ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی، 18 امیدواروں اور لوکل گورنمنٹ کے چیئرمین و ڈسٹرکٹ چیئرمین کو جرمانے

جمعرات 25 جنوری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

انتخابات 2024 کے لیے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے کارروائیاں جاری ہیں، اب تک 18 امیدواروں اور لوکل گورنمنٹ کے چیئرمین و ڈسٹرکٹ چیئرمین کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر جرمانے کیے جا چکے ہیں۔

ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر کوہاٹ نے 2 بار نوٹس جاری ہونے کے باوجود عدم حاضری کی بنا پر کاروائی کرتے ہوئے چیئرمین تحصیل کونسل گمبٹ ساجد اقبال کو 50 ہزار روپے جرمانہ کیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر کوہاٹ کو سوشل میڈیا کے ذریعے معلوم ہوا کہ تحصیل چئیرمین ساجد اقبال این اے 35 کوہاٹ سے امیدوار شہریار خان آفریدی اور پی کے 90 اور پی کے 92 کے امیدواروں کے لیے انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔

ساجد اقبال نے ورکرز کنونشن میں بھی شرکت کی جو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے، 17 اور 18 جنوری کو انہیں طلبی کے نوٹس جاری کیے گئے لیکن اس کے با وجود وہ ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر کے دفتر میں پیش نہیں ہوئے، جس پر انہیں 50 ہزار جرمانہ عائد کیا گیا۔

دوسری جانب ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن کے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر لوئر چترال نے پی کے 2 لوئر چترال کے آزاد امیدوار فتح الملک علی ناصر کو 50 ہزار روپے جرمانہ کیا ہے، امیدوار کا جرمانہ سرکاری خزانہ میں جمع کرکے چالان پیش کردیا ہے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق امیدوار فتح الملک علی ناصر نے ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر لوئر چترال کے دفتر میں پیش ہوکر وضاحت پیش کی جسے غیر تسلی بخش قرار دیا گیا اور انہیں جرمانہ کیا گیا۔

اس کے علاوہ پنجاب میں ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر فیصل آباد نے ضابطہ اخلاق کی شق 26 کی خلاف ورزی پر امیدوار برائے پی پی 107 سلطان علی خان کو 5 ہزار روپے جرمانہ کیا۔

چاروں صوبوں اور اسلام آباد میں ممنوعہ تشہیری ہورڈنگز اور مواد بھی ہٹایا جارہا ہے ۔

چاروں صوبوں میں اب تک مختلف خلاف ورزیوں پر امیدواران و دیگر کو 64 نوٹس جاری کیے گئے ہیں،اب تک مجموعی طور پر 18 امیدواران اور لوکل گورنمنٹ کے چیئرمین و ڈسٹرکٹ چیئرمین کو جرمانے ہو چکے ہیں۔

انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزیوں  پر الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئٹہ میں بھی کارروائیاں جاری ہیں، کوئٹہ شہر کے مختلف علاقوں میں لگائے گئے جھنڈے اور پینا فلیکس  اتار دیے گئے ہیں۔

ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق امیدواروں کی جانب سے اپنی تشہیر کے لیے لگائے گئے جھنڈے اور پینا فلیکس ضابطہ اخلاق کی شق 29 کی خلاف ورزی یے، الیکشن مانیٹرنگ ٹیموں اور ضلعی انتظامیہ نے  غیر قانونی انتخابی مواد کو ہٹا دیا ہے۔

ترجمان الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کے لیے  جاری کردہ ضابطہ اخلاق کے مطابق تمام سرکاری املاک عمارتوں،  کھمبوں، پلوں وغیرہ پر پینافلیکس،  بل بورڈز سمیت کسی بھی قسم کا انتخابی مواد لگانا ممنوع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

سپریم کورٹ کا اہم آئینی فیصلہ: نیب مقدمات میں اپیلیں اور ضمانت کی درخواستیں وفاقی آئینی عدالت ہی سنے گی

پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، پیٹرول 3 روپے 66 پیسے، ڈیزل 4 روپے 80 پیسے فی لیٹر مہنگا

گلوبل سپر لیگ: لاہور قلندرز نے ڈیزرٹ وائپرز کو 38 رنز سے شکست دے دی

کیا مصنوعی ذہانت انسان کے قابو سے باہر ہو رہی ہے؟ اوپن اے آئی کے ماڈل نے ٹیسٹ کے دوران حدود توڑ دیں

مودی کا مؤقف مسترد، کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج میں تیزی لانے کا اعلان، حکومت نے پھر مہلت مانگ لی

ویڈیو

پاکستان کا دوٹوک انتباہ، حوثی باغیوں کی خیر نہیں، ایران کا بڑا اعلان، امریکا کی چال بھی ناکام

مودی نے طلبا کے سامنے گھٹنے ٹیک دیے، بھارتی ایجنسی کس طرح پاکستانی صحافیوں کو استعمال کرنے کی کوشش کررہی ہے؟

قدیم انجینیئرنگ سے دنیا حیران، 2 ہزار سال پرانا چینی تالا جسے کھولنے کے لیے محض چابی نہیں بڑا دماغ بھی چاہیے

کالم / تجزیہ

قائداعظم کے بارے میں سازشی تھیوریز نہ گھڑیں

مشرقِ وسطیٰ میں پاکستان کا ابھرتا ہوا کردار

شفاف انتخابات کا فریب