رفح: اسرائیلی بکتر بند گاڑی کے زوردار دھماکے سے پرخچے اڑ گئے، 8 فوجی ہلاک

ہفتہ 15 جون 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا ہے کہ  اس کے غزہ میں  کم از کم 8 فوجی اس وقت مارے گئے ہیں جب  وہ ایک بکتر بند گاڑی میں تھے کہ اچانک بکتر بند گاڑی ایک زوردار اور طاقتور دھماکے سے اڑا دی گئی۔ گزشتہ برس اکتوبر میں جنگ شروع ہونے کے بعد سے یہ واقعہ اسرائیلی فوج کے لیے سب سے مہلک دھچکا ثابت ہوا ہے۔

فوج کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ کیپٹن وسیم محمود( عمر 23 سال) اور سات دیگر فوجی جنوبی غزہ میں آپریشنل سرگرمیوں کے دوران ہلاک ہوگئے۔ ان کی ہلاکت سے ان کے خاندان والوں کو آگاہ کردیا گیا ہے۔

اس سوال پر کہ  آیا فوجیوں کی ہلاکت اس وقت ہوئی جب وہ نمر کی بکتر بند گاڑی میں سفر کر رہے تھے، تو ایک فوجی پریس ڈیسک افسر نے غیرملکی خبرساں ادارے اے ایف پی کو ’ہاں‘ کہہ کر تصدیق کی۔

اسرائیلی فوجی افسر نے بتایا کہ بکتر بند گاڑی کو غزہ کے دور دراز جنوبی شہر رفح کے قریب  دھماکے سے اڑایا گیا، جہاں فوجی فلسطینی جنگجوؤں کے ساتھ سڑکوں پر شدید لڑائی میں مصروف ہیں۔

اسرائیلی فوج کے اعداد و شمار کے مطابق 7 اکتوبر سے اب تک ہلاک ہونے والے  اسرائیلی فوجیوں کی تعداد 658 ہو چکی ہے، جن میں زمینی حملے شروع ہونے کے بعد سے ہلاک ہونے والے 306 فوجی بھی شامل ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

پاکستان کے فضائی حملوں میں کابل کے اسپتال کو نشانہ بنائے جانے کے دعوؤں کی پاکستان کی جانب سے تردید

پنجاب میں ایگری انٹرن پروگرام کے مثبت اثرات، گندم کی پیداوار میں اضافہ

انجری کے بعد واپسی مشکل، نیمار ایک بار پھر برازیل کے اسکواڈ سے باہر

سندھ طاس معاہدے کی معطلی کے زراعت، معاشی سلامتی اور عوامی بہبود پر کیا اثرات پڑسکتے ہیں؟

آج سونے کی فی تولہ قیمت میں کتنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا؟

ویڈیو

اسلام آباد کا عید بازار جہاں خواتین کے لیے رنگ برنگے اسٹالز موجود ہیں

وی ایکسکلوسیو، شہباز شریف عوام کو ریلیف بجٹ دیں اور بتائیں کہ موجودہ مشکلات ختم ہوجائیں گی: خرم دستگیر

کیا آپ کی غلطیاں آپ کو جینے نہیں دے رہیں، دل کو ری سیٹ کیسے کریں؟

کالم / تجزیہ

پاک افغان تعلقات: ایک پہلو یہ بھی ہے

صحافت کا افتخار اور فیض صاحب کا مرثیہ

کھلے دل سے اعتراف اور قصہ ’رمضان عیدی‘کا