شہباز شریف حسینہ واجد کو فون کرکے جانے کا راستہ اور طریقہ پوچھ لیں، پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر

منگل 6 اگست 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پی ٹی آئی چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ بہتر یہی ہے کہ شہباز شریف حسینہ واجد کو فون کرکے جانے کا رستہ اور طریقہ پوچھ لیں، کیوںکہ عوام کے حقوق پر ڈاکا ڈالنے والوں کا یہی حق ہوتا ہے، یہ جدہ جائیں گے۔

فارم 47 میں تبدیلی کے بعد اب مخصوص نشستوں کے حصول کی کوشش کی جارہی ہے

انہوں نے کہا کہ جب بھی حکومت کی جانب سے ملک کے لیے کوئی قدم اٹھایا گیا ہم اس میں حکومت کے ساتھ رہے، سی پیک ہو یا دوست ممالک کے سربراہان کی پاکستان آمد کے موقع پر حکومت کے ساتھ تھے، لیکن یہاں جس طریقے سے قانون سازی ہو رہی ہے، ہم پارلیمان کو سپریم دیکھنا چاہتے ہیں باجود اس کے کہ یہاں بیٹھے کئی لوگوں سے ہمیں شدید تحفظات ہیں۔

گوہر خان نے کہا کہ اسمبلی میں بیٹھے حکومتی ارکان کو بھی نہیں پتا ہوتا کہ کون سی قانون سازی ہورہی ہے۔ آج کی جانے والی قانون سازی آئین و قانون کے خلاف ہے، جس طریقے سے فارم 47 کو تبدیل کرکے حکومت بنائی گئی، اسی طریقے سے اب کوشش کی جا رہی ہے کہ مخصوص نشستیں بھی حاصل کرلیں۔

اسمبلی کا آٹھواں سیشن ہے اور پارلیمنٹ میں یہ نویں قانون سازی ہورہی ہے

انہوں نے کہا کہ یہ اسمبلی کا آٹھواں سیشن ہے اور پارلیمنٹ میں یہ نویں قانون سازی ہورہی ہے، جب بھی قانون سازی ہوتی ہے آپ رول کو معطل کرواتے ہیں، آپ یکمشت تمام رپورٹیں اور بل رکوا دیتے ہیں اور اس بحث کے بغیر قوانین کو پاس کروا دیتے ہیں۔ ہماری 78 مخصوص سیٹیں تھیں جن میں 67 نشستیں خواتین اور 11 اقلیتی نشستیں تھیں جس کے لیے ہم نے 4 درخواستیں الیکشن کمیشن میں جمع کروائیں۔

مزید پڑھیں:سپریم کورٹ نے فارمولا طلب کرلیا، پُرامید ہیں مخصوص نشستیں ہمیں ہی ملیں گی، بیرسٹر گوہر خان

انہوں نے کہا کہ اصل میں ہوا یہ تھا کہ جس وقت ہم نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے اس وقت فارم 33 بھی آیا جس میں لکھا ہوا تھا کہ یہ تمام امیدوار پاکستان تحریک انصاف کے تھے، یہ سپریم کورٹ کے ریکارڈ میں بھی موجود ہے۔

قانون سازی غیرقانونی، سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ جب ہم نے کاغذاتِ نامزدگی جمع کرادیے تو اس کے بعد ایک سازش کے تحت پی ٹی آئی سے انتخابی نشان لیا گیا اور پارٹی امیدواروں کو آزاد امیدواروں کے طور پر انتخابی نشانات الاٹ کیے گئے لیکن اس کے باوجود پی ٹی آئی دو تہائی اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی۔ پی ٹی آئی کو جو مخصوص نشستیں ملیں، رول آف لا یہی ہے، یہی پارلیمانی و جمہوری اقدار ہیں، ہم الیکشن کمیشن گئے، ہائیکورٹ گئے، سپریم کورٹ گئے جہاں 11 ججز نے رائے دی کہ پی ٹی آئی سیاسی جماعت تھی، ہے اور رہے گی اور تسلیم کیا کہ ان مخصوص نشستوں پر پی ٹی آئی کا ہی حق تھا۔

مزید پڑھیں:کوئی بھی آپریشن ہو اس کے لیے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینا ضروری ہے، بیرسٹر گوہر خان

بیرسٹر گوہر نے کہا کہ تصفیہ کا طریقہ کار بھی یہی ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ حتمی ہوتا ہے، یہ پارلیمان سپریم ضرور ہے لیکن قانون کی تشریخ کرنا سپریم کورٹ کا دائرہ اختیار ہے، اگر سپریم کورٹ تشریح کرتی ہے تو وہی حتمی ہوتی ہے، یہ پارلیمان اس تشریح کو ختم نہیں کرسکتی، آپ صرف قانون سازی کرسکتے ہیں۔ الیکشن ایکٹ ترمیمی بل پر قانون سازی غیرقانونی ہے، اس قانون سازی کو سپریم کورٹ میں چیلنج کریں گے اور سپریم کورٹ اس قانون سازی کو ختم کردے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp