سردار اختر مینگل کا استعفیٰ: کیا بلوچستان کی سیاسی شخصیات پارلیمانی سیاست سے بیزار ہوگئیں؟

جمعرات 5 ستمبر 2024
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

بلو چستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے پارلیمنٹ ہاﺅس اسلام آباد کے باہر میڈیا نمائندوں سے گفتگو کر تے ہوئے قومی اسمبلی کی رکنیت چھوڑنے کا اعلان کیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: حکومتی وفد مجھے قائل کرنے میں ناکام رہا، اختر مینگل کا استعفیٰ واپس لینے سے انکار

اس موقعے پر انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ پاکستان کی سیا ست سے بہتر ہے کہ ’پکوڑوں کی دکان لگا لوں‘۔ سر دار اختر مینگل کے استعفے کے بعد ملک بھر کے سیا سی حلقوں میں ہلچل مچ گئی جس کے بعد مرکز کی حکومتی اور حزب اختلاف کی سیا سی جماعتیں ان سے ملاقات کے لیے پہنچ گئیں۔

ذرائع کے مطابق ان ملاقاتوں میں بلو چستان کی امن ومان کی صورتحال سمیت سیاسی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا جبکہ اختر مینگل کو ایوان میں لوٹ آنے کی دعوت بھی دی گئی۔ تاہم اس پر سر دار اختر مینگل نے مؤقف اختیار کیا کہ ’میں نے پہلے ہی سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا ہے‘۔

سردار اختر مینگل کے ایوان سے مستعفی ہونے کے فیصلے نے کئی سوالات کو جنم دیا ہے جن میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا بلوچستان میں سیاسی اور عام لوگ پارلیمانی سیاست سے اکتا چکے ہیں؟

اس معاملے پر وی نیوز سے بات کر تے ہوئے سینیئر صحافی عرفان سعید نے بتایا کہ سردار اختر مینگل کے حالیہ فیصلے نے ہلچل مچا دی ہے۔

مزید پڑھیے: ‘اختر مینگل سیاسی طور پر مشکل میں ہیں، استعفیٰ دیکر توجہ چاہتے ہیں‘

انہوں نے کہا کہ در اصل بلوچستان کے لوگ چاہتے بھی یہی ہیں کہ وفاق میں بلوچستان کو کسی نہ کسی طرح توجہ ملے لیکن یہ الگ بات ہے کہ قومی اسمبلی میں بلوچستان کی نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے اور اگر اس میں بھی بلوچستان کی آواز کو نہیں سنا جاتا تو ایسی صورت میں یہ ایک مثبت اقدام ہے۔

عرفان سعید نے بتایا کہ بلوچستان کے مسائل اتنے بڑھ چکے ہیں کہ سردار اختر مینگل جیسے سیاسی لوگ پارلیمان کی سیاست سے بیزار ہو چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ایسے عمل کا مستقبل میں کوئی اچھا نتیجہ نہیں نکلے گا اور دوسری جانب بلوچستان کے نوجوان بھی پارلیمانی سیاست سے دور ہوتے جارہے ہیں جس کا عملی نمونہ ہم نے سنہ 2024 کے انتخابات میں دیکھی۔

مزید پڑھیں: سردار اختر مینگل ماضی میں کب کب ایوان سے مستعفی ہوئے؟

عرفان سعید نے کہا کہ بلوچستان کے لوگوں کی پارلیمانی سیاست سے دوری کو مرکز کی جماعتوں کو سنجیدہ طریقے سے دیکھنا ہوگا ورنہ مستقبل میں صوبے سے ایسی آوازیں ختم ہو جائیں گی جو بات چیت پر یقین رکھتی ہیں۔

وی نیوز سے گفتگو کر تے ہوئے بلوچستان کے سینیئر صحافی سید علی شاہ نے کہا کہ سردار اختر مینگل کا پارلیمان سے نکل جانا جمہوریت، جمہوری اداروں، ریاست اور بلوچستان کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک فیڈریشن ہے اور اس میں بلوچستان ایک اہم اکائی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس صوبے کی ایک اہم سیاسی شخصیت اگر پارلیمنٹ سے بیزار ہوجاتی ہے تو یہ یقیناً ملک اور جمہوری عمل کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔

یہ بھی پڑھیے: اختر مینگل بلوچستان کے اہم اور سینیئر رہنما، حکومت ناراضی دور کرنے کی کوشش کرےگی، رانا ثنااللہ

سید علی شاہ نے کہا کہ دراصل بلوچستان میں ایسی سوچ بھی موجود ہے جس کے مطابق بلوچستان اسمبلی اور قومی اسمبلی میں بلوچوں کے مسائل کا حل نہیں اب ایسی صورت حال میں جب مین اسٹریم بلوچ قوم پرست سیاسی جماعت کے سربراہ ایسے فیصلے کریں گے تو یہ جمہوری نظام کے لیے صحیح نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

تازہ ترین

کیا انسان ریچھ، گھوڑے یا چیتے سے تیز دوڑ سکتا ہے؟ جانوروں کی رفتار سے متعلق دلچسپ تحقیق

سہ ملکی سیریز، سفیان مقیم اسکواڈ سے باہر، بیٹر معاذ صداقت کی ٹیم میں انٹری

ناسا کی ڈارک میٹر ویب سیمولیشن نے کائنات کا پوشیدہ جال بے نقاب کر دیا

برطانوی شاہی خاندان میں دوریاں ختم ہونے کا امکان، پرنس ہیری، میگن مارکل نے معافی مانگنے کا عندیہ دیدیا

اسلام آباد: بچوں کے نازیبا مواد کا انٹرنیشنل نیٹ ورک تباہ، اپنے بچوں کی غیرمناسب ویڈیوز بناکر بیچنے والا باپ بھی گرفتار

ویڈیو

میرٹ پر 5 لاکھ کروم بکس تقسیم ہوں گی، دانش اسکولوں میں جدید تعلیمی سہولتیں بھی فراہم کی جائیں گی، وزیر اعظم شہباز شریف

حرمین شریفین ہماری ریڈلائن، مکہ دفاعی معاہدے سے مخالف قوتوں کو پریشانی لاحق ہے، مولانا عبدالخبیر آزاد

پاکستان میں کم عمر خواتین بریسٹ کینسر کا شکار کیوں ہو رہی ہیں؟ خاموش گلٹی بھی خطرے کی گھنٹی

کالم / تجزیہ

تحریک انصاف : رُل تے گئے آں پر چس بڑی آئی اے

درختوں پر جھولے اچھے لگتے ہیں، لاشیں نہیں

یورپ کی جین زی اتنے غصے میں کیوں ہے؟