معروف انقلابی شاعر حبیب جالب کی بیٹی طاہرہ حبیب نے اپنی بہنوں اور بچوں کی روزی روٹی کے لیے اقبال ٹاؤن کی کریم بلاک مارکیٹ میں کھانے کا ڈھابہ قائم کیا، تاہم لاہور انتظامیہ نے اگلے ہی روز اسے ہٹوا دیا۔
طاہرہ حبیب نے بتایا کہ وہ کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کے بجائے اپنے لیے باعزت روزگار کمانے کی کوشش کررہی ہیں۔
مزید پڑھیں: قوتِ گویائی و سماعت سے محروم باہمت راحت بی بی، ڈھابہ چلا کر خاندان کی کفالت کرنے لگیں
انہوں نے کہاکہ ماضی میں پی سی او پر کام کیا، بعد ازاں قسطوں پر گاڑی لے کر کریم اور اوبر بھی چلائی، تاہم مسلسل بڑھتی ہوئی پیٹرول کی قیمتوں کے باعث اس کام سے مناسب آمدن باقی نہیں رہی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی صورتحال کے پیش نظر انہوں نے گھر میں کھانا تیار کرکے فروخت کرنے کا فیصلہ کیا اور کریم بلاک مارکیٹ میں ڈھابہ قائم کیا۔
طاہرہ حبیب کے مطابق جمعرات کو ڈھابہ لگانے کے بعد ایک دن میں قریباً 2800 روپے کی آمدن ہوئی، تاہم اہلکاروں نے اسے فوری طور پر ہٹوا دیا۔
طاہرہ حبیب نے بتایا کہ انہوں نے جون میں ڈپٹی کمشنر لاہور کو ماڈل ریڑھی بازار میں ریڑھی فراہم کرنے کے لیے درخواست بھی دی تھی، تاہم انہیں تاحال کوئی جواب نہیں ملا۔
ان کا کہنا تھا کہ ڈھابے کے لیے خریدا گیا تمام سامان ادھار پر لیا گیا تھا، جو اب گھر میں پڑا ہے، جبکہ وہ گھر میں بغیر کسی آمدن کے بیٹھنے پر مجبور ہیں۔
طاہرہ حبیب نے موقف اختیار کیا کہ ایک شہری ہونے کے ناطے انہیں روزگار کمانے کے حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔
اس حوالے سے ڈپٹی کمشنر لاہور کے ترجمان حارث علی نے کہاکہ حکومتی پالیسی کے مطابق تجاوزات کے خلاف زیرو ٹالرنس ہے اور کسی کو بھی اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے بتایا کہ طاہرہ جالب کی ماڈل ریڑھی کے لیے دی گئی درخواست پر غور کیا جا رہا ہے اور انہیں قانونی طور پر مخصوص جگہ پر ماڈل ریڑھی فراہم کرکے کام کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
ترجمان کے مطابق ہر کمرشل ایریا میں ریڑھی یا ڈھابہ لگانے کے لیے مخصوص جگہ مختص کی گئی ہے۔
طاہرہ حبیب نے مزید بتایا کہ ڈھابہ ہٹانے کے دوران اہلکاروں نے ان سے کہا کہ پہلے بینر پر مریم نواز کی تصاویر لگائیں اور تحریری اجازت حاصل کریں، جس کے بعد انہیں کام کرنے کی اجازت دی جائے گی۔
انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کے اس دعوے کا حوالہ دیتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر خواتین ان کی ریڈ لائن ہیں تو بطور عورت انہیں روزگار سے کیوں روکا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ لاہور سمیت پنجاب بھر میں تجاوزات کے خلاف مہم جاری ہے، جس کے تحت پنجاب انفورسمنٹ اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی (پیرا) فورس کی جانب سے کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔
مزید پڑھیں: لاہور کا ڈھابہ نما چھوٹا پی سی ہوٹل، لوگ دور دراز سے یہاں کیوں آتے ہیں؟
دوسری جانب تاجروں اور ریڑھی لگانے والوں کی جانب سے روزگار ختم ہونے کی شکایات بھی سامنے آ رہی ہیں۔
طاہرہ جالب کا کہنا ہے کہ ان کے والد معروف انقلابی شاعر حبیب جالب نے اپنی شاعری کے ذریعے حکمرانوں کے جبر کا سامنا کیا تھا، جبکہ اب وہ خودداری کے ساتھ زندگی گزارنے کی کوشش کی سزا بھگت رہی ہیں۔













