دیر کے جنگلات سے ملنے والا قدرتی مشروم اتنا مہنگا کیوں فروخت ہوتا ہے؟

بدھ 28 اگست 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع اپر دیر کے جنگلات میں قدرتی طور پر ایسا مشروم پیدا ہوتا ہے جو بیرون ملک لاکھوں روپے فی کلو کے حساب سے فروخت ہوتا ہے۔

اپر دیر پشاور سے شمال مغرب کی جانب تقریباً 260 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے جبکہ یہ مشروم دیر کے مختلف بالائی علاقوں کوہستان، گولدائی، ڈوگ درہ، دوبندو، ہاتن درہ، براول، اور عشیری درہ کے پہاڑوں اور جنگلات میں پایا جاتا ہے۔

 مشروم سردیوں کے اختتام پر مارچ سے مئی تک موسم بہار کی بارشوں کے دوران وافر مقدار میں قدرتی طور پر اگتا ہے۔

اس قیمتی پہاڑی مشروم کو مقامی طور پر لوگ ’گوسی‘ کے نام سے پہچانتے ہیں جو یہاں کے بالائی علاقوں کے لوگوں کا ایک اہم ذریعہ معاش بن چکا ہے۔ لیکن مشروم کو جنگلوں میں تلاش کرنے کا مرحلہ کٹھن اور مشکل ہوتا ہے۔ بزرگوں کے مطابق مشروم کی تلاش میں محنت کے ساتھ قسمت کا عمل دخل بھی ہوتا ہے کیونکہ ہر متلاشی کے ہاتھ یہ نہیں آتا چاہے وہ کتنی ہی محنت سے کیوں نہ تلاش کرے۔

شہری یوسف علی شاہ کہتے ہیں کہ مشروم دنیا کی قیمتی ترین خوراک ہے جو یہاں کے پہاڑی علاقوں میں قدرتی طور پر پائے جاتے ہیں اور یہاں کے چھوٹے، بڑے لوگ جنگلوں میں گھوم پھر کر اسے اکٹھا کرتے ہیں۔ لوکل مارکیٹوں میں ڈیلرز لوگوں سے سستے ریٹس پر خرید لیتے ہیں۔ لوگ انتہائی محنت کرکے خطرناک پہاڑوں پر چڑھ کر خطرات مول لیتے ہیں جس میں انہیں گرنے سے زخمی بھی ہونا پڑتا ہے اور وہاں انہیں فرسٹ ایڈ تک بھی نہیں ملتا۔

لیکن بدقسمتی سے پھر سخت محنت کا اصل ثمر غریب لوگوں کو نہیں ملتا۔ انہوں نے بتایا کہ اگر کوئی شخص ہوشیار اور سیانا ہو تو اسے فی کلو 25 سے 30 ہزار روپے تک قیمت مل جاتی ہے لیکن ڈیلرز خود مشروم کو ملکی و غیر ملکی مارکیٹ میں زیادہ قیمت پر فروخت کرتے ہیں۔

یوسف کہتے ہیں مشروم کی تلاش کا کام ضلع دیر میں صدیوں سے ہوتا آیا ہے۔ پہلے لوگ اسے خود اور مہمانوں کو کھلاتے تھے لیکن اب پچھلی کئی دہائیوں سے اس کی مانگ اور اہمیت ملکی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں بڑھ گئی ہے اور فی کلو قیمت فروخت ہزاروں میں ہونے لگی تو لوگ کھانے کے بجائے اسے بیچ کر روزگار کمانے لگے۔ سیزن کے تین، چار مہینوں میں غریب، بے روزگار افراد محنت کرکے لاکھوں روپے کما لیتے ہیں۔

یوسف علی کہتے ہیں مشروم کو یورپ، امریکا اور ایران جیسے ممالک میں ادویات کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ گھروں اور ہوٹلوں میں لگژری خوراک کے طور پر بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس لیے اندروں ملک مشروم سے وابستہ بڑے کاروباری ملاکنڈ ڈویژن کے علاقوں ضلع دیر، چترال، اور سوات کے مقامی ڈیلروں سے خرید کر ملکی اور غیرملکی منڈیوں میں لے جاتے ہیں۔

 مشروم کے لوکل ڈیلرز مقامی افراد سے موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق فی کلو چوبیس سے اٹھائیس ہزار روپے تک خریدتے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ مارکیٹ میں تازہ مشروم  کی قیمت کم ہوتی ہے اس لیے اسے گھروں میں پہلے خشک کیا جاتا ہے تاکہ زیادہ قیمت مل سکے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی سربراہ کاجا کالاس اسٹریٹجک مذاکرات کے لیے یکم جون کو اسلام آباد پہنچیں گی

یو ایف او فائلز جاری ہونے کے بعد نئی بحث: حقیقت، راز یا محض غلط فہمیاں؟

اگر مختلف چیٹ بوٹس کو انسانوں پر حکومت سونپی جائے تو کیا ہوگا؟ دلچسپ نتائج، گروک نے تباہی مچا دی

ٹیکنالوجی کی دنیا میں ہلچل: اوپن اے آئی کا آئی فون کو ٹکر دینے کے لیے اسمارٹ فون لانے کا فیصلہ

کراچی: ڈکیتی ناکام ہونے پر مبینہ ڈاکو نے خود کا خاتمہ کرلیا، معاملہ شرمندگی کا یا کچھ اور؟

ویڈیو

عرفات منہاس ون ڈے ڈیبیو میں 5 وکٹیں لینے والے پاکستان کے پہلے بولر بن گئے

امریکا کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر سے حقیقی دوستی والے تعلقات ہیں، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ

فلسطینی ریاست کے قیام تک اسرائیل سے تعلقات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اسحاق ڈار کا دوٹوک اعلان

کالم / تجزیہ

اچکزئی صاحب کا مسئلہ کیا ہے؟

بڑے شہر نگل جاتے ہیں

عید الاضحی ، بھارتی مسلمان اور ہندو شاؤنزم