امریکا: حوثیوں کے لیے ایرانی ہتھیار لیجانے کے الزام میں 4 مشتبہ پاکستانی گرفتار

جمعہ 23 فروری 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا میں 4 مشتبہ پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے جن پر الزام ہے کہ وہ مبینہ طور پر حوثی باغیوں کے لیے ایرانی ساختہ ہتھیاروں کی اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی ایک رپورٹ کے مطابق، گزشتہ ماہ بحیرہ عرب میں موجود امریکی فوج نے ان ملزمان کو مبینہ طور پر ایرانی ساختہ مشتبہ ہتھیار لے جانے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔ اس آپریشن میں 2 امریکی نیوی اہلکار بھی ہلاک ہوگئے تھے۔

گزشتہ روز ریاست ورجینیا کے شہر رچمونڈ کی ڈسٹرکٹ عدالت نے ان چاروں ملزمان پر فرد جرم عائد کی تھی جن سے متعلق شکایت میں بتایا گیا تھا کہ وہ ایرانی ساختہ میزائلوں کے پرزے لے کر جا رہے تھے، ان میزائلوں کو حوثی باغیوں نے اپنے حالیہ حملوں میں استعمال کیا ہے، جبکہ ملزمان کے قبضے سے پاکستانی شناختی کارڈ برآمد ہوئے تھے۔

’ملزمان کو معلوم تھا کہ ہتھیار حوثی باغیوں کے لیے ہیں‘

ڈپٹی اٹارنی جنرل لیزا موناکو نے اپنے ایک جاری بیان میں کہا ہے کہ ملزمان ایسے ایرانی ہتھیاروں کی اسمگلنگ میں ملوث پائے گئے ہیں جنہیں حوثی باغی امریکی فوج اور تجارتی جہازوں پر حملوں کے لیے استعمال کرسکتے تھے۔

رپورٹ کے مطابق، محمد پہلوان پر وارہیڈ سمیت میزائل کے جدید پرزے اسمگل کرنے کا الزام ہے۔ ان پر یہ بھی الزام ہے کہ انہیں معلوم تھا کہ حوثی باغی بحیرہ احمر اور ارد گرد کے پانیوں میں تجارتی اور بحری جہازوں کے خلاف ان ہتھیاروں کو استعمال کریں گے۔ محمد پہلوان پر امریکی کوسٹ گارڈز کو غلط معلومات فراہم کرنے کا بھی الزام ہے۔

پہلوان کے دیگر مشتبہ ساتھیوں میں محمد مظہر، غفران اللہ اور اظہار محمد بھی شامل ہیں۔ ان تمام افراد پر بھی غلط معلومات فراہم کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

پہلوان کی وکیل، اسسٹنٹ سپروائزری فیڈرل پبلک ڈیفنڈر ایمی آسٹن نے کہا ہے کہ پہلوان کی جمعرات کو امریکی ڈسٹرکٹ کورٹ میں ابتدائی پیشی ہوئی تھی۔ انہیں منگل کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

ملزمان نے سفر کا آغاز کہاں سے کیا؟

امریکی پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ امریکی بحریہ نے 11 جنوری کو صومالیہ کے ساحل کے قریب بحیرہ عرب میں ایک چھوٹے جہاز پر چھاپہ مارا تھا جس میں 14 افراد سوار تھے، جس کی تلاشی کے دوران مشتبہ ایرانی ساختہ ہتھیار اور ایسے پرزے برآمد ہوئے تھے جو درمیانی رینج کے بیلیسٹک میزائلوں اور اینٹی شپ میزائلوں کو بنانے میں استعمال ہوتے ہیں۔

امریکی بحریہ تمام 14 افراد کو گرفتار کرکے اپنے ساتھ ورجینیا لے گئی تھی جہاں 4 افراد کو مبینہ طور پر ہتھیاروں کی اسمگلنگ کے الزام میں جبکہ دیگر 10 کو چشم دید گواہان کے وارنٹس کے تحت گرفتار کیا گیا۔

ایف بی آئی کے مطابق، امریکی بحریہ کے اہلکاروں نے اپنے حلف نامے میں کہا ہے کہ جہاز میں سوار افراد نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے سفر کا آغاز ایران سے کیا جبکہ صرف ایک شخص نے ابتدا میں اصرار کیا تھا کہ وہ پاکستان سے روانہ ہوئے ہیں۔

حلف نامے میں کہا گیا ہے کہ جہاز کے عملے میں شامل افراد نے ایران کے پاسداران انقلاب کے ایک رکن کے ساتھ سیٹلائٹ فون کے ذریعے متعدد بار رابطہ کیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم