ایوان نہیں میدان، فیصلہ ہوگیا، مولانا فضل الرحمان

جمعرات 9 مئی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ انہوں نے طے کرلیا ہے کہ اب  فیصلہ ایوان کے بجائے میدان میں ہوگا۔

وہ پشاور میں جلسے سے خطاب کر رہے تھے۔ مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ میں جس جگہ کھڑا ہوں دلیل کے ساتھ کھڑا ہوں۔ مجھے کیا ضرورت ہے کہ آج 10 لاکھ لوگوں کو لیکر کھڑا ہوں۔ کہا جاتا ہے کہ الیکشن میں فوج کا کوئی کردار نہیں۔میں بھی پھر آپکو بتانا چاہتا ہوں کہ آئین اور قانون میں کوئی رولز نہیں ہے کہ فوج سیاست پر بات کریں۔

مولانا فضل الرحمان افواج پاکستان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی وردی پہن کر مجھ پر رعب ڈالنا چاہتا ہے یہ اس کی بھول ہے۔مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ فوج کو اب قبائلی علاقوں سے نکلنا ہوگا۔ ہمیں امن دینے کے نام پر قبائل کو تباہ و برباد کردیا گیا۔

انہوں کہا کہ ہم نے فیصلہ کرلیا ہے کہ اب ایوان نہیں میدان میں مقابلہ کریں گے، جب تک فضل الرحمان زندہ ہے وہ خاموش نہیں بیٹھے گا۔اس موقع پر مولانا فضل الرحمان نے یکم جون کو  مظفر گڑھ جنوبی پنجاب میں عوامی اسمبلی منعقد کرنے کا اعلان کیا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

ایران نے پاکستانی پرچم بردار مزید 20 جہازوں کو ہرمز سے گزرنے کی اجازت دے دی، اسحاق ڈار کا انکشاف

مشرق و سطیٰ کشیدگی: آج اسلام آباد میں پاکستانی، سعودی، ترکیہ اور مصری وزرائے خارجہ کی اہم بیٹھک ہوگی

لاہور جنرل اسپتال میں کامیاب طبی کارروائی، 3 ماہ کے بچے کے معدے سے لوہے کا واشر نکال لیا گیا

خطے کی صورتحال پر چہار فریقی اجلاس،  مصری وزیر خارجہ پاکستان پہنچ گئے

’پاک سعودی دفاعی معاہدہ محض مالی یا وقتی تعلق نہیں بلکہ فعال حکمت عملی کا حصہ ہے‘

ویڈیو

عمران خان کی آنکھ نہیں بلکہ پاکستان کے بارے میں ان کی سوچ اور نظر ہی خراب ہے، رکن خیبر پختونخوا اسمبلی سونیا شاہ

اسرائیل میں نیتن یاہو پر دباؤ، جے شنکر کی وجہ سے مودی حکومت پھر متنازع صورتحال میں مبتلا

گلگت بلتستان، جہاں پاک فوج کے منصوبے ترقی کی نئی داستان لکھ رہے ہیں

کالم / تجزیہ

مانیں نہ مانیں، پاکستان نے کرشمہ تو دکھایا ہے

ٹرمپ کے پراپرٹی ڈیلر

کیا تحریک انصاف مکتی باہنی کے راستے پر چل رہی ہے؟