جب الیکشن چوری ہوجائے تو سیاسی عدم استحکام آتا ہے، خاقان عباسی

بدھ 7 اگست 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

کنوینرعوام پاکستان پارٹی شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ اس وقت ملک میں سیاسی استحکام کی ضرورت ہے، ملک کی معیشت سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے کمزور ہوئی ہے۔

  کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ ملکی معیشت سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے کمزور ہوئی ہے، جب الیکشن چوری ہوجائے تو ملک میں سیاسی عدم استحکام آتا ہے، آج ملک کو سیاسی استحکام کی ضرورت ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شاہد خاقان عباسی آئی پی پیز کے حق میں بول پڑے

آئی پی پیز حکومت پاکستان نے دعوت دے کر لگوائے ہیں

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اگر پاکستانی روپیہ مزید کمزور ہوتا ہے تو بجلی کا بل مزید بڑھ جائے گا، کیوں کہ بجلی کا نظام ڈالر پرچل رہا ہے، آئی پی پیز حکومت پاکستان نے دعوت دے کر لگوائے ہیں، یہ ذبردستی کسی نے آکر نہیں لگائے، حکومت پاکستان نے معاہدے بنائے، اس پر کوئی مذاکرات نہیں ہوئے، اس کا ٹیرف بھی حکومت پاکستان نے مقرر کیا۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ حکومت نے دعوت دی کہ لوگ باہر سے آکر آئی پی پیز پر انوسٹ کریں، لوگوں نے انوسٹ کیا، آج ان کو کہا جارہا ہے کہ وہ کون ہیں، ایسی صورتحال میں کل کون آکر ملک میں انوسٹ کرے گا۔

یہ بھی پڑھیں: سیاسی حکومت کا کسی جماعت پر پابندی لگانا شکست کا اعتراف ہے، شاہد خاقان عباسی

انہوں نے کہا کہ اب پاکستان میں کوئی سرمایہ کاری کرنے کو تیار نہیں، سولر کے لیے حکومت پاکستان نے دنیا کا بہترین ٹیرف دیا، اس کے باوجود کوئی پاکستان میں سرمایہ لگانے کو تیار نہیں، اس لیے آئی پی پیز کے حوالے سے جو لوگ باتیں کرتے ہیں اور الزام لگاتے ہیں، مجھے ان کی باتوں میں کوئی دلیل نظر نہیں آئی۔

’یہ صرف اپنی ناکامی اور پاور کے نظام میں جو خرابی ہے، اس کو کسی اور پر ڈالنے کی کوشش ہے، اس نظام کو درست کریں۔‘

ان کا کہنا ہے کہ ابھی سرکلز بوجھ، جو ڈسٹری بویشن کمپنیوں میں چوری ہے، اس کا بوجھ عوام پر نہیں ڈالا جارہا، اگر یہ بوجھ بھی عوام پر ڈالا گیا تو بجلی فی یونٹ 6 سے 8 روپے بڑھ جائے گی، یہ بوجھ حکومت کی کمپنیاں برداشت کررہی ہیں، اس میں پی ایس او ہے، اوجی ڈی سی، پاکستان پیٹرولیم، سوئی سدرن ہے، یہ کمپنیان بینک سے قرضے لے کر یہ نقصان برداشت کررہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:’ووٹ کو عزت دو‘ کے بیانیہ سے پیچھے ہٹنا ن لیگ کے ساتھ اختلافات کی وجہ بنا، شاہد خاقان

آپ آج آئی پی پیز پر الزامات لگا رہے ہیں، کل کیا ہوگا، نیب کے کیس بنیں گے، کل ان کے افسران نیب عدالت کے باہر کھڑے ہوں گے، ایک سال’ بعد، 2 سال بعد بھی کھڑے ہوں گے، 3 سال کے بعد بھی کھڑے ہوں گے، 10 سال گزر جائیں گے، پھر پتا چلے گا کہ کسی کا قصور نہیں ہے۔‘

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اپنے ملک سے دشمنی مت کریں، اگر آپ کے کسی کے ساتھ ذاتی اختلافات ہیں تو علیحدہ نمٹا لیں، لیکن پاور کے نظام کے حقائق عوام کے سامنے رکھنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جس کا احتساب کا ادارہ سب سے زیادہ کرپٹ ہے، موجودہ حکومت نےکہا تھا کہ نیب کے ادارے کو ختم کریں گے مگر آج یہی حکومت اس کے ہاتھ مضبوط کررہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شاہد خاقان اور مفتاح اسماعیل نے حقائق مسخ کیے، ارکان اسمبلی کو 500 ارب روپے دینے کا دعویٰ درست نہیں، وزیر اطلاعات

ان کا کہنا تھا کہ  4ترامیم کے بعد بھی احتساب کے ادارے کی حالت نہیں بدلی، ارب پتی ہوکر نیب کے افسران ادارے سے گئے ہیں، سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال کے لیے میں نے کہا تھا کہ سب سے پہلے یہی شخص ملک چھوڑ کر بھاگے گا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے 4 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے اس ریفرنس کی پیشیوں پر آتے ہوئے، نہ نیب کا وکیل آتا ہے، نہ فیصلہ ہوتا ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

فاطمہ ثنا کی عالمی کرکٹ میں دھوم، کینیڈا سپر 60 کی فرنچائز سے معاہدہ

ماہرین آثارِ قدیمہ کا موئن جو دڑو میں نئی تحقیق اور شہر کی فصیل کی نقل تعمیر کرنے کا مطالبہ

ورلڈ کپ کے اہم معرکے سے قبل قومی ہاکی ٹیم کی قیادت میں بڑی تبدیلی، عماد شکیل بٹ کو کپتانی سے ہٹا دیا گیا

بی جے پی رہنما کی بیٹی نے بھارتی نوجوانوں کے احتجاج کی حمایت کی وجہ بتا دی

دوران سفر متلی کی شکایت: ازالے کے لیے آئی فون کی ایک خفیہ سیٹنگ استعمال کرکے دیکھیں

ویڈیو

جسٹن گریوز نے ٹیسٹ کرکٹ میں منفرد عالمی ریکارڈ قائم کرلیا، ’سہولت کار‘ پاکستان ٹیم

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن پھر آمنے سامنے، آخر اس لڑائی کی وجہ کیا ہے؟

اسحاق ڈار اور کویتی وزیر خارجہ کے درمیان اہم ملاقات، دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال

کالم / تجزیہ

ایک اور میچ، ایک اور شکست، اب تو عادت سی ہے ہم کو!

اے ٹی ایم مشین 

28 جولائی 2010: وہ دن جب میرے قدموں تلے زمین نکل گئی