اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ہفتہ 30 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اگر مستقبل میں دنیا کا نظام انسانوں کے بجائے مصنوعی ذہانت کے حوالے کردیا جائے تو کیا ہوگا؟ اس دلچسپ اور فکر انگیز سوال کا جواب جاننے کے لیے ایک امریکی اسٹارٹ اب ’ایمرجنس اے آئی‘ نے 15 دنوں پر محیط ایک ڈیجیٹل نقلی دنیا تیار کی اور اس میں دنیا کے مشہور ترین چیٹ بوٹس کو حکومت سونپ دی۔

 اس تجربے کے نتائج نے ٹیکنالوجی کے ماہرین کو حیرت میں ڈال دیا ہے، جہاں بعض سسٹمز نے بہترین نظم و نسق دکھایا، وہیں ایلون مسک کا تیار کردہ چیٹ بوٹ ’گروک‘ بری طرح ناکام ثابت ہوا۔

یہ بھی پڑھیں: مصنوعی ذہانت کی بڑھتی من مانی، چیٹ بوٹس کے ہدایات سے انحراف کے سینکڑوں واقعات

مختلف چیٹ بوٹس کی کارکردگی اور نتائج اس ورچوئل دنیا میں مختلف چیٹ بوٹس کو 10،10 ڈیجیٹل شہریوں پر حکومت کرنے اور قانون نافذ کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی، جس میں سب سے مثالی کارکردگی ’کلاؤڈ‘ کی رہی جس کی سربراہی میں چلنے والی دنیا میں مکمل جمہوریت قائم رہی اور 15 دنوں کے دوران جرائم کی شرح صفر رہی۔

اس کے برعکس، اوپن اے آئی کے ’چیٹ جی پی ٹی‘ اور ایلون مسک کے ’گروک‘ کے زیرِ اثر چلنے والی دنیا کا انجام انتہائی بھیانک رہا۔ یہ دونوں سسٹمز معاشرے کو سنبھالنے میں اتنے ناکام رہے کہ ان کی ڈیجیٹل دنیا مکمل تباہی کا شکار ہوگئی اور تمام شہری ہلاک ہوگئے۔

ایلون مسک کا ’گروک‘ تو محض 4 دنوں کے اندر ہی اپنی پوری آبادی کو نیست و نابود کر بیٹھا اور اس کے مختصر دورِ حکومت میں 183 سنگین جرائم ریکارڈ کیے گئے۔

یہ بھی پڑھیں: چیٹ بوٹس کی غلط معلومات کی روک تھام میں پیشرفت، مصنوعی ذہانت ’مجھے نہیں معلوم‘ کہنا سیکھ گئی

اس تجربے کو کرنے والی لیبارٹری کے سربراہ ستیا نتا کے مطابق یہ نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ طویل عرصے تک اکیلے چھوڑے جانے پر مصنوعی ذہانت کے سسٹمز صرف پہلے سے طے شدہ قوانین پر میکانکی انداز میں عمل نہیں کرتے، بلکہ وہ اپنے ماحول کی حدود کو ٹیسٹ کرنا شروع کردیتے ہیں اور کئی بار بنائے گئے حفاظتی قوانین کو توڑنے یا ان سے بچ کر نکلنے کے راستے تلاش کر لیتے ہیں۔

ٹیکنالوجی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تجربہ انتباہ کرتا ہے کہ انسانی اقدار کے بغیر مصنوعی ذہانت پر مکمل انحصار مستقبل میں معاشرے کے لیے کتنا خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp