کورونا کے وار : 133 افراد میں وائرس کی تصدیق، 15کی حالت تشویشناک

جمعہ 17 مارچ 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کورونا ایک بار پھر سر اٹھانے لگا ہے۔ ایک دن میں 133 نئے کیسز سامنے آگئے۔ مثبت کیسز کی شرح 2 اعشاریہ 70 تک پہنچ گئی۔ 15 مریضوں کی حالت تشیویشناک ہے۔

قومی ادارہ صحت کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ، ملک بھر میں کورونا کے 4 ہزار 917 ٹیسٹ کیے گئے۔ جن میں سے 133 افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ 15 مریضوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

این سی او سی نے کورونا کی نئی اقسام کے پھیلاؤ کا خدشہ ظاہر کر دیا۔30 اپریل تک رش والی جگہوں پر ماسک پہننا لازمی قرار دیدیا۔

این آئی ایچ حکام کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں مثبت کیسز کی شرح 2 اعشاریہ 70 تک پہنچ گئی ۔ سب سے زیادہ اسلام آباد میں شرح 6 اعشاریہ 46۔ لاہور میں 5 اعشاریہ 36۔ راولپنڈی میں ایک اعشاریہ 52 جب کہ فیصل آباد میں کیسز کی شرح 1 اعشاریہ 49 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے۔

دوسری جانب این سی او سی حکام کا کہنا ہے کہ کورونا کا نیا ویرینٹ دنیا بھر میں دوبارہ پھیل رہا ہے۔ 30 اپریل تک رش والی جگہوں پر ماسک لازمی پہن کر جائیں اس کے علاوہ اسپتالوں اور دیگر ہلیتھ کیئر سینٹرز میں بھی ماسک کا استعمال لازمی کریں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

چینی روبوٹس نے دوڑ کاعالمی ریکارڈ تو توڑ دیا، لیکن اصل امتحان اب شروع ہوگا!

میر رضا کیس: سندھ کابینہ نے تحقیقات کے لیے جوڈیشل کمیشن بنانے کی منظوری دیدی

لاہور: حبیب جالب کی بیٹی کا ڈھابہ ہٹانے پر تنازع، انتظامیہ نے ماڈل ریڑھی دینے کی یقین دہانی کرا دی

ایشین کرکٹ کونسل الیکشن، تاریخ رقم ہو گئی، بھارت کو شکست، پاکستان نے تینوں نشستیں جیت لیں

تیزاب حملے کا شکار ڈاکٹر ماہ نور ناصر کے لیے بڑا اعزاز، اہم سڑک ان کے نام سے منسوب کردی گئی

ویڈیو

چینی روبوٹس نے دوڑ کاعالمی ریکارڈ تو توڑ دیا، لیکن اصل امتحان اب شروع ہوگا!

ٹرمپ کی ایران کیخلاف معاشی جنگ تیز کرنے کی تیاری، تہران نے جوابی کارروائی کی دھمکی دے دی

پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کی پبلک سیفٹی ایپ، خصوصی افراد کے لیے مؤثر سہولت

کالم / تجزیہ

گر آنکھ چھلک پڑے تو …… معاف کرنا

سفید جادو، مثبت اور مددگار

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟