دنیا میں سب سے لمبی زلفوں والی حسینہ نے لمبے اور مضبوط بالوں کا راز بتادیا

منگل 23 اپریل 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

یوکرین کی راپنزیل عالیہ نے سب سے لمبے بال رکھنے کا عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا ہے اور ان کا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں شامل ہوگیا ہے۔ انہوں نے یہ ریکارڈ گزشتہ روز ایک اطالوی ٹی وی شو میں شرکت کرکے بنایا۔

راپنزیل کے بالوں کی لمبائی 257.33 سینٹی میٹر (8 فٹ 5.3 انچ) ہے جو کہ کسی بھی زندہ فرد (خاتون) کے بالوں کی لمبائی کا سب سے بڑا ریکارڈ ہے۔ راپنزل کا قد 165 سینٹی میٹر (5 فٹ 4 انچ) ہے اور ان کے بال ان کے قد سے 3 فٹ زیادہ لمبے ہیں، حتیٰ کہ ان کے بال دنیا کے طویل القامت شخص سلطان کوسین سے بھی لمبے ہیں۔ سلطان کوسین کا قد 251 سینٹی میٹر (8 فٹ 2.8 انچ) ہے۔

35 سالہ راپنزیل عالیہ اب سلواکیہ میں رہتی ہیں۔ وہ ایک آرٹسٹ اور گرافک ڈیزائنر ہیں۔ وہ باقاعدگی سے اپنی ویڈیوز انسٹاگرام اور یوٹویب پر شیئر کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی اپنے بال نہیں کٹوائے البتہ انہیں مضبوط اور صحت مند رکھنے کے لیے بالوں کی ٹرمنگ ضرور کرتی ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی ہے کہ ان کے بالوں کی بدولت لوگ انسانی اور قدرتی خوبصورتی سے متاثر ہوسکیں گے۔

راپنزیل کا کہنا ہے کہ ان کی والدہ اور نانی کے بھی بہت لمبے بال تھے اور وہ ان دونوں کے علاوہ دیومالائی کہانی کی ہیروئن ’راپنزیل‘ سے متاثر ہیں جس کے ساتھ اکثر اوقات ان کا موازنہ کیا جاتا ہے۔

لمبے بالوں اور ان کی حفاظت کا کیا راز ہے؟

راپنزیل نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ وہ اپنے بالوں کو ہفتے میں ایک بار دھوتی ہیں جس میں انہیں آدھا گھنٹہ لگتا ہے البتہ اگر انہوں نے ہیئر ماسک لگانا ہو تو اس میں 2 گھنٹے صرف ہوتے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ وہ اپنے بالوں پر ہیئر ڈرائیر استعمال نہیں کرتیں، ان کو خشک ہونے میں 24 گھنٹے لگتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بال دھونے کے ایک دن بعد اور ان کے خشک ہونے پر ہی وہ اپنے بالوں میں کنگھی کرتی ہیں جس میں ایک گھنٹہ لگتا ہے جبکہ عام دنوں میں کنگھی کرنے میں آدھا گھنٹہ صرف ہوتا ہے۔

راپنزیل کا کہنا تھا کہ وہ اپنے بالوں کی حفاظت اور صحت کے لیے چند سادہ سے اصولوں پر عمل کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’میں ہیئر کلر کا استعمال نہیں کرتی بلکہ قدرتی پروڈکٹس کا استعمال کرتی ہوں، مہندی کا استعمال بہت کم کرتی ہوں، بالوں پر قدرتی ماسک اور آئل لگاتی ہوں، کبھی بھی گیلے بالوں میں برش نہیں کرتی اور نہ ہی ہیئر ڈرائیر کا استعمال کرتی ہوں۔‘

راپنزیل نے مزید بتایا کہ وہ دو منہ بالوں کو باقاعدگی سے کاٹتی ہیں اور بالوں کی صحت کے لیے صحت افزا خوراک کا استعمال کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا، ’میں وٹامنز لیتی ہوں اور سر کی جلد کا مساج کرتی ہوں، اس کے علاوہ کبھی کبھار سمندر کا رخ کرتی ہوں اور اپنے بالوں کو معدنیات بھرے پانی میں بھگوتی ہوں۔‘

چونکہ راپنزیل کے بال ضرورت سے زیادہ لمبے ہیں اور کھلے رہیں تو فرش پر پھیل جاتے ہیں، لہٰذا وہ انہیں سنبھالے رکھنے کے لیے بالوں کا جوڑا بناکر رکھتی ہیں۔ لیکن اپنے سوشل میڈیا چینلز پر ویڈیوز بنانے کے لیے وہ اپنے بالوں کو کھول دیتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ لوگ ان کے بالوں کو دیکھ کر حیران ہوجاتے ہیں اور ان کے ساتھ تصاویر بنوانے کی درخواست کرتے ہیں۔ راپنزیل کہتی ہیں کہ انہیں یہ سب دیکھ کر بہت اچھا محسوس ہوتا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس بھارت کی ایک 46 سالہ خاتون نے 14 سال کی عمر سے بال نہ کٹوا کر سب سے لمبے بال رکھنے کا عالمی ریکارڈ اپنے نام کیا تھا۔ بھارتی خاتون سمیتا سریواستو کے بالوں کی لمبائی 7 فٹ 9 انچ تھی اور ان کا نام گنیز ورلڈ ریکارڈ میں درج کیا گیا تھا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پنجاب میں کرپشن سے متعلق اپنے مؤقف پر قائم ہوں، قانونی نوٹس کا بھرپور جواب دوں گا، چوہدری سالک حسین

پاکستان اور برطانیہ نے افغانستان میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کو عالمی امن کے لیےسنگین خطرہ قرار دے دیا

قائداعظم ٹرافی: محمد رضوان کی ناقابلِ شکست ڈبل سینچری، پشاور کی فیصل آباد کے خلاف گرفت مضبوط

وفاقی حکومت کا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا اعلان

جے ڈی وینس نے وسط مدتی انتخابات میں شکست کی اصل وجہ ایران جنگ، مہنگائی اور ٹرمپ کی اسرائیل پالیسی کو قرار دےدیا

ویڈیو

پشاور میں 11 ہزار مین ہولز کے ڈھکن غائب، شہریوں کی زندگیاں خطرے میں، انتظامیہ فنڈز کی منتظر

مڈٹرم انتخابات کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستان پالیسی کیا ہوگی؟

فوڈ سبسڈی پروگرام سے ساڑھے 7 کروڑ افراد مستفید، خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کا پیکیج منظور

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا