برطانوی شاہی خاندان کے سربراہ کنگ چارلس سوم میں غیر انکشاف شدہ قسم کے کینسر کی تشخیص کے بعد ان کی شریک حیات ملکہ کمیلا نے شاہ چارلس کی صحت اور کھانے پینے کی رغبت کو مدِنظر رکھتے ہوئے اپنی روزمرہ خوراک میں اہم تبدیلیاں کی ہیں۔
رپورٹس کے مطابق ملکہ کمیلا نے اپنی ڈائیٹ سے کچھ مخصوص اشیائے خوردونوش بالکل خارج کر دی ہیں تاکہ بادشاہ کو پرہیز کے دوران کسی پسندیدہ یا ناپسندیدہ کھانے کی رغبت نہ ہو۔
کن اشیا سے پرہیز کیا جا رہا ہے؟
‘ڈیلی میل’ کو دیے گئے ایک حالیہ انٹرویو میں ملکہ کمیلا نے اپنے سخت ڈائیٹ پلان کی تفصیلات بتاتے ہوئے انکشاف کیا کہ وہ شملہ مرچ یا کسی بھی قسم کی مرچ (پکا کر یا کچی)، سرخ مرچ، لہسن اور جانوروں کے زیادہ تر اندرونی اعضا (اوجڑی وغیرہ) کھانے سے مکمل پرہیز کرتی ہیں سواۓ بہترین کلیجی کے۔
شاہی عملے اور ماہرین کے مطابق ملکہ کے ان فیصلوں کی بنیاد ان کی ذاتی پسند و ناپسند کے ساتھ ساتھ شاہی آداب بھی ہیں۔
لہسن اور مرچیں
عمومی طور پر شاہی خاندان کے ارکان عام ملاقاتوں کے دوران منہ کی بدبو سے بچنے کے لیے لہسن سے پرہیز کرتے ہیں۔
سی فوڈ
شاہی ارکان فوڈ پوائزننگ کے خدشے کو کم کرنے کے لیے شیل فش کھانے سے بھی گریز کرتے ہیں۔
شاہی خاندان کی سابق شیف ڈیرن میکگریڈی نے بھی اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ملکہ الزبتھ دوم کے دور سے ہی شاہی باورچی خانوں میں لہسن کے استعمال پر عملًا پابندی عائد تھی۔
ملکہ کمیلا کی پسندیدہ غذائیں
ملکہ کے بیٹے ٹام پارکر باؤلز (ان کے پہلے شوہر سے) کے مطابق ملکہ کمیلا سادہ اور روایتی برطانوی کھانوں کو بے حد پسند کرتی ہیں۔
ملکہ نے خود انکشاف کیا کہ ٹوسٹ پر بیکڈ بینز ان کی پسندیدہ ترین غذاؤں میں سے ایک ہے۔ اس کے علاوہ کاغذ میں لپٹی ہوئی تازہ پکی ہوئی ‘فش اینڈ چپس‘ کی خوشبو اور ذائقے کا کوئی ثانی نہیں ہے۔
واضح رہے کہ شاہ چارلس کے علاج کے دوران ان کی صحت مندانہ ڈائیٹ کو یقینی بنانے کے لیے ملکہ کمیلا بطور شریک حیات خود بھی سخت غذائی ضوابط پر عمل پیرا ہیں۔














