سی پیک کا مرکزی شہر گوادر سیلاب کی نذر، مگر پرسان حال کوئی نہیں

پیر 4 مارچ 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

موسمی تغیرات کے باعث بلوچستان خصوصاً مکران گزشتہ کئی دہائیوں سے طوفانی بارشوں کی تباہ کاریوں کی زد میں ہے، یہاں کے باشندوں کو ہرسال سینکڑوں جانوں اور بھاری مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم اس صورتحال کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے حکومتی سطح پر اب تک خاطرخواہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔

امداد کے منتظر شہری

حکومت اور این جی اوز کے منتظر متاثرین سیلاب اپنی مدد آپ کےتحت بحالی کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی طرح گزشتہ دنوں بلوچستان کے ضلع گوادر جسے سی پیک کا ماتھے کا جھومر اور مستقبل کا سنگاپور کہا جاتا ہے، وہاں طوفانی بارشوں کے باعث درجنوں مکانات  ڈوب گئے  ہیں۔

موسمی تغیرات کے باعث بارشیں بھی معمول سے ہٹ کر ہونے لگی ہیں۔انتظامی و حکومتی دعوؤں کے باوجود متعلقہ ادارے ان پر قابو پانے کے لیے اربن فلڈنگ کی پیشگی منصوبہ بندی نہیں کرتے، جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوتی ہے۔ اس بار بھی پانی گھروں اور دکانوں میں داخل ہوگیا۔ 8کے قریب مکانات مکمل طور پر منہدم ہوگئے، جب کہ بڑی تعداد میں گھروں کو جزوی نقصان پہنچا۔ نتیجتاً شہری نقل مکانی پر مجبور ہوگئے اور رات کھلے آسمان تلے گزاری۔

موصلاتی  نظام درہم برہم

طوفانی بارشوں کے سبب شہر میں بجلی، انٹرنیٹ اور دیگر موصلاتی  نظام درہم برہم اور موبائل فون نیٹ ورک معطل ہوگیا، جب کہ شدید سمندری ہواؤں کی وجہ سے کھلے سمندر میں موجود کشتیاں بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکیں۔

اسوقت ساحلی شہر گوادر کی سڑکیں نہروں کامنظر پیش کر رہی ہیں۔ گوادر ایئرپورٹ پر 6 انچ پانی کھڑا ہےم جس کی وجہ سے پروازیں روک دی گئیں ہیں۔ بارش سےگرد و نواح کے اضلاع تربت میں بھی بہت تباہی ہوئی ہے۔

انتظامیہ برساتی پانی کی مکمل نکاسی میں ناکام

29 فروری کو شروع ہوانی والی بارش نے پورٹ سٹی کو مکمل طور ڈوب دیا، انتظامیہ برساتی پانی کی مکمل نکاسی میں اب تک  کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔

گوادر میں 16 گھنٹے کی مسلسل بارش نے تباہی پھیلانے  دی ہے۔ مقامی رہنماؤں نے اسےآفت زدہ علاقہ قرار دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ملکی و بین الاقوامی ادارے اس ضمن میں شہریوں کی مدد کے لیے پہنچیں۔ بارش سے پیدا ہونے والی تشویشناک صورت حال پر این ڈی ایم اے اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کو ہنگامی اقدامات کرنے چاہییں۔

’ڈی واٹرنگ‘

اس بارے میں گودار کے ڈپٹی کمشنر نے اورنگزیب بادینی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ  وہ متاثرین کی بحالی اور شہر مین پانی کی نکاسی کے لیے ’ڈی واٹرنگ‘ کر رہے ہیں جب کہ شہر سے پانی کے مکمل انخلا میں میں وقت درکار ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پی سی بی کا ڈومیسٹک سیزن 27-2026 کے لیے کرکٹرز کی فٹنس پالیسی کا اعلان

گرفتار شرپسند کا کالعدم کمیٹی کے مسلح گروپ سے تعلق اور رینجرز پر فائرنگ میں ملوث ہونے کا اعتراف

پیپلز پارٹی آزاد کشمیر الیکشن میں شکست کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار ہے، ن لیگ کا بلاول بھٹو کی تنقید پر جواب

ایپل نے آئی او ایس 26.6 جاری کر دیا، سیکیورٹی اور کارکردگی مزید بہتر بنادی گئی

آئندہ مالی سال کے لیے دیت کی رقم ایک کروڑ 93 لاکھ 52 ہزار 390 روپے مقرر

ویڈیو

امریکی کانگریس کے وفد کی اسحاق ڈار سے ملاقات، دو طرفہ تعلقات مزید مضبوط بنانے پر اتفاق

آزاد کشمیر میں عوامی مینڈیٹ کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے، دھاندلی کے الزامات کی شفاف تحقیقات ہونی چاہیے، بلاول بھٹو

جنوب مغربی جاپان میں 7.1 شدت کا زلزلہ، سونامی الرٹ جاری

کالم / تجزیہ

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی

جاوید ہاشمی جواب دیں

فخر درانی۔ ایک دلیر صحافی