ رہا ہے کہ دو ہزار اٹھارہ کو ریورس گئیر لگ رہا ہے۔

لیکن ابھی جام اور ہونٹوں میں بہت فاصلہ باقی ہے۔ ابھی الیکشن ہونے اور وزیر اعظم کا حلف اٹھانے میں بہت سے مراحل باقی ہیں۔ ابھی فتنہ عمرانیہ کے اثرات ختم ہونے میں بہت سے مرحلے باقی ہیں۔ جو لوگ سمجھ رہے ہیں کہ اب سب کچھ ٹھیک ہوگیا، اب آگے ایک روشن رستہ ہے وہ کسی خوش گمانی میں مبتلا ہیں۔ ان کو اس بات کا ادراک ہی نہیں کہ اگلی سڑک پر سپیڈ بریکرز کی بھرمار ہے۔ اس کی وجہ نواز شریف یا عمران خان بالکل بھی نہیں ہیں۔ اس بات کو سمجھنا ہوگا کچھ تفصیل سے۔

اگر ہم اس بات کو جان سکیں کہ دو ہزار سترہ میں نواز شریف کی برطرفی اور اس کے بعد ہونے والے واقعات کی بنیادی وجہ کیا تھی تو یہ گتھی جلدی سلجھ جائے گی۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ کو نواز شریف سے  اختلاف تھا یا عمران خان سے بے حد الفت تھی۔ اس نفرت اور محبت کے بیوپار میں پاکستان کا سودا ہوتا رہا۔ یہ تصویر کا ایک عامیانہ رخ  ہے۔ یہ بہت سطحی سی بات ہے۔ یہ بات اتنی عام فہم ہے  کہ عام آدمی کے دماغ میں آ سکتی ہے لیکن یہ بات اتنی سادہ نہیں تھی ۔

اگر آج بھی آپ نواز شریف کے جرائم کو گننا شروع کریں تو نہ پاناما میں کچھ نکلا، نہ بیٹے سے تنخواہ لینا کوئی جرم تھا، نہ کرپشن کا کوئی داغ دامن پر تھا، نہ کسی ٹھیکے میں کوئی کمیشن پکڑا گیا۔ پہلے جنرل مشرف نے احتساب کیا پھر عمران خان اور جنرل باجوہ فائلیں کھنگالتے رہے مگر کچھ نہیں نکلا۔ اس کے باوجود نواز شریف کو بے عزت کر کے وزارت عظمیٰ سے نکال دیا گیا۔ اس ساری تفصیل کا نتیجہ یہ نکلا کہ نواز شریف کو سزا دینے کی وجہ کرپشن یا کوئی جرم نہیں تھا۔ اتنے برس گزر جانے کے بعد پتہ یہ چلا کہ نواز شریف کا واحد جرم سی پیک تھا۔

پاکستان امریکا کے شکنجے سے نکل کر چین کے ساتھ تعلقات استوار کر رہا تھا۔ احسن اقبال نے گیم چینجر منصوبے کا اتنا شور مچایا کہ اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ نے گیم ہی چینج کر دی۔ عمران خان کی ذہنی قابلیت کا انہیں بہت اچھی طرح اندازہ تھا۔ انہیں پتہ تھا  عمران خان نے اس ملک، معیشت، سماج اور خارجہ پالیسی کے ساتھ کیا کرنا ہے۔ وہ یہ سب جانتے تھے۔ انہیں یہ سب گوارا بھی تھا لیکن بس امریکا کے شکنجوں سے نکلنا گوارا نہ تھا۔ اسی لیے عمران خان کے دور میں سی پیک کو اتھارٹی بنایا گیا اور عاصم باجوہ المعروف پاپا جانز کو اس کا چیئرمین، جو شاہزیب خانزادہ کے ایک سوال پر اپنے سارے تمغوں سمیت ڈھیر ہوگئے۔ سی پیک پر کام رک گیا۔ عمران خان کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگا۔ میڈیا، عدالتیں، سوشل میڈیا سب مثبت رپورٹنگ پر لگ گئے۔ ہر مخالف آواز کو گالیوں اور دھمکیوں سے دبایا جانے لگا۔

یہ ماضی تھا جو اب گزر چکا ہے۔ اب حالات بدل چکے ہیں۔ اسٹیبشلنٹ اپنے تلخ تجربے سے تاریخی سبق سیکھ چکی ہے۔ عدلیہ کرپٹ ججوں سے نجات حاصل کر چکی ہے، نواز شریف پر مقدمات ختم ہو چکے ہیں، تاحیات نااہلی والی واردات ناکام ہو چکی ہے، ایوان فیلڈ والا کیس وقت کی دھول بن چکا ہے، عمران خان اپنے زہریلے بیانیے کے ساتھ جیل میں جا چکا ہے، تحریک انصاف تتر بتر ہو چکی ہے۔ انصافی بیانیے کی  بات اب شیر افضل مروت تک آ چکی ہے۔ کوئی دن ہے کہ انتخابی نشان ’بلا‘ بھی ہاتھ سے چھوٹ جائے گا۔

لگتا ہے قاضی، حافظ اور میاں ایک ہی پیج پر ہیں اور یہ پیج ہے جمہوریت کا اور تعمیر پاکستان کا۔ تاہم اس سب کچھ کے باوجود اس راہ میں بہت سی رکاوٹیں حائل ہیں۔ اب بھی جام اور لبوں میں بہت فاصلہ باقی ہے۔ اب بھی امریکا نواز غلامانہ ذہنیت والے لوگوں کی اس ملک میں کمی نہیں۔ وہ اسٹیبلشمنٹ کا حصہ بھی ہیں، عدالتوں میں بھی ہیں۔ میڈیا میں بھی گھس بیٹھیے ہیں اور سول سوسائٹی بھی انہی کے نام سے چل رہی ہے۔

حالات اس نہج پر پہنچ گئے ہیں، جنہیں سدھارتے ہوئے بہت وقت لگے گا لیکن جانے کیوں لگتا ہے کچھ ناعاقبت اندیش اس وقت حالات کو الیکشن سے پہلے مزید خراب کرنے کی کوشش کریں گے۔

انتخابات کے التوا سے کسی کو کچھ نہیں ملے گا مگر انتشار پھیلانے والوں کو فتنہ پردازی کا ایک موقعہ ضرور میسر آ جائے گا۔ جانے مجھے کیوں لگتا ہے کہ پاکستان کو الیکشن سے پہلے خاکم بدہن ایک اور نو مئی درپیش ہو گا لیکن یہ بات بھی یاد رکھنے کی ہے کہ  اس کے حامیوں کا حشر سانحہ نو مئی کرنے والوں سے بدتر ہو گا۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عمار مسعود کالم نگار، سیاسی تجزیہ کار، افسانہ نگار اور صحافی۔ کبھی کبھی ملنے پر اچھے آدمی ہیں۔ جمہوریت ان کا محبوب موضوع ہے۔ عوامی مسائل پر گہری نظر اور لہجے میں جدت اور ندرت ہے۔ مزاج میں مزاح اتنا ہے کہ خود کو سنجیدہ نہیں لیتے۔ تحریر اور لہجے میں بلا کی کاٹ ہے مگر دوست اچھے ہیں۔

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp