اسرائیل میں عدالتی اختیارات محدود کرنے کیخلاف تاریخی احتجاج

اتوار 12 مارچ 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیل کے مختلف شہروں میں گذشتہ دس ہفتوں سے جاری حکومت مخالف احتجاج میں شدت آ گئی ہے۔

لاکھوں مظاہرین نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی انتہائی دائیں بازو کی حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ کے اختیارات کو محدود کرنے کے عزائم کے خلاف تاریخی احتجاج رقم کیا ہے۔

اسرائیل کی وزارت قانون کی جانب سے پارلیمانی قانون میں متعارف اصلاحات کے بعد سپریم کورٹ اسرائیلی پارلیمنٹ کے فیصلوں کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں دے سکے گی۔

اس متنازعہ قانون کے ناقدین کا مؤقف ہے کہ اس مجوزہ قانون کو اسرائیلی وزیر اعظم اپنی بچت کے لیے استعمال کریں گے کیوں کہ نیتن یاہو کے خلاف کرپشن کے مقدمات سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہیں۔

دوسری جانب نیتن یاہو نے اس بات سے انکار کیا ہے کہ قانونی اصلاحات کا ان سے مقدمے سے کوئی تعلق ہے۔

لگ بھگ دو لاکھ اسرائیلی شہریوں نے تل ابیب کی سڑکوں پر حکومت مخالف مظاہرے میں شرکت کی / تصویر بشکریہ گیٹی امیجز

میڈیا رپورٹس کے مطابق ہفتے کے روز اس مجوزہ قانون سازی کے خلاف تل ابیب سمیت مختلف شہروں میں شہریوں نے ریکارڈ تعداد میں گھر سے نکل کر سپریم کورٹ کے اختیارات محدود کرنے کے حکومتی فیصلے کے خلاف سراپا احتجاج بن گئے۔

احتجاجی ریلی میں خطاب کرتے ہوئے اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ نے کہا کہ اسرائیل تاریخی بحران سے گزر رہا ہے جس میں اسے مسلسل دہشت گردی کے خطرات کا سامنا ہے۔ ملکی معیشت تباہی سے دوچار جب کہ پیسہ باہر منتقل ہو رہا ہے۔

’ایران نے سعودی عرب کے ساتھ ایک نئے معاہدے پر دستخط کر دیے ہیں لیکن ہماری حکومت کو اسرائیلی جمہوریت کو کچلنے کے سوا کسی چیز کی پرواہ نہیں۔‘

حکومت کو اسرائیلی جمہوریت کو کچلنے کے سوا کسی چیز کی پروا نہیں، اسرائیل کے اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ / فائل فوٹو

تل ابیب میں شریک مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ عدالتی اصلاحات نہیں بلکہ اسرائیل کو مکمل آمریت کی طرف دھکیلنے کا منصوبہ ہے اور وہ آئندہ نسل کے لیے جمہوریت سے آراستہ اسرائیل چھوڑنے کے خواہاں ہیں۔

دوسری جانب اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ نے حکومت پر مظاہرین سے مذاکرات پر زور دیتے ہوئے حکومتی اتحاد سے قانون سازی کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے بھی ان اصلاحات کو جمہوریت کی بنیادوں کے لئے خطرہ قرار دیا۔

اسرائیلی صدر آئزک ہرزوگ کا پارلیمنٹ سے متنازعہ قانون سازی روکنے کا مطالبہ / فائل فوٹو

تاہم اسرائیلی پارلیمنٹ کی لا کمیٹی کے سربراہ سمچا روٹمین نے قانونی اصلاحات پر ووٹنگ سے قبل اتوار سے بدھ تک اس کے کچھ حصوں پر روزانہ سماعت کا شیڈول بنایا ہے۔

وزیر انصاف یاریو لیون کے مطابق حکومتی اتحاد اس قانون کو 2 اپریل کو پارلیمنٹ سے منظور کرانے کا ارادہ رکھتا ہے۔

دوسری جانب نئی قانون سازی سے اسرائیل کی کابینہ کو یہ اختیار مل جائے گا کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلوں کو کالعدم قرار دے سکے۔

اصلاحات کے مطابق اسرائیلی پارلیمنٹ کے 120 ارکان میں سے اگر 61 ارکان سپریم کورٹ کے کسی بھی فیصلے کے خلاف ووٹ دیں گے تو سپریم کورٹ کا فیصلہ کالعدم ہو جائے گا۔

 

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ملک کے بیشتر علاقوں میں گرمی اور حبس برقرار، بالائی علاقوں میں بارش اور چند مقامات پر موسلادھار بارش کا امکان

مجوزہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز میں ایران کو آنے والے بحری جہازوں پر کنٹرول مل سکتا ہے، رائٹرز

وزیراعظم شہباز شریف آج 2 روزہ سرکاری دورے پر سعودی عرب روانہ ہوں گے

اسحاق ڈار کی اردن کے شاہ عبداللہ دوم سے ملاقات، فلسطین اور مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تبادلۂ خیال

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

ویڈیو

سولر انقلاب کے بعد پاکستان کا اگلا بڑا امتحان، ماہرین کا بیٹری اسٹوریج اور اسمارٹ گرڈز کی اہمیت پر زور

آزاد کشمیر میں اقتدار کی دوڑ تیز، ن لیگ کی سادہ اکثریت، وزارت عظمیٰ کے لیے بڑے نام سامنے آگئے

صومالی وزیرِ دفاع کی نیول اور ایئر ہیڈکوارٹرز آمد، دفاعی شراکت داری، تربیت اور استعدادِ کار بڑھانے پر اتفاق

کالم / تجزیہ

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟

پہلا دروازہ

خبردار، نظام اسی مہینے میں ری سیٹ ہوسکتا ہے