ٹیکس اہداف کا حصول، ہر طرح کا ٹیکس استثنیٰ ختم کرنیکا فیصلہ

جمعہ 7 جون 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان سے آئندہ مالی سال کا ٹیکس ہدف 12 ہزار 900 ارب روپے مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ ٹیکس اہداف کے حصول کے لیے ہر طرح کا ٹیکس استثنیٰ ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق آئندہ مالی سال ایف بی آر کو 3 ہزار 490 ارب روپے کی زائد ٹیکس وصولی کرنا ہوگی کیونکہ آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کا ٹیکس ہدف 12 ہزار 900 ارب روپے مقرر کرنے اور انکم ٹیکس جمع کرانے والوں کی تعداد دوگنا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

آئی ایم ایف نے مطالبہ کیا ہے کہ انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد 30 لاکھ سے بڑھا کر 60 لاکھ کی جائے اور تاجروں کو ہر صورت انکم ٹیکس نیٹ میں لایا جائے۔ زرعی اشیا، بیجوں، کھاد، ٹریکٹر اور دیگر آلات پر مکمل سیلز ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

خوراک، ادویات، اسٹیشنری پر 10 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے جبکہ ٹیکس ہدف حاصل ہونے میں مشکلات پر سیلز ٹیکس کی شرح ایک سے 2 فیصد بڑھانے کی تجویز ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

آٹے کی قیمتوں میں پھر اضافہ، 20 کلو تھیلا 3 ہزار روپے سے تجاوز کرگیا

قومی ٹیم میں مسلسل نظر انداز کیے جانے پر مایوسی، خوشدل شاہ نے کرکٹ چھوڑنے کا عندیہ دے دیا

’یو ٹو کنگنا‘: جین زی ’گٹر جنریشن‘ سے ملک کی اہم طاقت قرار، بھارتی اداکارہ و سیاستدان کا بڑا یوٹرن

لاہور : مہنگائی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے خلاف جماعت اسلامی کا احتجاج، حکومتی پالیسیوں کی واپسی کا مطالبہ

ریاستی ووٹر فہرستوں پر وفاقی کنٹرول کی کوشش پھر ناکام، ٹرمپ انتظامیہ کوعدالت میں مسلسل 21 ویں شکست

ویڈیو

’۔۔۔ ایک دستخط‘: تجارتی خسارے پر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوئٹزر لینڈ کو دھمکی دے دی

سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ’مکہ مکرمہ مشترکہ دفاعی معاہدہ‘ طے، کسی ایک پر حملہ تینوں پر حملہ تصور ہوگا

 ایران جنگ جلد ختم ہو جائے گی، آبنائے ہرمز کھولنے کے عبوری معاہدے کے امکانات روشن، صدر ٹرمپ کا دعویٰ

کالم / تجزیہ

اپنی زندگی کے ایڈیٹر بنیں، رائٹر نہیں

گلا سڑا نظام اور وزیر داخلہ کی تقریر

کشمیر: بین الاقوامی قانون کیا کہتا ہے؟