کینسر کا سامنا کرنے والے اسلم صاحب جب کراچی کے جناح اسپتال میں اپنے معالج کے کمرے سے باہر نکلے تو ان کے چہرے پر اطمینان نمایاں تھا۔ ڈاکٹر سے معائنے اور علاج کے طریقہ کار کے بارے میں تفصیلی معلومات حاصل کرنے کے بعد نہ صرف ان کے علاج کا فوری اور واضح لائحہ عمل تیار ہوچکا تھا بلکہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے ان کی تھیراپی کا آغاز بھی بغیر کسی غیرضروری تاخیر کے کیا جا رہا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: جناح اسپتال کراچی کا کارنامہ، روبوٹک سرجری کا کامیاب آغاز
شہر کے سب سے بڑے سرکاری شفاخانے، جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر (جے پی ایم سی) المعروف جناح اسپتال میں مصنوعی ذہانت سے معاون جدید تشخیصی اور شعاعی علاج کا نظام کینسر کے مریضوں کی تشخیص اور علاج کے مختلف مراحل میں ڈاکٹروں کی معاونت کررہا ہے جس سے علاج کے عمل میں تیزی اور زیادہ دقت پیدا ہونے کی امید ہے۔
ماضی قریب میں بھی جناح اسپتال کے شعبہ ریڈیولاجی اور آنکولوجی کے باہر ماضی میں مریضوں اور ان کے لواحقین کا ہجوم دکھائی دیتا تھا تاہم اب اس منظر میں ایک خاموش سی امید بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔ اسپتال میں نصب جدید مصنوعی ذہانت سے معاون تشخیصی اور شعاعی علاج کا نظام چند ہی سیکنڈز میں کینسر کے مرحلے کی نشاندہی کرنے میں مدد فراہم کررہا ہے جس کے لیے ماضی میں کئی دن اور پیچیدہ طبی ٹیسٹ درکار ہوتے تھے۔
اس جدید تکنیک اور مریضوں کو ملنے والی سہولیات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر طارق محمود نے کہا کہ جناح اسپتال میں مصنوعی ذہانت کا استعمال ہمارے لیے ایک تاریخی انقلاب سے کم نہیں۔
مزید پڑھیے: کراچی میں 24 گھنٹے علاج کی سہولت دینے والا اسپتال 4 ماہ میں فعال ہوگا، وزیر صحت مصطفیٰ کمال
ان کا کہنا تھا کہ کینسر کے علاج میں وقت کے ضیاع کو کم سے کم کرنے کے لیے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کو شامل کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مصنوعی ذہانت نہ صرف انتہائی ابتدائی مرحلے میں کینسر کی درست تشخیص میں مدد دیتی ہے بلکہ شعاعی علاج کے دوران کینسر سے متاثرہ خلیات کو ہدف بنانے میں 99 فیصد تک باریکی فراہم کرتی ہے تاکہ صحت مند خلیات کو نقصان سے محفوظ رکھا جاسکے۔
پروفیسر ڈاکٹر طارق محمود کے مطابق ہمارا مقصد غریب اور مستحق مریضوں کو دنیا کا جدید ترین علاج بغیر کسی مالی بوجھ کے فراہم کرنا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے ایک دن میں سینکڑوں مریضوں کی رپورٹس کا درست تجزیہ کیا جارہا ہے جس کے نتیجے میں ٹیسٹ اور علاج کے لیے طویل انتظار کا خاتمہ ہوچکا ہے۔
ڈاکٹر طارق محمود نے مزید بتایا کہ مصنوعی ذہانت کا مقصد ڈاکٹروں کا متبادل فراہم کرنا نہیں بلکہ ان کے فیصلوں کی صلاحیت اور دقت میں اضافہ کرنا ہے تاکہ غلطی کے امکانات کو کم سے کم کیا جاسکے۔
مزید پڑھیں: کراچی کی فراموش شدہ تامل کمیونٹی: جناح اسپتال کے عقب میں آباد ایک انوکھا تمدنی گوشہ
جناح اسپتال میں کینسر کے علاج کے لیے مصنوعی ذہانت کا یہ استعمال پاکستان کے شعبہ صحت میں ایک نیا باب رقم کررہا ہے جہاں عام شہریوں کو بین الاقوامی معیار کی جدید طبی سہولیات مفت دستیاب ہورہی ہیں۔ دیکھیے یہ ویڈیو رپورٹ۔













