ایبولا اور ہنٹا وائرس کے خطرات، سعودی عرب نے زائرین کے تحفظ کے لیے ہائی الرٹ جاری کردیا

جمعہ 22 مئی 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سعودی عرب کی پبلک ہیلتھ اتھارٹی ’وقایہ‘ نے شہریوں، مقیم افراد اور حج زائرین کی صحت و سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ایبولا اور ہنٹا وائرس سے متعلق عالمی سطح پر ہونے والی تبدیلیوں کی نگرانی شروع کردی ہے۔

وقایہ نے بتایا ہے کہ ملک کا وبائی امراض کی نگرانی کا نظام کسی بھی ممکنہ عوامی صحت کے خطرے سے نمٹنے کے لیے پوری صلاحیت کے ساتھ کام کررہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کانگو میں ایبولا وبا شدت اختیار کرگئی، عالمی ادارۂ صحت کا ہنگامی انتباہ

عالمی صحت کے اداروں کے ساتھ مل کر، ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو اور یوگنڈا میں پھیلنے والی ایبولا کی وباء کے ساتھ ساتھ ہنٹا وائرس کی صورتحال کا بھی گہرا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ایبولا کی وباء کو بین الاقوامی تشویش کی پبلک ہیلتھ ایمرجنسی قرار دیے جانے کے بعد سعودی عرب نے داخلی راستوں پر حفاظتی اقدامات مزید سخت کردیے ہیں۔

کانگو سے آنے والے مسافروں کے لیے انٹری ویزوں کے اجرا کی معطلی سمیت احتیاطی تدابیر پہلے ہی نافذ العمل ہیں، جبکہ اب ان اقدامات کا دائرہ کار کانگو کے ہمسایہ ممالک مثلاً یوگنڈا، جنوبی سوڈان، روانڈا، برونڈی، تنزانیہ اور جمہوریہ کانگو سے آنے والے مسافروں تک بڑھا دیا گیا ہے۔

ان تمام ممالک سے آنے والے مسافروں کے لیے سفری ہدایات جاری کرنے کے ساتھ ساتھ حج زائرین کی رہائش گاہوں پر روزانہ کی بنیاد پر وبائی امراض کی فعال نگرانی شروع کر دی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: کروز شپ میں ہنٹا وائرس کی تشویشناک وبا، یہ بیماری کیا ہے اور کیسے پھیلتی ہے؟

دوسری جانب ہنٹا وائرس کے حوالے سے کی جانے والی پیشگی تشخیص کے مطابق، مملکت اور حج سیزن کے لیے اس کا خطرہ فی الحال انتہائی کم پایا گیا ہے۔ تاہم، وقایہ نے واضح کیا ہے کہ ابتدائی سراغ لگانے اور فوری ردِعمل کے لیے نگرانی کا نظام مسلسل کام کر رہا ہے۔

سعودی حکام نے زائرین اور عوام کو یقین دلایا ہے کہ اس وقت مملکت کے اندر کوئی بھی تصدیق شدہ یا مشتبہ کیس سامنے نہیں آیا ہے ہے۔ زائرین کی مجموعی صحت کی صورتحال اطمینان بخش ہے اور تمام متعلقہ داخلی و عالمی اداروں کے ساتھ مل کر صورتحال کی 24 گھنٹے نگرانی کی جارہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp