بھارت میں پیپر لیک تنازے پر شروع ہونے والا جین زی کا احتجاج تاحال جاری ہے، نوجوانوں کی جماعت ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے وزیراعظم نریندر مودی کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ جب تک وزیرِ تعلیم مستعفی نہیں ہوتے، احتجاج ختم نہیں کیا جائے گا بلکہ اسے مزید وسعت دی جائے گی۔
جماعت کے ترجمان کے مطابق حکومتی وفد اور ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ کے رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں حکومت کو دوٹوک انداز میں آگاہ کر دیا گیا ہے کہ اگر وزیرِ تعلیم نے استعفیٰ نہ دیا تو احتجاج کا دائرہ ملک بھر تک پھیلا دیا جائے گا۔
حکومت نے مطالبات پر جواب دینے کے لیے مہلت مانگ لی
ترجمان نے بتایا کہ مذاکرات کے دوران حکومتی نمائندوں نے مظاہرین کے خلاف درج مقدمات واپس لینے پر آمادگی ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت نے نوجوانوں کے مطالبات پر باضابطہ جواب دینے کے لیے آئندہ روز دوپہر تک کا وقت طلب کیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی سماجی کارکن سونم وانگچک کی حالت تشویشناک، کاکروچ پارٹی کا ملک گیر بھوک ہڑتال کا اعلان
ان کے مطابق احتجاجی قیادت حکومت کے جواب کا انتظار کرے گی، تاہم مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت میں آئندہ لائحۂ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔
مودی کا بیان مسترد، احتجاج جاری رکھنے کا اعلان
نوجوانوں کی جماعت نے وزیراعظم نریندر مودی کے پیپر لیک سے متعلق بیان کو ناکافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ محض بیانات سے مسئلہ حل نہیں ہوگا بلکہ ذمہ داروں کے خلاف مؤثر کارروائی اور نظامی اصلاحات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ طلبہ کے مستقبل سے جڑے معاملے پر حکومت کو عملی اقدامات کرنا ہوں گے، بصورتِ دیگر احتجاج مزید شدت اختیار کرے گا۔
چیف جسٹس کا مؤقف بھی سامنے آ گیا
دوسری جانب بھارتی چیف جسٹس نے طلبہ پر مبینہ پولیس تشدد کی ویڈیوز نہ دیکھنے پر سامنے آنے والی تنقید کے بعد اپنا مؤقف پیش کیا ہے۔
انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے سامنے اس معاملے پر کوئی آئینی درخواست دائر نہیں کی گئی تھی، بلکہ صرف ایک وکیل کا خط موصول ہوا تھا۔ ان کے بقول کسی وکیل کے خط کو آئینی درخواست کا درجہ نہیں دیا جا سکتا، اس لیے عدالتی کارروائی کا آغاز ممکن نہیں تھا۔
مزید پڑھیں:کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاجی کیمپ میں ایک خاموش لائبریری
بھارت میں مختلف مسابقتی امتحانات میں مبینہ پیپر لیک کے الزامات کے بعد طلبہ اور نوجوانوں میں شدید بے چینی پائی جا رہی ہے۔ متاثرہ امیدواروں کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت برقرار رکھنے اور ذمہ دار عناصر کے خلاف سخت کارروائی کے بغیر نوجوانوں کا اعتماد بحال نہیں ہو سکتا۔
اسی تناظر میں مختلف طلبہ تنظیموں اور نوجوانوں کے گروپوں نے احتجاجی تحریک شروع کی، جس کے دوران شفاف تحقیقات، امتحانات کے نظام میں اصلاحات، ذمہ داروں کے خلاف قانونی کارروائی اور متعلقہ حکام سے جواب دہی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔
حالیہ مذاکرات کے باوجود فریقین کے درمیان مکمل اتفاق رائے سامنے نہیں آ سکا، جس کے باعث احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔














