نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام تک پاکستان کی اسرائیل سے متعلق پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی اور پاکستان ابراہم معاہدوں (ابراہم اکارڈز) میں شامل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
Deputy Prime Minister and Foreign Minister, Senator Mohammad Ishaq Dar, held a wide-ranging interactions with his counterparts from different countries during his visit to the United Nations (May 26-28)
Details below@MIshaqDar50 @Asimiahmad @ForeignOfficePk pic.twitter.com/FTXq2WX24e
— Permanent Mission of Pakistan to the UN (@PakistanUN_NY) May 29, 2026
عرب نیوز کے مطابق واشنگٹن میں پاکستان کے سفیر رضوان سعید شیخ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے ان خبروں کو مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ پاکستان پر ابراہم معاہدوں میں شمولیت کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی کئی دہائیوں سے واضح اور مستقل ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں:اسحاق ڈار اور مارکو روبیو ملاقات: امریکی وزیر خارجہ کا علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کا اعتراف
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان اس وقت تک اسرائیل کو تسلیم نہیں کرے گا جب تک قبل از 1967 سرحدوں پر ایک آزاد فلسطینی ریاست قائم نہیں ہو جاتی اور القدس الشریف (مشرقی یروشلم) اس کا دارالحکومت نہیں بنتا۔ ان کے بقول یہی پاکستان کی سرکاری اور تاریخی پالیسی ہے، جس پر تمام حکومتیں عمل کرتی رہی ہیں۔
Thank you to #TeamPakistan at the Embassy of Pakistan in Washington DC @PakinUSA, with Ambassador Rizwan Saeed Sheikh @AmbRizSaeed and his dedicated team for their support during my short but highly productive visit to DC.
Grateful as always to @ForeignOfficePk for their… pic.twitter.com/BMmQFDvk9Q
— Ishaq Dar (@MIshaqDar50) May 29, 2026
انہوں نے زور دے کر کہا کہ فلسطین کے مسئلے پر پاکستان کا مؤقف اصولی، مستقل اور غیر مبہم ہے، جبکہ فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت اور آزاد ریاست کے قیام کی حمایت جاری رہے گی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حال ہی میں پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور دیگر مسلم ممالک پر زور دیا تھا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں تعلقات معمول پر لانے کے وسیع تر عمل کے تحت ابراہم معاہدوں میں شمولیت پر غور کریں۔
یہ بھی پڑھیں:اسحاق ڈار کی نیویارک میں چینی وزیر خارجہ سے اہم ملاقات
پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات موجود نہیں ہیں۔ ملک میں فلسطینی کاز کی وسیع عوامی حمایت پائی جاتی ہے اور مختلف سیاسی و مذہبی جماعتیں فلسطینی مسئلے کے منصفانہ حل کے بغیر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی مخالفت کرتی رہی ہیں۔
مبصرین کے مطابق اسحاق ڈار کے حالیہ بیان نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ فلسطین کے معاملے پر پاکستان کی پالیسی میں کسی تبدیلی کی گنجائش موجود نہیں اور اسلام آباد اپنے روایتی مؤقف پر قائم ہے۔












