عدلیہ مخالف بیان پر مصطفیٰ کمال نے غیر مشروط معافی مانگ لی

منگل 4 جون 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جمع کرائے گئے اپنے بیانِ حلفی میں رہنما ایم کیو ایم پاکستان مصطفیٰ کمال کی جانب سے کہا گیا کہ عدلیہ اور ججز کے اختیارات اور ساکھ بدنام کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔

ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی مصطفیٰ کمال کا کہنا ہے کہ وہ اعلیٰ عدلیہ کے ججز کا دل سے احترام کرتے ہیں عدلیہ سے متعلق اپنے بیان پر بالخصوص 16 مئی کی پریس کانفرنس پر غیرمشروط معافی چاہتا ہوں۔

بیان حلفی میں مصطفیٰ کمال نے عدالت سے معافی کی استدعا کرتے ہوئے خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سینیٹر فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو عدلیہ مخالف بیان دینے پر توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا، کراچی سے تعلق رکھنے والے دونوں اراکین پارلیمنٹ کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت کل سپریم کورٹ میں متوقع ہے۔

متنازع پریس کانفرنس کرنے پر سپریم کورٹ نے فیصل واوڈا اور مصطفیٰ کمال کو طلب کرتے ہوئے 2 ہفتے کا وقت دیا تھا، 17 مئی کی سماعت میں چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا تھا سپریم کورٹ لوگوں کا ادارہ ہے جس کا وقار کم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فیفا، ارجنٹینا اور سازشی نظریات: حقائق کیا کہتے ہیں؟

کینسر علاج میں اہم پیشرفت، 58 سالہ خاتون کو جدید مدافعتی تھراپی دی گئی

عبدالعلیم خان نے ہر صوبے کو 3 حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز دے دی

کیا ٹام ہالینڈ ہمیشہ کے لیے اسپائیڈر مین کو الوداع کہنے والے ہیں؟

وزیراعظم نے ورلڈ بینک کی مالیاتی رپورٹ کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطح کمیٹی قائم کر دی

ویڈیو

لائیوبلوچستان میں ترقی روکنے کے لیے دہشتگردی کی جاتی ہے، احساسِ محرومی اور نمائندگی کا بیانیہ حقائق کے منافی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

دہشتگردی سے متاثرہ افراد کے معاوضوں میں بڑا اضافہ، بلوچستان حکومت نے نئی مالی امدادی پالیسی نافذ کر دی

حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے پر تاریخی معاہدہ، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور نئی فلسطینی حکومت کی راہ ہموار، صدر ڈونلڈ ٹرمپ

کالم / تجزیہ

پاکستان کویت شراکت داری کا نیا دور

نئے صوبوں کی حمایت کیوں؟

’جیسا پہلے کبھی نہ دیکھا گیا‘