امریکا میں چینی کمپنیوں کے خلاف کریک ڈاؤن، بائٹ ڈانس کو ٹک ٹاک سے علیحدگی کے لیے مہلت

بدھ 13 مارچ 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

امریکا میں چینی کمپنیوں کے خلاف کریک ڈاؤن میں ایک اور اضافہ سامنے آگیا ہے۔

امریکی ہاؤس کمیٹی کی جانب سے ٹک ٹاک کریک ڈاؤن کا بل منظور کیا گیا ہے۔

غیرملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی ہاؤس کمیٹی میں پیش کیے گئے ٹک ٹاک کریک ڈاؤن بل کی حمایت میں 50 افراد نے ووٹ ڈالا، جبکہ مخالفت میں کسی نے ووٹ نہیں ڈالا۔

امریکی ہاؤس کمیٹی میں پاس کی گئی قرارداد میں چینی کمپنی بائٹ ڈانس کو مہلت دی گئی ہے کہ وہ 6 ماہ کی مدت میں ٹک ٹاک سے علیحدگی اختیار کرلے، بصورت دیگر اسے پابندی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اس سے قبل امریکی سینیٹ نے سال 2022 میں ایک بل منظور کیا تھا جس میں سرکاری ڈیوائسز پر چینی ویڈیو ایپ ٹاک ٹاک کی پابندی کا ذکر تھا۔

امریکی سینیٹ کی جانب سے سیکیورٹی خدشات پر وائس ووٹ کے ذریعے وفاقی ملازمین کے سرکاری ڈیوائسز پر چینی ایپ ٹک ٹاک کے استعمال پر پابندی کا بل منظور کیا تھا۔

واضح رہے کہ امریکا اور چین ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے کچھ عرصے سے آمنے سامنے ہیں، اس سے قبل چینی کمپنی ہواوے کو بھی امریکا کی جانب سے پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

اسلام آباد، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں جاری، الیکشن کمیشن کی پیشرفت رپورٹ جاری

مودی مخالف ویڈیوز پر میٹا انڈیا کے سربراہ کے خلاف مقدمہ درج

فیفا بحران تیز: ورلڈ کپ میں نجی سرمایہ کاری کے منصوبے پر اعلیٰ مشیر مستعفی

بلوچستان: سورینج کوئلہ کان 34 خاندانوں کے چراغ گل کرچکی، 2 مزدوروں کی تلاش جاری

پی سی بی کا نیا ورک لوڈ سسٹم فاسٹ بولرز کے لیے فائدہ مند ثابت ہوگا، نسیم شاہ

ویڈیو

پاکستان میں اچھی حکمرانی کے لیے انتظامی ری سیٹ کی ضرورت ہے تو ہو جانی چاہیے، ڈی جی آئی ایس پی آر

دہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دی

حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

کالم / تجزیہ

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور

نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘