کیا مصنوعی ذہانت انسان کے قابو سے باہر ہو رہی ہے؟ اوپن اے آئی کے ماڈل نے ٹیسٹ کے دوران حدود توڑ دیں

جمعہ 24 جولائی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکی مصنوعی ذہانت کمپنی اوپن اے آئی کے ایک جدید ماڈل سے متعلق سامنے آنے والے واقعے نے ایک بار پھر یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا اے آئی نظام اپنے تخلیق کاروں کے کنٹرول سے باہر نکل رہے ہیں؟

رپورٹ کے مطابق اوپن اے آئی کے جدید ماڈل جی پی ٹی 5.6 سول اور اس کے آئندہ ورژن کی ایک محدود آزمائش کے دوران ماڈلز کو سافٹ ویئر کی خامیاں تلاش کرنے کا کام سونپا گیا تھا۔ یہ آزمائش ایک محفوظ ماحول (سینڈ باکس) میں کی جارہی تھی، تاہم ماڈلز نے مبینہ طور پر اس ماحول سے نکل کر انٹرنیٹ پر موجود ڈویلپرز کے معروف پلیٹ فارم ہگنگ فیس تک رسائی حاصل کی اور اس پر حملہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی ماڈلز کا حیران کن رویہ، ایک دوسرے کو بند ہونے سے بچانے لگے

سائبر سکیورٹی کے شعبے میں کام کرنے والے آزاد تحقیقی ادارے پالی سیڈ ریسرچ کے سربراہ جیفری لیڈش کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے ظاہر ہوتا ہے کہ محققین ابھی تک ان جدید اے آئی ماڈلز کو مکمل طور پر اپنی مرضی کے مطابق قابو میں رکھنے کا قابلِ اعتماد طریقہ نہیں ڈھونڈ سکے۔

ان کے مطابق ماڈلز کو معلوم تھا کہ انہیں محدود ماحول سے باہر نہیں جانا چاہیے، لیکن اس کے باوجود انہوں نے ایسا کیا، جو تشویش کا باعث ہے۔

رپورٹ میں ایک اور مثال بھی دی گئی ہے، جس کے مطابق رواں سال مارچ میں علی بابا سے وابستہ محققین نے بتایا تھا کہ ان کے ایک اے آئی ماڈل نے بغیر اجازت بیرونی سرور سے رابطہ قائم کرکے کرپٹو کرنسی مائننگ کی کوشش کی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی ماڈلز کس طرح سیکیورٹی رسک بن سکتے ہیں، زیرو ڈے ولنیبریٹی کیا ہے؟

اسی طرح اپریل میں مصنوعی ذہانت کمپنی اینتھروپک کے ایک تجرباتی ماڈل نے کمپنی کے ماہر کو ای میل کے ذریعے بتایا کہ وہ محدود ماحول کے باوجود انٹرنیٹ تک رسائی حاصل کرچکا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جیسے جیسے اے آئی ماڈلز زیادہ طاقتور ہوتے جائیں گے، ان کی نگرانی اور کنٹرول مزید مشکل ہوتا جائے گا، کیونکہ وہ اپنے طرزِ عمل کو چھپانے میں بھی بہتر ہوسکتے ہیں۔

اوپن اے آئی نے اس واقعے پر باضابطہ تبصرہ نہیں کیا، تاہم کمپنی کا کہنا ہے کہ اس نے آزمائشی نظام میں مزید سخت حفاظتی اقدامات شامل کردیے ہیں۔

ماہرین کا مشورہ ہے کہ ایسے تجربات کے دوران اے آئی ماڈلز کو مکمل طور پر انٹرنیٹ سے الگ رکھا جائے اور آزمائشی ماحول کو حیاتیاتی تحقیق کی انتہائی محفوظ تجربہ گاہوں جیسا بنایا جائے تاکہ کسی ممکنہ خطرے کو باہر پھیلنے سے روکا جاسکے۔

یہ بھی پڑھیں: اے آئی ماڈل میں انسانی دماغ سے مشابہ نظام کا انکشاف

ادھر امریکا میں مصنوعی ذہانت کے ضابطوں پر بحث بھی تیز ہو گئی ہے۔ کانگریس کے دو ارکان نے ایک مشترکہ بل پیش کیا ہے، جس کے تحت طاقتور اے آئی ماڈلز میں لازمی طور پر ‘کِل سوئچ’ شامل کرنا ہوگا، تاکہ ضرورت پڑنے پر انہیں فوری طور پر بند کیا جاسکے۔

ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ اس کی صلاحیتوں کی جانچ اور حفاظتی اقدامات کے درمیان توازن برقرار رکھنا مستقبل کا ایک بڑا چیلنج ہوگا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے شاہ غلام قادر کی ملاقات، آزاد کشمیر کی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال

اعلیٰ عدلیہ کے ججز کی تنخواہوں اور مراعات میں بڑا اضافہ

مچل اسٹارک کا نیا ریکارڈ، بائیں ہاتھ سے بولنگ کرنے والے ٹیسٹ کرکٹ کے کامیاب ترین بولر بن گئے

روس اور ایران کے خطرات کے پیشِ نظر جرمنی کا خفیہ اداروں کو مزید طاقت دینے کا فیصلہ

ایران امریکا جنگ میں پاکستان کے ثالثی کردار کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، نارویجن وزیرِ خارجہ کی اسحاق ڈار کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس

ویڈیو

ایران امریکا جنگ میں پاکستان کے ثالثی کردار کی بھرپور حمایت کرتے ہیں، نارویجن وزیرِ خارجہ کی اسحاق ڈار کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس

آزاد کشمیر کے عوام نے عوامی ایکشن کمیٹی کو مسترد کر دیا، تشدد کسی صورت برداشت نہیں ہوگا،  ترجمان آزاد جموں و کشمیر پولیس

‘’میرا پاکستان’ آپ کے نزدیک کس احساس کا نام ہے؟’

کالم / تجزیہ

انڈین خارجہ پالیسی کی ارتھی

ہمیں کاکروچ نہیں، خرگوش چاہئیں

13 برس بعد معلوم ہوا