وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی کے لاہور میں احتجاج کے دوران پولیس وین میں خود بیٹھنے کا واقعہ سامنے آیا ہے، جس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے وزیراعلیٰ کو پنجاب پولیس کی جانب سے مبینہ طور پر اغوا کیے جانے کے تاثر پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ احتجاج کے دوران سہیل آفریدی خود پولیس وین میں جاکر بیٹھ جاتے ہیں۔ پولیس اہلکار انہیں گاڑی سے باہر آنے کا کہتے ہیں، تاہم وزیراعلیٰ وین سے اترنے کے بجائے اندر ہی بیٹھے رہتے ہیں۔
سہیل آفریدی رنگ بازی کرنے پولیس کی گاڑی میں خود بیٹھ گیا، پولیس باہر نکلنے کا کہا، نہ نکلنے پر پولیس نے گاڑی بھگا دی،
اب کہتا ہے کہ مجھے اغواء کر لیا 🤣🤣🤣 pic.twitter.com/kTgq6oilfA— اویس گھمن (@ChAwaisGhumman) September 14, 2026
بعد ازاں پولیس وین کا ڈرائیور گاڑی آگے بڑھا دیتا ہے، جس پر سہیل آفریدی چلتی گاڑی سے باہر آجاتے ہیں۔
پولیس وین سے باہر آنے کے بعد وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی لکشمی چوک پہنچے، جہاں وہ فٹ پاتھ پر بیٹھ گئے اور کارکنوں کے ہمراہ احتجاج میں شریک رہے۔
لاہور: سہیل آفریدی پولیس ڈالے سے نکل کر لکشمی چوک پہنچ گئے pic.twitter.com/cxG1OmDMo7
— Soban Iftikhar Raja (@soban_iftikhar1) September 14, 2026
واقعے کی ویڈیو منظرعام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر مختلف تبصرے سامنے آرہے ہیں۔
بعض صارفین کا کہنا ہے کہ جب وزیراعلیٰ خود پولیس وین میں جاکر بیٹھے اور اہلکاروں کے کہنے کے باوجود باہر نہیں آئے تو اسے گرفتاری قرار دینے سے قبل واقعے کے تمام پہلوؤں کو سامنے رکھنا چاہیے۔
دوسری جانب لاہور میں وزیراعلیٰ کی احتجاجی سرگرمیوں کے دوران پولیس مختلف مقامات پر متحرک رہی۔ سڑکوں پر پولیس کی موجودگی اور احتجاجی کارکنوں کی نقل و حرکت کے باعث شہریوں کو آمدورفت میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
لاہور کے بعض شہریوں نے بھی وزیراعلیٰ کے احتجاجی دورے پر ناراضی کا اظہار کیا۔
شہریوں کا کہنا تھا کہ سیاسی جماعتوں کو احتجاج کا حق حاصل ہے، تاہم اس کے نتیجے میں عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، کاروبار اور آمدورفت متاثر نہیں ہونی چاہیے۔














