’راجہ گدھ‘ کی مصنفہ بانو قدسیہ کو دنیا سے گزرے 7 برس بیت گئے

اتوار 4 فروری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اردو کی معروف ناول نگار، افسانہ اور ڈرامہ نویس بانو قدسیہ کی برسی آج منائی جا رہی ہے۔

بانو قدسیہ کے ناول ’راجہ گدھ ‘ کا شمار اردو کے مقبول ترین ناولوں میں ہوتا ہے۔

بانو قدسیہ نے پاکستان ٹیلی ویژن کے لیے بھی متعدد ڈرامے لکھے جنہیں بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔

اردو زبان کی معروف ادیب بانو قدسیہ کا تعلق مشرقی پنجاب کے ضلع فیروز پور سے تھا، وہ 28 نومبر 1928کو پیدا ہوئیں۔ انہوں نے کنیئرڈ کالج اور گورنمنٹ کالج سے تعلیم حاصل کی۔

بانو قدسیہ پاکستان کے مشہور و معروف ادیب اشفاق احمد کی اہلیہ تھیں۔ ان کی 2 درجن سے زیادہ کتب ہیں جن میں ناول، افسانے، مضامین اور سوانح شامل ہیں۔ بازگشت، امربیل، دوسرا دروازہ، تمثیل اور حاصل گھاٹ جیسی کہانیاں ان کی پہچان بنیں۔

بانو قدسیہ کو حکومت نے تمغہ امتیاز سے نوازا تھا

بانو قدسیہ نے ٹی وی کے لیے کئی سیریل اور طویل ڈرامے لکھے جن میں دھوپ جلی، خانہ بدوش، کلو اور پیا نام کا دیا شامل ہیں۔

ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت نے بانو قدسیہ کو تمغہ امتیاز سے بھی نوازا۔ بانو قدسیہ 4 فروری 2017 کو جہانِ فانی سے کوچ کر گئی تھیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آزاد کشمیر کے وزیراعظم نامزد ہونے والے بیرسٹر افتخار گیلانی کون ہیں؟

آزاد کشمیر میں حکومت سازی کی جانب اہم پیشرفت، بیرسٹر افتخار گیلانی وزیراعظم نامزد

کالعدم ایکشن کمیٹی کے شرپسندوں کی فائرنگ، رینجرز اہلکار شہید

پمز اسپتال واقعہ ایک حادثہ، وزیراعظم اور وزیر کا کام ایک اسپتال کو دیکھنے کا نہیں ہونا چاہیے، مصطفیٰ کمال

پمز آتشزدگی واقعے کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی قائم، نوٹیفکیشن جاری

ویڈیو

مولانا فضل الرحمان اور عمران خان کے حامی اپوزیشن اتحاد قبول کریں گے؟ پشاور کے شہریوں کی رائے

پی ٹی آئی اپنے بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے کوئی کوشش نہیں کر رہی، ایڈووکیٹ فیصل چوہدری

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ تہران، ایک بار پھر ایران امریکا مذاکرت شروع ہونے کے امکانات روشن

کالم / تجزیہ

عام آدمی کے بیٹوں کا نوحہ

‘میں واپس آؤں گا’ سے تازہ ہونے والے دکھ

اِکّو اَلف تیرے دَرکار