اسرائیلی وزیراعظم کو سرکاری سطح پر دہشتگرد قرار دیا جائے، تحریک لبیک نے فیض آباد پر دھرنا دے دیا

ہفتہ 13 جولائی 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے کارکنوں نے فیض آباد کے مقام پر دھرنا دے دیا ہے اور حکومت کو تین مطالبات بھی پیش کردیے ہیں۔

تحریک لبیک کی جانب سے آج فلسطین کے مظلوم عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا گیا اور اس کے لیے لیاقت باغ سے فیض آباد تک ریلی نکالی گئی، جس کے اختتام پر امیر ٹی ایل پی نے دھرنے کا اعلان کیا۔

یہ بھی پڑھیں فیض آباد دھرنا کیس: تحریک لبیک کو کلین چٹ مل گئی، الیکشن کمیشن نے نوٹس واپس لے لیا

علامہ سعد رضوی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو سرکاری سطح پر دہشتگرد قرار دیا جائے اور اسرائیلی مصنوعات کا بھی سرکاری سطح پر بائیکاٹ کیا جائے۔

سعد رضوی نے کہاکہ حکومت پاکستان فلسطین کے مظلوم عوام تک طبی اور غذائی امداد پہنچائے، ہم مطالبات کی منظوری تک یہیں پر بیٹھیں گے۔

یہ بھی پڑھیں فیض آباد دھرنا انکوائری کمیشن کی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع

اس وقت تحریک لبیک پاکستان کے کارکنان بڑی تعداد میں فیض آباد کے مقام پر موجود ہیں، اور دھرنے کے باعث ٹریفک بلاک ہونے سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

مہمند میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر، پی ٹی آئی 13 سال میں ایک جامعہ بھی نہ بناسکی

شادی کی تقریب میں جنرل (ر) باجوہ سے بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر کی ملاقات نے نئی بحث چھیڑ دی

خیبرپختونخوا پولیس کی تنخواہوں میں اضافے کے معاملے پر محکمہ خزانہ کو کیا اعتراضات ہیں؟

ویڈیو

کیا مریم نواز مستقبل کی وزیراعظم ہوں گی؟ پنجاب کے شہریوں کی رائے سامنے آگئی

13 سالہ اقتدار کے باوجود پی ٹی آئی لنڈی کوتل میں کوئی بڑا ترقیاتی منصوبہ شروع نہ کر سکی، شہری مایوس

مہمند میں ایک لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر، پی ٹی آئی 13 سال میں ایک جامعہ بھی نہ بناسکی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف، جے یو آئی اور جماعت اسلامی: ایک سماجی مطالعہ

نئے صوبے کس کی اجارہ داری توڑیں گے؟

مولانا فضل الرّحمان اور خواجہ آصف کا نقد سودا