وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سابق ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کا 9 مئی کے واقعات میں کردار تھا، اس روز فوجی تنصیبات پر جو حملے ہوئے وہ پلاننگ انہوں نے ہی کی تھی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ 9 مئی کو پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ملک بھر میں فوجی تنصیبات پر حملے کیے، اور ہدایات دی جارہی تھیں کہ فلاں جگہ پہنچ جاؤ۔
یہ بھی پڑھیں فوج کے خلاف ڈیجیٹل دہشتگردی کے پیچھے فیض حمید کا ہاتھ ہوسکتا ہے، رانا ثنااللہ
خواجہ آصف نے کہاکہ ہم آزادی کے تقاضے پورے نہیں کررہے، فیض حمید سمجھتے تھے کہ انہوں نے جو 4 سے 5 سال خدمات انجام دی ہیں ان کے بدلے میں آرمی چیف بنا دیا جائے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر دفاع نے کہاکہ عمران خان کبھی فیض حمید کے ساتھ کھڑے نہیں ہوں گے، کیونکہ وہ اپنی ذات سے آگے سوچتے ہی نہیں۔
خواجہ آصف نے کہاکہ جنرل فیض کے ساتھ دیگر کرداروں کو بھی پکڑنا چاہیے، ورنہ ہم آگے نہیں بڑھ بڑھ سکتے۔
انہوں نے کہاکہ ہم مادر پدر آزادی کو برداشت نہیں کرسکتے، پی ٹی آئی کی جانب سے آج بھی شہدا کی تضحیک کی جارہی ہے، سوشل میڈیا پر کوئی پابندی نہیں، مگر اس بے لگام نظام کو آرگنائز کیا جارہا ہے۔
ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ اللہ خیر کرے گا، حکومت گرے گی نہ گرائی جاسکتی ہے، ججوں کا کام تقریر کرنا نہیں۔
یہ بھی پڑھیں فیض حمید کے خلاف تحقیقات آگے بڑھیں گی تو اہم انکشافات سامنے آئیں گے، عرفان صدیقی
انہوں نے مزید کہاکہ عمران خان نے پہلے کہاکہ محمود اچکزئی اسٹیبلشمنٹ سے مذاکرات کریں گے، پھر کہا نہیں سیاسی جماعتوں سے بات کریں گے۔













