سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا

ہفتہ 25 مارچ 2023
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

سپریم جوڈیشل کونسل نے جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف دائر شکایات پر پروسیجر آف انکوائری رولز 2005 کے تحت بنیادی کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ کے رجسٹرار عشرت علی جو سپریم جوڈیشل کونسل کے سیکرٹری بھی ہیں نے ایڈووکیٹ میاں داؤد اور دیگر شکایت کنندگان سے کہا کہ وہ سپریم جوڈیشل کونسل پروسیجر آف انکوائری رولز، 2005 کی دفعہ 5 (3) کے تحت شکایات میں لگائے گئے اپنے الزامات کی حمایت میں حلف نامہ جمع کروائیں۔

سپریم جوڈیشل کونسل کی دفعہ 5 (3) کے مطابق شکایت کندہ اپنی شناخت صحیح طریقے سے کرے گا۔ سپریم جوڈیشل کونسل نے پاکستان بار کونسل سے قرارداد کی مصدقہ کاپی بھی طلب کرلی ہے۔ دیگر شکایت کنندگان کو بھی دستاویزات کی تصدیق شدہ کاپیاں داخل کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف چار شکایات درج کی گئیں

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے موجودہ جج (جسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی) کے خلاف غیر قانونی اثاثے بنانے اور بدانتظامی کی چار شکایات درج کی گئی ہیں۔

لاہور سے تعلق رکھنے والے وکیل میاں داؤد نے 23 فروری کو جسٹس نقوی کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کی شق (8) کے تحت سپریم کورٹ کے ججوں کے لیے جاری ضابطہ اخلاق کی مبینہ خلاف ورزی کی شکایت دائر کی تھی اور جج پر ‘بدانتظامی’ اور ‘غیر قانونی اثاثے بنانے’ کا الزام لگایا تھا۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) لائرز فورم پنجاب نے سپریم جوڈیشل کونسل پر زور دیا ہے کہ سوشل میڈیا پر وائرل آڈیو کلپس کے تناظر میں جسٹس مظاہرعلی اکبرنقوی کیخلاف مس کنڈکٹ کے الزام میں کارروائی شروع کی جائے۔

پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرپرسن ہارون رشید اور کونسل کی ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرپرسن حسن رضا پاشا نے بھی 10 مارچ کو وکلاء کی سپریم ریگولیٹری باڈی کی جانب سے شکایت دائر کی تھی۔ سپریم جوڈیشل کونسل سے سابق وزیر اعلیٰ پرویز الٰہی کی ایک مخصوص بینچ یا جج (جسٹس نقوی) کے سامنے کیس طے کرنے کے بارے میں مبینہ گفتگو کی تحقیقات کی درخواست کی گئی تھی۔

پاکستان بار کونسل نے سپریم جوڈیشل کونسل سے کہا ہے کہ وہ جسٹس نقوی کے کروڑوں روپے کے اثاثوں کے بارے میں میڈیا میں گردش کرنے والی معلومات پر مناسب کارروائی شروع کرے۔

ایڈوکیٹ غلام مرتضیٰ خان نے 22 مارچ کو سپریم جوڈیشل کونسل میں شکایت دائر کرتے ہوئے کہا تھا کہ جسٹس نقوی کا طرز عمل ایک جج کے لیے نامناسب ہے اور وہ آئین کے آرٹیکل 209 کی شق (5) کی ذیلی شق (بی) اور سپریم جوڈیشل کونسل پروسیجر آف انکوائری 2005 کے رول 3 (ایل) (آئی) کے تحت مس کنڈکٹ کے مرتکب ہوئے ہیں۔

سپریم جوڈیشل کونسل پروسیجر آف انکوائری رولز کیا ہے؟

سپریم جوڈیشل کونسل پروسیجر آف انکوائری رولز 2005 کے سیکشن 7 کے مطابق ’ایک بار جب کسی جج کے طرز عمل کے بارے میں انکوائری کے بارے میں کوئی معلومات کسی رکن یا کونسل کو مل جاتی ہے تو اسے کونسل کے چیئرمین کے سامنے پیش کیا جائے گا۔ اگر کونسل اس بات سے مطمئن ہے کہ معلومات پہلی نظر میں تفتیش کے لیے کافی مواد ظاہر کرتی ہیں تو وہ اس پر غور کرے گی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

شام کے وزیر خارجہ کا دورہ پاکستان مکمل: باہمی تعاون اور تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق

برونائی کے سلطان نے بہو سے شاہی اعزازات کیوں واپس لے لیے؟

عمران خان کو عین وقت پر شفا اسپتال کی بجائے پمز کیوں لے جایا گیا؟ طارق فضل چوہدری نے بتادیا

دنیا کے تیز ترین موٹرائزڈ لکڑی کے جوتے نے 70 میل فی گھنٹہ کی رفتار کا ریکارڈ قائم کردیا

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں مزید اضافہ کردیا

ویڈیو

ایک سال تک مفت اے آئی سہولت، پاکستانی طلبہ اسے کیسے حاصل کرسکتے ہیں؟

عمران خان کا علاج الشفا انٹرنیشنل کے بجائے پمز سے، حقائق کیا؟ پمز منتقلی کے خلاف پی ٹی آئی کا بڑا اقدام، خان کا سہیل آفریدی کے لیے پیغام

امریکی صدر پر گانا چرانے کا الزام، گلوکارہ آریانا گرانڈے ڈونلڈ ٹرمپ پر برس پڑیں

کالم / تجزیہ

عینی آپا ’آگ کا دریا‘ پار کیوں نہ کرسکیں؟

’ايسا ابّا کہاں سے لبھّا تھا‘

قائداعظم کی بیماری: سازشی تھیوری دم توڑ گئی