پاکستان میں کم عمر خواتین بریسٹ کینسر کا شکار کیوں ہو رہی ہیں؟ خاموش گلٹی بھی خطرے کی گھنٹی

اتوار 25 اکتوبر 2026
icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp

پاکستان میں چھاتی کا سرطان خواتین کو لاحق ہونے والے اہم طبی مسائل میں شامل ہے جبکہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ کم عمر خواتین بھی اس بیماری کا شکار ہو رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: بریسٹ کینسر قابل علاج مرض، بروقت تشخیص سے نتائج بہتر ہوسکتے ہیں، مریم نواز

ماہرین صحت کے مطابق آگاہی کی کمی، علامات کو نظر انداز کرنے اور تشخیص میں تاخیر کے باعث بہت سی خواتین بروقت علاج شروع نہیں کروا پاتیں۔

وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کنسلٹنٹ بریسٹ اسپیشلسٹ ڈاکٹر سعیدہ یاسمین نے بتایا کہ ایشیا میں پاکستان چھاتی کے سرطان کے حوالے سے سرفہرست ممالک میں شامل ہے۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں 40 سال سے کم عمر خواتین میں بریسٹ کینسر کی شرح 27 سے 35 فیصد تک بتائی جاتی ہے جبکہ یورپ میں یہ شرح تقریباً 5 فیصد ہے۔ ڈاکٹر سعیدہ کے مطابق اس فرق کی ایک بڑی وجہ آگاہی کا فقدان اور بیماری کی تشخیص میں تاخیر ہے۔

دیر سے شادی اور پہلی حمل میں تاخیر بھی زیر بحث عوامل

دیر سے شادی کے بڑھتے ہوئے رجحان اور پہلی بار حمل ٹھہرنے میں تاخیر کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر سعیدہ یاسمین نے کہا کہ دیر سے شادی اور خصوصاً 25 سے 30 سال کی عمر کے بعد پہلی مرتبہ حمل ہونا، چھاتی کے سرطان کے ممکنہ خطرے سے متعلق زیر بحث عوامل میں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں ہارمونز اور تولیدی زندگی کے دوران ہونے والی تبدیلیوں کے اثرات کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔

طرز زندگی کے حوالے سے ڈاکٹر سعیدہ نے موٹاپے، جسمانی سرگرمیوں اور فٹنس کی کمی اور جنک فوڈ کے استعمال کو بھی اہم عوامل قرار دیا۔ انہوں نے خوراک کے حوالے سے فصلوں پر کیڑے مار ادویات کے اسپرے، چکن کے استعمال اور مرغیوں کو دی جانے والی خوراک سے متعلق مختلف آرا کا بھی ذکر کیا۔

ڈاکٹر سعیدہ کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس موضوع پر خاطر خواہ تحقیق نہیں کی گئی، جس کے باعث بیماری کی اصل وجوہات اور مستند اعداد و شمار سامنے لانا ایک بڑا چیلنج ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ یہی وجہ ہے کہ یہ طے کرنا مشکل ہے کہ پاکستان میں چھاتی کے سرطان کی شرح زیادہ ہونے کے پیچھے بنیادی عوامل کیا ہیں اور اس سے بچاؤ کے لیے کن مخصوص اقدامات کی ضرورت ہے۔

درد نہ کرنے والی گلٹی کو بھی نظر انداز نہ کریں

ڈاکٹر سعیدہ یاسمین نے بتایا کہ چھاتی یا بغل میں بننے والی ایسی گلٹی جو درد نہ کرے اسے بھی خطرے کی علامت سمجھتے ہوئے سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

ان کے مطابق خواتین عموماً درد کرنے والی گلٹی یا سوجن پر توجہ دیتی ہیں لیکن درد نہ کرنے والی گلٹی بھی چھاتی کے سرطان کی علامت ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیے: ’پنک ڈے‘ پر پی ایس ایل کا منفرد اقدام، بریسٹ کینسر سے لڑنے کا عزم

انہوں نے زور دیا کہ چھاتی یا بغل میں کسی بھی نئی یا غیر معمولی گلٹی کی صورت میں عام ادویات کے ذریعے خود علاج کرنے کے بجائے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے تاکہ بروقت معائنہ اور ضرورت پڑنے پر مزید تشخیصی ٹیسٹ کیے جا سکیں۔

بایوپسی اور دم درود سے متعلق غلط فہمیاں

ڈاکٹر سعیدہ کے مطابق خواتین میں پائی جانے والی بعض غلط فہمیاں بھی تشخیص میں تاخیر کا سبب بنتی ہیں۔ ان میں ایک عام تصور یہ ہے کہ بایوپسی کے دوران سوئی لگنے سے گلٹی خراب ہو سکتی ہے یا سرطان پھیل سکتا ہے جس کے باعث خواتین اس ٹیسٹ سے گھبراتی ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ بایوپسی بیماری کی تشخیص کا ایک اہم طریقہ ہے اور سوئی لگنے سے کینسر پھیلنے کا خدشہ عموماً درست نہیں۔

مزید پڑھیں: پاکستان میں کینسر کے علاج میں اہم پیشرفت، کرن اور پی ای بی ایس کے درمیان مفاہمتی یادداشت پر دستخط

انہوں نے کہا کہ بعض خاندانوں میں طبی معائنے کے بجائے دم درود کو ترجیح دینے کا رجحان بھی پایا جاتا ہے۔ لوگ خواتین کو ڈاکٹر کے پاس لے جانے کے بجائے دم درود کے لیے لے جاتے ہیں جو ایک پختہ سماجی سوچ بن چکی ہے۔ ڈاکٹر سعیدہ کے مطابق اس سوچ کو فوری طور پر ختم کرنا ممکن نہیں تاہم آگاہی پیدا کرکے خواتین کو بروقت طبی معائنے کی طرف راغب کیا جا سکتا ہے۔

دور دراز علاقوں میں علاج کی سہولیات کا فقدان

ڈاکٹر سعیدہ یاسمین نے خواتین کو مشورہ دیا کہ وہ مہینے میں ایک بار اپنی چھاتی کا ذاتی معائنہ کریں اور کسی بھی غیر معمولی تبدیلی کی صورت میں ڈاکٹر سے رابطہ کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں چھاتی کے سرطان کی تشخیص اور علاج کے لیے دستیاب سہولیات ناکافی ہیں۔ ملک میں بریسٹ کینسر کے ماہرین کی تعداد بھی کم ہے جبکہ دور دراز علاقوں میں رہنے والی بہت سی خواتین کو نہ تو ڈاکٹر تک آسان رسائی حاصل ہے اور نہ ہی ایسے صحت مراکز یا بریسٹ کلینکس دستیاب ہیں جہاں وہ معائنہ اور علاج کروا سکیں۔

ڈاکٹر سعیدہ کہتی ہیں کہ سہولیات کی کمی کے باعث خواتین اکثر علاج میں تاخیر کرتی رہتی ہیں اور جب بیماری کافی آگے بڑھ چکی ہوتی ہے تو وہ اسپتال پہنچتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: بلیاں کینسر کے علاج کے لیے اہم سراغ فراہم کریں گی

ان کا کہنا تھا کہ بروقت تشخیص اور علاج کے لیے ضروری ہے کہ خواتین میں آگاہی بڑھائی جائے اور انہیں طبی سہولیات تک آسان رسائی فراہم کی جائے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

icon-facebook icon-twitter icon-whatsapp